کیاخط کے مجوزہ مسودہ سے سپریم کورٹ مطمئن ہوجائے گی؟

کیاخط کے مجوزہ مسودہ سے سپریم کورٹ مطمئن ہوجائے گی؟
کیاخط کے مجوزہ مسودہ سے سپریم کورٹ مطمئن ہوجائے گی؟

  



 وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے سوئس حکام کے نام مجوزہ خط کا مسودہ تیار کرکے ویزر اعظم راجہ پرویز اشرف کے حوالے کردیا ہے۔ یہ مسودہ آج سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ گزشتہ تاریخ سماعت پر 18 ستمبر کو وزیر اعظم کی طرف سے عدالت عظمیٰ کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ سوئس کورٹ میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کے لیے مشرف دورمیں اس وقت کے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کی طرف سے لکھا گیا خط واپس لے لیا جائے گا۔ این آر او کیس میں سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ سوئٹزر لینڈ سمیت دیگر ممالک میں کرپشن کے مقدمات 2007ءکی پوزیشن پر دوبارہ کھلوانے کے لئے متعلقہ حکام کو خطوط لکھے جائیں۔ اس عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر عدالت عظمیٰ نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے تحت سزا دے کر گھر بھیج دیا تھا۔

سوئٹزر لینڈ میں منی لانڈرنگ کیس میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو بھی ملزم تھیں جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں جبکہ صدر آصف علی رداری کو سربراہ مملکت ہونے کے ناطے پاکستانی آئین اور سوئس لاز کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق خط کا مسودہ اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اس خط کے باوجود آصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ ری اوپن نہیں ہوسکتا۔ یہ خط کچھ اس قسم کا ہوسکتا ہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے این آر او مجریہ 2007ءکو کالعدم کرکے اس کے تحت سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کی طرف سے لکھا گیا خط غیر آئینی قرار دے دیا ہے، اس لئے حکومت پاکستان ملک قیوم کی طرف سے لکھا گیا خط واپس لیتی ہے یا پھر اس سے اظہار لاتعلقی ظاہر کرتی ہے تاہم اس مقدمہ کے فریق آصف علی زرداری اب صدر مملکت ہیں اور انہیں مقدمات کے ٹرائل کے حوالے سے آئینی استثنیٰ حاصل ہے۔

ایسے خط کی روشنی میں کیا سوئس کورٹ میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ مکمل یا جزوی طور ”ری اوپن“ ہوسکتا ہے؟ ایسے خط پر مقدمہ ”ری اوپن“ ہونے کے امکانات معدوم ہیں۔ اس مقدمہ کو ری اوپن کروانے کے لئے حکومت پاکستان کو پورا مقدمہ لڑنا پڑے گا اور اس سلسلے میں ایک واضح خط لکھنا پڑے گا جس میں ”میوچل اسسٹنس“ کا سٹیٹس بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہو۔

کیا اس ایک خط سے این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے حکم کی منشاءپوری ہوجائے گی؟

2007ءمیں پاکستانی حکمرانوں کے خلاف برطانیہ اور سپین میں بھی کرپشن کے مقدمات زیر سماعت تھے جو جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ”مفاہمتی معاہدہ“ طے پاجانے کی بنیاد پر واپس لے لئے گئے تھے۔ ان میں سے سپین میں جو مقدمہ زیر سماعت تھا وہ عراق سے خوراک کے بدلے تیل خریدنے کے معاملہ میں بدعنوانی کے الزامات پر مبنی تھا اور یہ کارروائی اقوام متحدہ کی ایماءپر شروع کی گئی تھی جبکہ برطانیہ میں ”سرے محل کیس“ زیر سماعت تھا۔

سپریم کورٹ نے این آر او کیس میں اپنے فیصلہ کے پیرا گراف نمبر 178 میں حکم دیا تھا کہ بیرون ملک کرپشن کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم صرف سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق نہیں تھا۔ اب اگر حکومت صرف سوئس حکام کے نام ایک مبہم سا خط لکھ کر اس کا مسودہ منظوری کے لئے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کو پیش کرتی ہے تو اسے سپریم کورٹ کے حکم پر اس کی روح اور منشاءکے مطابق عمل درآمد کرنا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بظاہر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ کافی الجھا ہوا تنازع ہے جو ایک ہی پیشی پر ختم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 18 ستمبر کو واضح کردیا تھا کہ سپریم کورٹ کے این آر او کیس پر حکم پر من و عن عمل کروایا جائے گا۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ این آر او کیس کا فیصلہ فل کورٹ نے سنایا تھا جبکہ اس پر عمل درآمد کیس کی سماعت 5رکنی بنچ کررہا ہے جس کا دائرہ اختیار محدود ہے اس بنچ کا کام عدالتی حکم پر عمل کروانا ہے وہ فل کورٹ کے فیصلے کی تشریح نہیں کرسکتا۔

مزید : تجزیہ