پنجاب انتخابی پرویز الہٰی ،پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے مشترکہ کپتان ہونگے

پنجاب انتخابی پرویز الہٰی ،پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے مشترکہ کپتان ہونگے
پنجاب انتخابی پرویز الہٰی ،پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے مشترکہ کپتان ہونگے

  



پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) میں بڑھتی ہوئی قربتوں سے یوں لگ رہا ہے کہ پنجاب میں انتخابی معرکہ ”سر“ کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہے اور پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ کرکے اسے کارنر کرنے کے لئے آئندہ دنوں میں مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ انتخابی مہم کا ”کپتان“ چودھری پرویز الٰہی کو مقرر کردیا جائے گا، اگر ایسا ہوا تو پنجاب کا آئندہ نقشہ کیا ہوگا جس طریقے سے صدر مملکت آصف علی زرداری مسلم لیگ (ق) کے چودھری برادران پر نچھاور ہوتے نظر آتے ہیں، اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ صدر مملکت پنجاب کو آئندہ انتخابات کا میدان بنانے جارہے ہیں، وہ پنجاب میں اپنا اصل حریف مسلم لیگ (ن) کے میاں برادران کو سمجھتے ہیں اور صدر کے نزدیک بخت لاہور کے مقابلے کے لئے چودھری پرویز الٰہی سے موزوں کوئی شخص انہیں نظر نہیں آرہا، موجودہ صف بندی سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب کے معرکہ میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر مملکت آصف زرداری چودھری پرویز الٰہی کے کندھے پر بندوق رکھ کر نشانہ لگائیں گے جس کے لئے وہ دونوں جماعتوں کا مشترکہ کپتان ( پنجاب کی حد تک) چودھری پرویز الٰہی کو بنانے والے ہیں اگرچہ دونوں ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ کے لئے لازم وملزوم ہیں لیکن چودھری برادران بھی کچی گولیاں کھیلنے کے عادی نہیں۔ انہوں نے ایک تیر سے دو نشانے نہیں چار نشانے لگا لئے ہیں، ایک طرف وہ صدر مملکت کو سوئس حکام کو خط لکھنے کے لئے قائل کرکے صدر کے قریب تر ہوگئے ہیں تو دوسری طرف چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگر ججوں کی نظر میں بھی ان کی گڈ ویل میں اضافہ ہوا ہے، یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا، ان کی یہی حکمت عملی ہے جس کے تحت گجرات کے اندر اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف چودھری احمد مختار خاندان کو دو حصوں میں تقسیم کرانے کے بعد دونوں بھائیوں چودھری احمد سعید اور چودھری احمد مختار کو ایک دوسرے کے مد مقابل لاکھڑے کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ میں طے شدہ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولے کے تحت اگر گجرات میں چودھری احمد مختار اپنی سیٹ پر وہ دوبارہ کھڑے ہوں گے تو اس حلقے سے چودھری شجاعت حسین یا ان کا نامزد امیدوار بھی انتخاب لڑ سکے گا، صدر کی طرف سے اس حلقہ کو احمد مختار اور چودھری شجاعت حسین کے درمیان کھلا چھوڑا جائے گا۔ احمد مختار کے بھائی چودھری احمد سعید مسلم لیگ (ن) میں چلے گئے ہیں اور جب دو بھائی ایک دوسرے کے مد مقابل انتخاب لڑیں گے تو ظاہر ہے ووٹ دونوں میں تقسیم ہوجائیں گے اور آخر کار اور دیگر چودھری شجاعت حسین کے نام نکل سکتا ہے، آئندہ دونوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان قربتیں مزید بڑھیں گے اس کے نتیجے میں جہاں پیپلز پارٹی فوائد اٹھائے گی وہاں چودھری برادران بھی ثمرات سمیٹنے میں پیچھے نہیں رہیں گے۔ انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت سے ثابت کر دکھایا ہے کہ جو لوگ سابق صدر پرویز مشرف کی (ق) لیگ کی سرپرستی سے لاتعلق قرار دے رہے تھے، چودھری برادران نے ایسے حالات میں صدر آصف علی زرداری کی کمزوری بن کر ثابت کردیا ہے وہ کل بھی زندہ تھے آج بھی ہیں آئندہ بھی رہیں گے، ان حالات سے یوں لگ رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں ٹف ٹائم دیئے جانے کی تیاریاں ہوچکی ہیں، اس کے ”تانے بانے“ ہٹنے کے لئے آصف علی زرداری اور چودھری برادران ”کمر کس“ چکے ہیں اور پنجاب سیاسی میدان کا مرکز بنے گا جس کے کپتان سردار لطیف کھوسہ ہوں گے، نہ امتیاز صفدر وڑائچ اور نہ ہی جہانگیر بدر یا راجہ ریاض ہوں گے، بلکہ اس لڑائی میں سربراہی کا سہرا صرف اور صرف چودھری پرویز الٰہی کے سر پر سجے گا۔ اس نقشے کو درست مان لینا چاہئے تو پھر آئندہ پنجاب کے سیاسی منظر نامے مسلم لیگ (ن) تنہا نظر آتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار کھڑی پیپلز پارٹی اور ان کے کپتان کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کے مقابلے کے لئے یہ پنجاب کے خادم اعلیٰ اور ان کے روحانی سیاسی اور خاندانی تیاریاں نواز شریف بھی تین سال تک آصف علی زرداری سے میٹنگ میٹنگ اور بھائی بھائی کا کھیل کھیلتے کھیلتے ان کی چالوں سے بڑی حد تک آگاہی حاصل کرچکے ہیں اور انہوں نے بھی ”ڈنڈ بیٹھکیں“ لگانا شروع کردی ہیں اور اس جنگ میں وہ جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں سے اتحاد بھی کرسکتے ہیں لیکن مطلع آئندہ دنوں میں واضح ہوجائے گا۔

مزید : تجزیہ


loading...