پاسپورٹ سیکنڈل ،برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافی کے خلاف تحقیقات کا آغاز

پاسپورٹ سیکنڈل ،برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافی کے خلاف تحقیقات کا آغاز

  



لندن (مانیٹرنگ ڈیسک ) اولمپکس کھیوں سے قبل پاکستانی پاسپورٹ کا سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد متحرک ہونے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے برطانوی اخبار کے پاکستانی نژاد رپورٹر اسد علی کوکر چھوڑ کر ساتھی صحافی شاہنواز خان کی خلاف تحقیقات شروع کردی۔ پاکستان میں مبینہ جعلی پاسپورٹ بنانے کے عمل کے دوران شاہنواز خان کے پاکستانی ٹیلیفو ن نمبر 4043810 0331کی سم کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جو برطانوی صحافی سٹیفن اور اسد علی اپنے لاہور میں قیام کے دوران استعمال کرتے رہے۔ذرائع کے مطابق اِس سم کے ریکارڈ سے بھارت سمیت کئی غیر ملکی کالوں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا ہے۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے برطانیہ میں ممکنہ قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اسد علی اور برطانوی صحافی سٹیفن کے خلاف تحقیقات کی بجائے ا±نہیں ٹیلی فون کی سم کی سہولت فراہم کرنے والے پاکستانی صحافی شاہنواز خان کیخلاف تحقیقات شروع کردی۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ تحقیقات میں بعض اخبارات اور دیگر ذرائع سے اکٹھی کی جانے والی معلومات کے مطابق اِس سٹوری کا ماسٹر مائنڈ بھی سم فراہم کرنے والا برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافی شاہنواز خان تھا جس نے اِس سے قبل ایسی ہی ایک سٹوری ایک مشہور انگریزی جریدے میں شائع کی تھی لیکن ا±س خبر پر کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تھا تاہم اولمپکس کے موقع پر برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی سٹوری نے دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا تھا۔ دریں اثنائ صحافی شاہنواز کے والد ایم آر جان ایڈووکیٹ نے ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کے بارے میں وکلائ تنظیموں کے تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1