پنجاب کے تھانوں میں ایس ایچ اوز نے کرپشن کی انتہائی مچار رکھی ہے

پنجاب کے تھانوں میں ایس ایچ اوز نے کرپشن کی انتہائی مچار رکھی ہے

  



لاہور (لیاقت کھرل) ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب نے پنجاب بھر میں تعینات ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو کرپشن کی ”جڑ“ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ حجم کے اعتبار سے کمیونیکیشن اینڈ ورکس سب سے آگے ہے لیکن ان کی کرپشن عام شہری کو ایسے انداز سے متاثر نہیں کرتی جتنا تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز شہریوں کی جیبیں خالی کرتے ہیں۔ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ کو بھجوائی جانے والی ایک رپورٹ میں تبایا گیا ہے کہ محکمہ پولیس میں اصلاحات کے نام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ”تھانہ کلچر“ کے ماحول میں ذرا بھر بھی تبدیلی نہیں اور تھانوں میں ایس ایچ اوز نے کرپشن کی انتہا مچا رکھی ہے جہاں من پسند تعینات اور لوٹ مار کرنے میں کامیاب ہیں۔ وہاںکروڑوں روپے کے اثاثہ جات بنانے کے باوجود سیاسی اور دیگر اثر ورسوک رکھنے پر محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے کی جانے والی محکمانہ انکوائریوں سے بچ نکلتے ہیں۔ اور تھانوں کے سطح پر سپر وائزری کیلئے ڈی ایس پی عہدہ کے افسروں کی تعیناتی سے بھی کرپشن میں کمی نہیں آئی ہے اور ڈی ایس پیز کی ایک بڑی تعداد بھی ایس ایچ او کے ساتھ کرپشن اور لوٹ مار میں برابر کے شریک ہیں۔ ”روزنامہ پاکستان“ کو ذرائع نے بتایا ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب عابد جاوید نے جو رپورٹ تیار کی ہے اس میں بتایا گیا کہ کرپشن حجم کے اعتبار سے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) کے محکمہ میں سب سے زیادہ کرپشن ہے۔ تاہم محکمہ پولیس دوسرے نمبر پر اور محکمہ پولیس کے ہاتھوں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہے ۔ جس میں پولیس کے تھانیداروں پر کروڑوں کے پلاٹوں اور اراضی پر قبضہ کروانے کے الزامات بھی زیادہ سامنے آئے ہیں۔ جس میں محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران ہاتھ چشم پوشی سے اور ان کے ہاتھ کرپشن میں ملوث ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز اس حد تک طاقتور ہیں کہ انک ے خلاف ہونے والی محکمانہ انکوائریاں اور تحقیقات بھی بے سود ثابت ہوئی ہیں اور ہر ایس ایچ او کہ ڈی ایس پی کے پیچھے ہاتھ کوئی سیاسی ہاتھ یا پھر اس حد تک اثر ورسوخ ہوتا ہے کہ احتساب کی کمزوری کے باعث طاقتور بن چکے ہیں جبکہ اس میں محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسروں کو اپنے طور پر ایک مانیٹرنگ کے شعبہ کو مزید موثن بنانے کی ضرورت ہے جبکہ تیسرے نمبر پر تعلیم کے شعبہ میں کرپشن زیادہ ہے ۔ اس امر کا اظہار انہوں نے سالانہ رپورت میں بتایا جس میں تعلیمی اداروں کو چلانے والے افسران کی مانیٹرنگ نہ ہونے کے برابر ہے اور اس میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران پر مشتمل مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دینے کی ضرورت ہے وگرنہ کرپشن کی شرح میں کئی گناہ اضافہ اور کرپشن کے مقابلہ میں احتساب کا عمل بے سود اور بے اثر ثابت ہوگا۔ اس حوالے سے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب محمد عابد جاوید نے ”پاکستان“ کو بتایا کہ کرپشن کی روک تھام کیلئے محکموں کے اعلیٰ افسروں کو کردار ادا کرنا ہوگا اور بالخصوص محکمہ پولیس میں نچلی سطح پر کرپشن کی روک تھام کرنے کی ضرورت ہے ۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...