نشہ پلا کر گرانا، لاہور میں 20 قسم کی” موت“ سرعام فروخت ہونے لگی

نشہ پلا کر گرانا، لاہور میں 20 قسم کی” موت“ سرعام فروخت ہونے لگی

  



لاہور (میاں رﺅف/ کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں منشیات فروشی ،منشیات نوشی نہ صرف عروج پر ہے بلکہ پولیس کی سرپرستی میں منشیات فروشی کے ایسے اڈے قائم ہیں جہاں پر قانون کو بھی "پر "مارنے کی اجازت نہیں ہے ،بڑے بڑے پوش ایریا سے پرانے محلوں تک منشیات فروشی عام ہے اور منشیات فروش گلیوں میں عام دیکھے جاسکتے ہیں ۔منشیات فروشی کا سماجی جرم جس تیزی سے بڑھ رہا ہے اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ پولیس کی عنایت اور سرپرستی کے بغیر ممکن ہی نہیں ،بوٹی ،بھنگ سے شروع ہونے والا نشہ کی تان شیشے جیسے جدید ترین منشیات نوشی پر آ کر ٹوٹتی ہے اس بدترین سماجی بحران میں شدت کا ایک ٹیکہ یہ لگا ہے کہ خواتین و طالبعلم کی ایک بڑھی تعداد اس لعنت کا شکار ہو چکی ہے ۔روزنامہ "پاکستان "کے ایک خصوصی سروے کے دوران دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کے "دل "شہر لاہور میں اس وقت 20سے زائد نشہ کا اقسام روز بروز بڑھ رہی ہیں اور سرعام منشیات نوشی کی جانے کی اصل وجہ پولیس کی ہٹ دھرمی یا پھر پولیس کی کمائی کا منہ بولتا ثبوت ظاہر ہوتا ہے ،صوبائی دارالحکومت میں غریب طبقہ سے لے کر امیر زادے ،زادیاں جس میں زیر تعلیم طبقہ بھی شامل ہے جو نشہ کے نہ صرف عادی بن چکے ہیں بلکہ نشہ کرنا ایک "فیشن"کی شکل اختیار کر چکا ہے ،بوٹی ، بھنگ ،ہیرون ، چرس، صمد بونڈ، انجکشن ، کوریکس، ٹینو شربت ، کوکین، شراب، پٹرول ، نشہ آور 81گولیاں ، نشہ آور پکوڑے ، بھنگی پاپڑ ، افیون، گانجا ، گٹکا، یہ منشیات کی اقسام مین چوراہوں کے علاوہ رائل پارک، قبرستانوں ، مزاروں ، تفریحی پارکوں ، مینار پاکستان ،دریائے راوی کے کنارے ،چوبرجی چوک، ریس کورس، شالیمار پارک، گلشن پارک، جناح باغ ، مقبرہ جہانگیر، بھاٹی گیٹ ،بادشاہی مسجد کے عقب سمیت شہر کے بے شمارعلاقوں، گلیوں، خالی پلاٹوں ، زیر تعمیر مکانوں، گندے نالوں پر منشیات نوش کھلے عام نشہ کرتے نظر آتے ہیں ،علاوہ ازیں شہر کے پوش علاقوں خصوصاً ڈیفنس، جوہرٹاﺅن ، گلبرک، ماڈل ٹاﺅن، اقبال ٹاﺅن میں "پارٹی فنکشن "کے نام شراب نوشی ، چرس ، کوکین، افہیم اور شیشہ کے نشے کیے جاتے ہیں۔نشئی افراد اپنے نشہ میں اس قدر مگن ہوتے ہیں کہ انہیں اردگرد کے ماحول کا کچھ علم نہیں ہوتا ،شہر میں کئی واقعات جان لیوا بھی رونما ہوچکے ہیں جس میں نشہ کے عادی دوسرے نشئی کو نشہ نہ ملنے پر یا نشہ کی برابری کی تقسیم نہ کرنے پر قتل بھی ہو چکے ہیںکئی "ویلے "نشئی افراد جن کی بے بس بیویاں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتے ہیں "نشئی مجازی خداﺅں "کا نشہ پورا کرنے کے لیے رقم مہیا کرتی ہیں ۔کئی نشئی افراد نشہ کے لیے خرچہ نہ ملنے پر اپنی ماں ، باپ، بھائی ، بہنوں اور بیویوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں ،جیلیں بھی ایسے قاتل منشیات نوشوں سے بھری پڑی ہیںاور یہ جیلوں میں بھی نشہ نہ ملنے پر اکثر جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ نشئی افراد اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے محلہ کے باہر کھڑی گاڑیوں ، موٹرسائیکلوں کے شیشے یا پھر ویل کپ ،چھوٹے بڑھے سپئیر پارٹس ، گلیوں کے گڑوں کے ڈھکن اور سرکاری ٹیوپ لائٹس بھی چوری کر لیتے ہیں ۔جیلوں میں بھی منشیات فروشوں یا نشئیوں کی چکیاں بلاک دوسرے قیدیوں یا حوالاتیوں سے علیحدہ ہوتے ہیں تاکہ ان نشئیوں کی عادتیں دوسرے قیدی یا حوالاتی تک منتقل نہ ہو سکے ۔ جیل بھی ایک منشیات فروشی یا نوشی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ، بڑھے بڑھے مگرمچھ منشیات فروش جیلوں میں بھی جاری و ساری رکھتے ہیں ،منشیات فروشی کے اس کاروبار میں جیل افسران و اہلکار بھی حصہ دار ہوتے ہیں جیل کے اندر منشیات کا پہنچنا جیل آفیسر یا اہلکار کے بغیر پہنچنا نا ممکن ہوتا ہے، پوش علاقوں میں آج کل جدید نشہ جس کا نام شیشہ ہے یہ پرانے وقتوں میں استعمال کیا جانے والا"حقہ"ہے جس میں تمباکو کی بجائے مختلف ذائقوں کے تمباکو بنا کر اس حقے کو جدید شکل دے دی گئی ہے یہ نشہ "کوالیفائیڈ"جس میں سکول ،کالج اور یونیورسٹی کے طلباو طالبات اسے فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں ،بڑے بڑے ہوٹلوں ،کیفوں پر یہ عام ملتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...