پاکستان میں القاعدہ کے اصل مرکز کو ڈرون حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے

پاکستان میں القاعدہ کے اصل مرکز کو ڈرون حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے

  



واشنگٹن(اظہر زمان‘ بیورو چیف) القاعدہ افریقی شاخ جو ماضی میں سب سے کمزور سمجھی جاتی تھی اب شمالی اور مغربی افریقہ میں بہت زور پکڑتی جارہی ہے۔ یہ تاثر امریکی مبصر بروس ریڈل کا ہے جس کا اظہار انہوں نے یہاں ایک معتبر تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں گزشتہ روز اپنے پیش کردہ تازہ مقالے میں کیاہے۔ وہ اس ادارے سے اس وقت سینئر فیلو کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔ بروس ریڈ کی مڈل ایسٹ میں سی آئی اے کے سربراہ بھی رہے ہیں اور گزشتہ چار امریکی صدور کے ساتھ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے امور کے بارے میں سینئر ایڈوائزر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق ”القاعدہ ان اسلامک مغرب“ یا ”اقم“ کی تخفیف سے معروف اس تنظیم کا بن غازی کے امریکی قونصلیٹ پر حملے میں صحیح کردار ابھی واضح نہیں ہے لیکن انتہا پسندوں کی انڈر ورلڈ میں یہ تاثر بن چکا ہے کہ یہ امریکی سفیر کی انتقامی ہلاکت میں ملوث تھی۔ 1990ءکے عشرے میں الجزائر کے انتہا پسندوں کے بچے کچھے افراد نے کوئی پانچ سال قبل اقم کی بنیاد رکھی تھی۔ الجزائزر میں اس تنظیم کا اس وقت بہت چرچا ہوا تھا جب اس نے اقوام متحدہ کی ایک عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا تھا تاہم اس کے بعد اس تنظیم کی حیثیت کمزور ہوگئی۔ اقم کا تیونس میں عرب سپرنگ کے عروج میں کوئی کردار نہیں تھا تاہم یہ لیبیا اور مالی میں عوامی تحریکوں کی پشت پناہی کرتی رہی ہے۔ بروس ریڈل نے مغربی انٹیلی جنس اداروں کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ مالی انتہا پسند اسی طرح تربیتی کیمپ قائم کر رہے ہیں جس طرح وہ پہلے افغانستان اور پاکستان میں تشکیل دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مالی میں دہشت گردوں کا ارتکاز آئندہ کسی عشروں میں شمالی افریقہ کے استحکام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ امریکی مبصر کے مطابق پاکستان میں قائم القاعدہ کے اصل مرکز کو گزشتہ چار سال کے دوران ڈرون حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے لیکن عرب دنیا میں امن وامان کی صورتحال ابتر ہونے کی بنا پر وہاں انتہا پسندوں کو جو مواقع ملے ہیں ان کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ القاعدہ اپنا مرکز کمزور ہونے کے باوجود پوری اسلامی دنیا میں تشدد ابھارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بروس ریڈل کی تحقیق کے مطابق 1990ءکے عشرے سے لیکر اب تک القاعدہ کے ذیلی تحریکوں کے ساتھ روابط قائم ہیں۔ پاکستان میں القاعدہ کی مرکزی قیادت میں لیبیا کی شاخ کے افراد بھی شامل ہیں جن کا اپنے اصل ملک سے رابطہ قائم ہے۔ ان میں خاص طور پر ابو یحییٰ اللیبی شامل ہے۔ القاعدہ کا یہ سینئر آپرٹیو اس موسم گرما میں پاکستان میں ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ القاعدہ کے موجودہ مصری نژاد سربراہ ایمن الظواہری نے نائن الیون کی برسی کے موقع پر اس کی تعریف کرتے ہوئے القاعدہ کے ارکان کو اس کی موت کا بدلہ لینے کی تلقین کی تھی۔ بروس ریڈل نے یقین ظاہر کیا ہے کہ بن غازی کے قونصلیٹ پر حملہ اسی بدلے کا اظہار تھا۔ اب تو ”رقم“ نے باقاعدہ بیان جاری کرکے امریکی سفیر کی ہلاکت کو ”قدرت کا تحفہ “ قرار دیا ہے اوراپنے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ اللیبی‘ اسامہ اور دوسرے القاعدہ کے ہلاک ہونے والے رہنماﺅں کا بدلہ لینے کیلئے شمالی اور مغربی افریقہ میں امریکی تنصیبات پر حملوں کیلئے تیار ہوجائیں۔

مزید : صفحہ اول