موجودہ سیاستدانوں سے سیاست چھین لی جائے تو ڈھونڈنے سے بھی انہیں نوکر ی نہیں ملے گی:عمران خان

موجودہ سیاستدانوں سے سیاست چھین لی جائے تو ڈھونڈنے سے بھی انہیں نوکر ی نہیں ...
موجودہ سیاستدانوں سے سیاست چھین لی جائے تو ڈھونڈنے سے بھی انہیں نوکر ی نہیں ملے گی:عمران خان

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی صحت اور تعلیم کی ابتر صورتحال کی ذمہ دار ملک کی وہ اشرافیہ ہے جو خود کو عوامی مسائل سے لاتعلق کر چکی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی فلسفہ سماجی اور معاشی انصاف پر مبنی ہے ۔تعلیم اور صحت کے شعبے کسی قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے ساتھ چلنا کوئی آپشن نہیں۔ ہماری پارٹی کی اعلیٰ قیادت پیشہ ورانہ مہارت کی حامل ہے۔ پاکستانی اشرافیہ کے بےرون ملک علاج پر اخراجات ملک کے صحت کےلئے مختص مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے ۔ اسی طرح بیرون ملک تعلیم کے حصول پر خرچ کی جانے والی رقم پاکستان کے تعلیمی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی کی ہےلتھ پالیسی کے اعلان کے موقع پر اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا میں نے حکومتی امداد کے بغیر عوام کی مدد سے ان دونوں شعبوں مےں بالترتیب شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا۔ ہم اقتدار میں آکر صحت کا بجٹ 0.8فیصد سے بڑھا کر 2.6فیصد کر دینگے اور اس شعبے کی انتظامی ذمہ داری یونین کونسل سطح پر منتقل کرینگے۔ پاکستان میں پالیسیاں بنتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہےں ہوتا، قانون کی حکمرانی کے بغےر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ عمران خان نے کہا کہ پالیسیوں کے نفاذ کے لئے عزم اورحوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو تحریک انصاف کے علاوہ کسی جماعت کے پاس نہیں۔ میرے تین خواب پورے ہو چکے ¾ ایک رہتا ہے جو جلد پورا ہو جائے گا۔ کمزور کو تحفظ کے لئے قانون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری جیلوں میں پچاس فیصد لوگ بے قصور ہیں جن کا جرم صرف غربت ہے۔ ملک میں قانون موجود ہے مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ موجودہ سیاستدانوں سے سیاست چھین لی جائے تو ڈھونڈنے سے بھی انہیں نوکری نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اشرافیہ بیرون ملک علاج پر کثیر پیسہ خرچ کرتی ہے اور ذرا سی تکلیف پر لندن بھاگ جاتی ہے۔ جبکہ پاکستان کے 50 فیصد لوگ خوراک کی کمی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔ پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ عورتیں زچگی کے دوران مر جاتی ہیں۔ پاکستان کا موجودہ صحت کا نظام دیگر نظاموں کی طرح چھوٹے سے طبقے کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مداخلت اور میرٹ کی خلاف ورزیاں اداروں کی تباہی کا سبب ہیں۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کی ترقی کا راز یہ ہے کہ میں خود بھی اس ہسپتال کے رولز میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ جب سے کینسر ہسپتال بنایا ہے صرف ایک شخص کی سفارش کی لیکن شوکت خانم ہسپتال کے بورڈ نے میری سفارش رد کر دی۔ نوازشریف جو اس وقت کے وزیر اعظم تھے انہوں نے پچاس کروڑ روپے ہسپتال کو دینے کا اعلان کیا جو آج تک نہیں ملے۔ قبل ازیں تحریک انصاف کے مرکزی نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری حکمت عملی عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ہے۔ عوامی قوت سے سیاسی ٹھیکیداروں کو شکست دینگے۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ ہےلتھ پالیسی طبقاتی بنیادوں پر قائم ہے۔

مزید : صفحہ اول