11ارکان نااہل ہوگئے،رحمان ملک کیخلاف کارروائی جاری ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن

11ارکان نااہل ہوگئے،رحمان ملک کیخلاف کارروائی جاری ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن

  



اسلام آباد(آن لائن) سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں 11 اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دیا ہے اور رحمن ملک سمیت 12 اراکین کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے رحمان ملک ابھی سینیٹ کے ممبر اور وزیر داخلہ ہیں نااہل نہیں کیا گیا ۔ 27 ستمبر کو سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں انتخابات کی تیاری بارے بتائیں گے اور نئی تجاویز بھی لی جائینگی ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اشتیاق احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر نے کی اور اس میں چاروں ممبران موجود تھے ۔ الیکشن کمیشن نے سینیٹ ، قومی اسمبلی اور پنجاب اور سندھ کے بارہ ارکان کیخلاف غلط کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے غلط معلومات فراہم کرنے پر قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ ان ارکان پر عوامی نمائندگی 1976ءکے سیکشن 78 کے تحت کارروائی کی جائے اور پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 82,193,196,197,198 اور 199 کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کی جائے ان ارکان میں سینیٹر اے رحمن ملک رکن قومی اسمبلی چودھری زاہد اقبال ، فرح ناز اصفہانی ، فرحت محمد خان ، محمد جمیل ملک اور پنجاب اسمبلی کے ارکان محمد اخلاق محمد اشرف چوہان ، وسیم قادر چوہان ، ، ندیم خادم ، امنہبٹر، نادیہ گبول اور ڈاکٹر احمد علی شاہ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 13سی کے تحت پاکستان کا کوئی بھی شہری اپنی شہریت ترک کردے یا کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرلے وہ نہ صرف انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا بلکہ اگر ممبر ہے تو نااہل ہو جاتا ہے انہوں نے کہا کہ 1973ءسے شق پر عمل نہیں ہوا تھا اور دو سال قبل میڈیا اور سول سوسائٹی نے یہ معاملہ اٹھایا جس پر الیکشن کمیشن نے کارروائی شروع کی ہوئی ہے اور آئندہ کے لیے دہری شہریت والوں کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا انہوں نے کہا کہ موجودہ ممبران بارے الیکشن کمیشن نے سینیٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے سیکرٹریوں سے کوائف مانگے لیکن ہمیں کوئی معلومات نہیں دی گئیں اور آج کمیشن نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں گیارہ ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دیا گیا ہے اور جن بارہ ممبران نے دہری شہریت نہ ہونے بارے کہا تھا ان کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی درخواست متعلقہ سیشن ججوں کو بھیجی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک کا کیس سپریم کورٹ نے چیئرمین سینیٹ کو کارروائی کے لیے بھیج دیا ہے اگر یہ کیس ہمارے پاس آیا تو ہم کارروائی کرینگے انہیں نااہل نہیں کیا گیا وہ ابھی سینیٹ کے ممبر اور وزیر داخلہ ہیں تاہم جن بارہ ارکان کیخلاف کارروائی ہوگی ان میں رحمان ملک شامل ہیں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پارلیمینٹ کے تمام ممبران سے نیا حلف لینے کی ہدایت کی ہے جس کی روشنی میں تمام سیکرٹریز کو دوبارہ خط لکھ دیا ہے سیکرٹری نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 27 ستمبر کو تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا ہوا ہے اور ہم انہیں اپنی تیاری سے آگا کرینگے اور ان سے تجاویز بھی لینگے ایک سوال پر کہا کہ رحمان ملک نے 2008ءمیں جو حلف دیا تھا اس پر کارروائی ہورہی ہے اور 2012ءمیں انہوں نے استعفیٰ دے کر دوبارہ الکیشن لڑا ہے اس وقت ان کے پاس دہری شہریت نہیں تھی اس لیے وہ نااہل نہیں ہوئے تاہم اگر چیئرمین سینیٹ یا سشن جج کی جانب سے انہیں سزا ملتی ہے تو پھر وہ نااہل ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ جعلی حلف نامے کی سزا تین سال قید اور پانچ ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہیں اور اس پر اراکین اپیل کرسکتے ہیں سزا برقرار رہنے پر پانچ سال کے لیے نااہل ہوں گے۔

مزید : صفحہ اول


loading...