سوئس حکام کو لکھے جانیوالے خط کا مسودہ پیش، سماعت کل تک ملتوی، کچھ چیزیں سامنے آئی ہیں جس کیلئے وفاقی وزیرنے وقت مانگا: سپریم کورٹ

سوئس حکام کو لکھے جانیوالے خط کا مسودہ پیش، سماعت کل تک ملتوی، کچھ چیزیں ...
سوئس حکام کو لکھے جانیوالے خط کا مسودہ پیش، سماعت کل تک ملتوی، کچھ چیزیں سامنے آئی ہیں جس کیلئے وفاقی وزیرنے وقت مانگا: سپریم کورٹ

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے این آر اوکیس کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے سوئس حکام کو لکھنے جانیوالے خط کا مسودہ سپریم کورٹ میں پیش کردیاگیاجس کاجائزہ لینے کے بعد کچھ غلطیوں کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد وفاقی وزیر قانون نے مشاورت کے لیے عدالت سے مزیدمہلت کی درخواست کی جسے منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کل تک سماعت ملتوی کردی ۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیرقانون سے کہاکہ آپ کو آج وزیراعظم کی طرف سے ملنے والا تحریری اختیار نامہ اور خط کا ڈرافٹ پیش کرناتھا جس پر فاروق ایچ نائیک نے مسودہ پیش کردیا۔ مسودے کاجائزہ لینے کے لیے سماعت پندرہ منٹ کے لیے ملتوی کردی گئی اور کچھ دیر بعد عدالتی معاون کے ذریعے وزیرقانون فاروق ایچ نائیک کو چیمبر میں طلب کرلیاگیا۔فاروق ایچ نائیک اور رینٹل پاور کیس میں وزیراعظم کے وکیل وسیم سجاد چیمبر میں پہنچ گئے جہاں آدھے گھنٹے سے زائد مشاورت جاری رہی۔ ایک گھنٹے کی مشاورت کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وزیرقانون نے کل تک سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کردی جسے منظورکرتے ہوئے عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں کہاکہ وزیراعظم نے گذشتہ سماعت پر خط کا ڈرافٹ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور ڈرافٹ دیکھ لیاگیاہے جس کے متن میں کچھ چیزیں سامنے آئی ہیں ۔

عدالت کے اعتراض پر وزیرقانون نے کہاکہ وہ فیصلے کی روح کے مطابق مسودے میں ترمیم کے لیے بھی تیار ہیں ۔سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے لکھے گئے اور موجودہ حکومت کی طرف سے لکھے جانیوالے خط میں ریفرنس نمبر کا فرق ہے۔ وزیرقانون نے خط پر اُٹھنے والے معاملات کی حکومت سے مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے اور سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

مزید : اسلام آباد


loading...