بچت پروگرام ۔۔۔برطانیہ اور کینیڈا مشترکہ سفارتی دفاتر استعمال کریں گے

بچت پروگرام ۔۔۔برطانیہ اور کینیڈا مشترکہ سفارتی دفاتر استعمال کریں گے
بچت پروگرام ۔۔۔برطانیہ اور کینیڈا مشترکہ سفارتی دفاتر استعمال کریں گے

  



 لندن (بیورورپورٹ)برطانیہ اور کینیڈا بیرون ملک مشترکہ سفارتی مشنز قائم اور ایک دوسرے کے سفارتی دفاتر استعمال کریں گے ، اس بات کا اعلان برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ پیر کو کرنے والے ہیں۔ برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ انتظامات ایسے ممالک میں کئے جائیں گے جہاں دونوں ممالک میں سے کسی ایک کا سفارتخانہ موجود نہیں ہے جہاں برطانیہ اور کینیڈا اپنی قونصلر خدمات شیئر کریں گے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس سمجھوتہ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ایک دوسرے کے سفارتخانوں کا استعمال بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کی مزید تفصیلات ایک پریس کانفرنس میں جاری کرنے سے قبل ہیگ اور ان کے کینیڈا کے ہم منصب جان بیرڈ آٹوا میں ایک معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔اجلاس سے قبل ہیگ نے کہا کہ جیسا کہ وزیراعظم نے گزشتہ سال کینیڈا کی پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ ہم دو ممالک لیکن ایک ملکہ کے ماتحت ہیں، اقدار کے حوالے سے متحد ہیں۔ہم گزشتہ صدی کی عظیم جنگوں سے لیکر افغانستان میں دہشتگردی کیخلاف جنگ اور لیبیا اور شام جیسے ممالک میں عرب تبدیلی کی تحریکوں کی حمایت کے ساتھ ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے ہیں ،ہم فرسٹ کزن ہیں لہذا یہ فطری ہے کہ ہم ایسی جگہوں پر جہاں دونوں ممالک کیلئے مناسب ہے، کینیڈا کے ساتھ اپنے سفارتخانوں کو منسلک کر دیں۔اس سے بیرون ملک ہمارے کاروباروں اور لوگوں کو کم لاگت سے زیادہ بہتر رسائی میسر آئے گی ملکہ الزبتھ دوئم کینیڈا ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت دولت مشترکہ کے دیگر 12 ممالک اور بذات خود برطانیہ کی سربراہ مملکت ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...