مشرف کی کتا ب سرکاری فنڈ سے بیچی گئی ،قائمہ کمیٹی نے تفصیل طلب کرلی

مشرف کی کتا ب سرکاری فنڈ سے بیچی گئی ،قائمہ کمیٹی نے تفصیل طلب کرلی
مشرف کی کتا ب سرکاری فنڈ سے بیچی گئی ،قائمہ کمیٹی نے تفصیل طلب کرلی

  



 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی نے وزارت قومی ورثہ سے سابق صدر مشرف کے 2006 ءمیں دورہ امریکہ کے دوران ثقافتی طائف پر خرچ کیے جانے والے پونے تین کروڑ روپے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ 1999ءمیں ٹیکسلا میوزیم سے چوری ہونے والے نوادرات کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے آئی جی پنجاب کو خط لکھنے کی ہدایت کی ہے۔کمیٹی کا چیئر مین اجلاس ندیم افضل چن کی صدارت میں ہو ا جس میںان کا کہناتھا کہ اطلاعات کے مطابق یہ رقم سابق صدر کی کتاب فروخت کرنے پر خرچ ہوئی اور اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوا تو پرویز مشرف سے بھی ریکوری کی جائے گی۔ کمیٹی نے وزارت قومی ورثہ کے فنڈز سے ایک کروڑ روپے راولپنڈی گالف کلب کو دیئے جانے کی رپورٹ ایک ماہ میں طلب کر نے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کلب کے سوئمنگ پول پر خرچ کیے جانے والے تین کروڑ روپے کی وضاحت بھی طلب کرلی ہے۔آڈٹ حکام کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1999ءمیں ٹیکسلا میوزیم سے چوری ہونے والے 61 نوادرات نہ تو برآمد کروائے جاسکے اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی فضل داد کاکٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ انٹر پول اور ایف آئی اے کو نوادرات کی چوری سے آگاہ کر نے کے علاوہ ڈیوتی پر تعینات پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی تاہم جولا ئی 2010ءمیں عدالت نے انہیں بری کر دیا۔ اجلاس میں سیکرٹر ی داخلہ کی عدم شرکت پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ معاملہ استحقاق کمیٹی کو بجھوانے سمیت وزیر اعظم کو بھی خط لکھا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری نجیب اللہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سیکرٹری داخلہ بیرون ملک دورے پر ہیں جس پر کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ کے دورہ کا تحریری شیڈول طلب کیا اور کہاکہ وزارت داخلہ کی جانب سے اکثر جھوٹ بولا جاتا ہے اور ذبانی بات پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل چن کاکہناتھاکہ وزارت داخلہ کا ستارہ پہلے ہی گردش میں ہے وہ اس میں مزید حصہ نہیں ڈالنا چاہتے۔

مزید : اسلام آباد