جرگے پر قانون سازی ہونی چاہیے

جرگے پر قانون سازی ہونی چاہیے
جرگے پر قانون سازی ہونی چاہیے

  



                                                            جر گے کا ارتقا ءسب سے پہلے آج سے کئی صد یا ں قبل ایک قبیلہ آریا ن سے ہو ا ۔اس قبیلے کا چیف اور کئی امر اءمل بیٹھ کر قبیلے کے مسائل حل کر تے تھے ۔ یہاں تک کہ اس قبیلے کے چیف کا انتخا ب بھی جر گے کے ذریعے ہو تا تھا ۔ اس سے پہلے یہ قبیلہ افغانستا ن سے انڈیا کی طرف ہجر ت کرتا، جرگے کا وائرس وہاں موجود کئی پشتون قبائل میں بھی سرایت کر چکا تھا ۔ اس وقت چونکہ مو جو دہ عدالتی نظام وجود نہیں رکھتا تھا اوراس خطے میں قاضی عدالت کا رواج بھی نہیں تھا، اس لئے مسائل کو حل کر نے کے لئے ان قبائل میں جرگے کا انعقا د اور مقبو لیت بڑھتی گئی ۔ بلو چو ں اور پشتونو ں میں جہا ں بہت سی اقدار اور عاد ا ت مشتر ک ہیں، ان میں جر گہ بھی شامل ہے ۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پشتو میں جر گے کو معر کہ کہا جاتا ہے اور یہ لفظ معر کہ بلوچی اور سرائیکی زبان میں بھی کثر ت سے بو لا جاتا ہے، جس کے معنی چند معز ز لو گو ں کے گروپ کے ہیں ۔ ماضی میں چند مشہور جر گے ہو ئے جن میں تاریخی فیصلے کئے گئے۔

ان تاریخی جرگو ں میں ایک جر گہ 1941ءمیں افغانستان کے اس وقت کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ کی طر ف سے بلا یاگیا اور اس میں تاریخی فیصلہ کیا گیا کہ افغا نستا ن دوسر ی جنگ عظیم میں غیر جانبد ار کر دار ادا کر ے گا ۔ اس جر گے کے فیصلے سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ افغا نستان پر ہمیشہ جنگ مسلط کی گئی ہے نہ کہ افغا نستان صر ف جنگو ں کا شو قین ملک ہے ۔ دوسر اتاریخی جر گہ 1947ءکو ہو ا، جب کچھ پختو ن قبائل نے پاکستان میں شمو لیت کا فیصلہ کیا۔ تیسر ا مشہور جر گہ افغا نستان میں 1986ئمیں بلا یا گیا، جس کا مقصد افغانستان کا مشتر کہ آئین بنا نا تھا اور اس میں افغا نستا ن کے تقر یبا تما م قبائل نے شائد آخر ی بار شر کت کی تھی ۔ 2006ءمیں افغا نستا ن میں ایک اور جرگہ ہو ا، جس کا مقصد افغانستا ن کے مسائل کا پُر امن اور پائید ار حل ڈھو نڈنا تھا ۔ اس جر گے میں حامد کر زئی اور پاکستان کے سا بق صد ر جنر ل پر ویز مشر ف کی مو جو د گی اس جر گے کی اہمیت کو واضح کر تی ہے ۔

خیر یہ تو تھی تاریخی جر گو ں کی بات ۔ آج جر گہ نہ صرف افغانستا ن میں مو جو د ہے، بلکہ پاکستان کے صو بے خیبر پختو انخو ا ، بلو چستا ن اور پنجا ب میں بھی جرگہ کا عمل ہو تا ہے۔ آج سے چند سا ل پہلے 2004ءسندھ ہائی کو رٹ نے سند ھ بھر میں جر گے کے عمل پر پابند ی عائد کر دی ،لیکن شاید جر گہ اب بھی ہو تا ہے ،چاہے اس کا نام کچھ بھی ہو۔ خیبر پختو انخو اور فاٹا میں جر گہ آج بھی اتنا مقبول ہے، جتنا صد یا ں پہلے تھا ۔ پچھلی صد ی سے فاٹا میں چو نکہ ایک خصوصی قا نو ن فاٹا کر یمنل ریگو لیشن مو جو د ہے، جس میں جر گے کے فیصلے کو اہمیت دی گئی ہے ،لیکن سابق صدرپاکستان آصف علی زرداری (صدر پاکستان فاٹا کا چیف ایگز یکٹو بھی ہو تاہے) نے فاٹا کر یمنل ریگولیشن میں تر میم کر دی، جس سے ان فیصلو ں کے خلا ف ہائی کو رٹ میںاپیل کا حق حاصل ہو گیا۔ یہ آئینی ماہر ین کی نظر میں ایک اچھی پیشرفت ہے ،تاکہ اگرکو ئی غلط فیصلہ ہوبھی جاتاہے تو اسے ہائی کورٹ میں Set aside کیا جاسکے۔

اس کے علا وہ پنجا ب میں آج بھی خصو صاً وہ اضلا ع جو خیبر پختو انخو ا اور بلو چستا ن سے متصل ہیں اور وہا ں کی آبادی کئی قبائل پر مشتمل ہے، میں جر گہ عمل میں لا یا جاتا ہے ان قبائل میں لغا ری ،کھو سہ ،قیصر انی ،کھیتر ان ،بزدار، نتکا نی اور کئی دوسر ے بلو چ قبائل اپنے مسائل جر گے کے ذریعے حل کر تے ہیں ، جبکہ بلو چستان میں بھی جر گہ مری، بگٹی، مینگل اور بھی کئی دوسر ے قبائل اپنے مسائل حل کرنے کے لئے جر گہ عمل میں لا تے ہیں ۔ یہ قبائل جرگے سے نہ صر ف ایک عدالت کاکا م لیتے ہیں،بلکہ اپنی قبائلی مضبو طی اور طاقت کے اظہار یا کسی خاص مسئلے پر رائے زنی اور فیصلہ سازی کے لئے بھی جر گہ بلاتے ہیں ۔ بدقسمتی سے اب کچھ عر صے سے جر گو ں کے کچھ ایسے فیصلے آنا شر وع ہو گئے ہیں جو نہ صر ف جر گے کے عمل کو بد نام کر رہے ہیں اور انسا نی بنیا دی حقو ق کی بھی خلا ف ورزی ثابت ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے جر گے کے نظام پر بہت تنقید کی جا رہی ہے ۔

 خاص طور پر غیر ت اور عز ت کے معاملا ت پر جر گے کے فیصلے بہت ہی سخت حیر ان کن ،نا قا بل یقین اور ناقا بل بیان حد تک جہا لت کا منہ بو لتا ثبو ت نظر آتے ہیں۔ اب چند دن پہلے ڈیر ہ غازیخا ن کے قبائلی علا قے میں ہو نے والے ایک جر گے میں کچھ اس طر ح کے عقل اور منطق سے عاری فیصلے کئے گئے ہیں جو انسا نی ،آئینی اور اخلا قی اقدار کے منا فی ہیں ،جس کے نتیجے میں جر گے میں شامل افراد کے خلا ف ڈیر ہ غازیخا ن پو لیس نے مقد مہ بھی درج کر لیا ہے جو اچھی بات ہے۔ آج بھی میں اخبار میں پڑھ رہا تھاکہ سو ات کی لڑ کی اور خوشا ب کے لڑ کے نے جر گے کے فیصلے کے ڈر سے تحفظ ما نگ لیا ہے ۔ اسی طر ح اور بھی کئی فیصلے مثلاًکارو کا ری ،اور عورت کوجر گے کے ذریعے کالی قر ار دے کر علا قہ بدر کر دینا(حالانکہ علا قہ بدر کی سزا تو ہندوستان میں انگر یز مجسٹر یت دیتے تھے، تاکہ امن وامان قا ئم رہ سکے اور ان کی ہند وستا ن میں حکو مت مضبو ط رہے) جیسے فیصلے جر گے کے نام پر دھبہ ہیں۔جر گے کے انہی بد نام زما نہ فیصلو ں کی بابت میں نے تحصیل تو نسہ شریف ( ضلع ڈیر ہ غازیخا ن ) کے مشہور سیا سی وسما جی شخصیت سر دار عبدالسلا م خان بز دار ایڈو وکیٹ سے بات کی تو انہو ں نے کہاکہ چند جاہل لوگ جو اپنے خاندان اور قبائل میں اثر رسو خ رکھتے ہو ئے اپنی ذاتی انا ءکی تسکین اور ذاتی رنجش کا بدلہ لینے کی خاطر جعلی جرگے کا انعقاد کرتے ہو ئے فیصلے دیتے ہیں اور جر گے کو بد نام کر رہے ہیں ۔

سو ال یہ پید اہو تا ہے کہ آئے دن اسی طر ح کے فیصلے جو کسی قو م ، علا قے اور خاص طور پر ریا ست کے لئے بدنامی کی وجہ بنیں کے لئے کیا کر نا چاہیے ۔ کیا جر گے پر پابندی لگا دینی چاہیے ،لیکن اگر جر گے پر پا بند ی لگا ئی گئی تو شاید اس کا نقصا ن مو جو د ہ نقصا ن سے زیا دہ ہو، غلط فیصلے تو عدالتو ں سے بھی ہو جاتے ہیں جو کئی بار عدالتی نظام پر ہمیشہ کے لئے سو الیہ نشان بن جاتے ہیں اور لو گو ں کا اعتما د تک اٹھ جاتا ہے ،اس لئے جر گہ کا نام صر ف غلط اور بد نام فیصلے ہی نہیں، بلکہ ہما رے ملک میں جر گہ نظا م عدل کا آج بھی ایک اہم ستو ن ہے اور جر گے کی وجہ سے بہت سے لوگو ں کے مسائل جلد ی اور مفت اپنے گاﺅ ں میں ہی حل ہو جاتے ہیں۔ جر گہ ہو تا رہے گا، چاہے اس کو نام کچھ بھی دے دو ،کیو نکہ یہ ناگزیر ہے تو اس سو ال کا جو اب یہ ہے کہ جر گے کے حو الے سے پارلیمنٹ میں منا سب قا نو ن سازی کی جائے، تاکہ جر گے میں فیصلے کرنے والو ں کو یہ احساس ہو کہ غلط اور آئین سے مبرا فیصلہ دینے پر ان کے خلا ف سخت کارروائی ہو گی اوراس کے ساتھ ساتھ جر گے سے Alternative Dispute Resolution کے طور پر کا م لیا جا ئے، تاکہ عدالتو ں پربو جھ کم ہو اور لو گو ں کو جلد اور مفت انصا ف مل سکے ۔   ٭

مزید : کالم