پڑیں جب جوتیاں سَر پر....!

پڑیں جب جوتیاں سَر پر....!
پڑیں جب جوتیاں سَر پر....!
کیپشن: 1

  

مَیں نے کہیں حضرت اقبال کا یہ واقعہ پڑھا تھا کہ ان کے ایک دوست نے ایک بار ان سے یہ پوچھا کہ آپ تو آرزوئے مسلسل کے داعی ہیں تو پھر کیا آپ اس تناظر میں اپنے اس شعر کی کوئی توجیہہ پیش کر سکتے ہیں؟

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

اقبال نے جواب دیا کہ آپ صرف میرے شعر کے پہلے مصرعے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسرا مصرعہ میرے اِسی نظرئےے کا ترجمان ہے کہ شوق کی انتہا موت ہے۔اس لئے اگر کوئی بندئہ خدا، انتہائے عشق کی آرزو کرتا ہے تو اس کی سادگی پر ترس ہی کھایا جا سکتا ہے۔

حضرت علامہ کے اس شعر نے آج میری طبیعت میں بھی ایک عجیب سا سوال پیدا کر دیا جو یہ تھا کہ اگر کوئی شاعر یا فلسفی یا دانشور کبھی کسی وقت کوئی ایک استدلال کرتا ہے تو کیا دوسرے وقت میں اپنے اس استدلال کا ردِ استدلال نہیں کر سکتا؟ کیا اس تضادِ فکر کو قلب و نظر کی سلامت روی کے منافی خیال نہیں کیا جائے گا؟ کیا یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ ایسا فلسفی یا دانشور، دانشور کہلانے کا مستحق ہی نہیں ٹھہرتا جو اپنی ہی کسی تھیوری، عقیدے یا نظریئے کا پہلے تو بھرپور پرچار کرے اور پھر اچانک اس کا ابطال کر دے۔

مَیں ایک اور مثال دیتا ہوں۔.... ہم جانتے ہیں کہ اقبال کا رُواں رُواں عشقِ رسولﷺ کی مستی میں ڈوبا ہوا تھا۔حد یہ ہے کہ ایک جگہ کہتے ہیں:

باخدا درپردہ گوئم با تو گوئیم آشکار

یا رسول اللہ تو پیدا و او پنہائے من

(یا رسول اللہﷺ میں جب خدا سے مخاطب ہوتا ہوں تو وہ تو چونکہ غائب ہے، نظر نہیں آتا اس لئے میرا اور خدا کا معاملہ اور ہے۔ لیکن جب آپ سے مخاطب ہوتا ہوں تو آپ کی ہستی تو میرے سامنے واشگاف ہو کر آتی ہے اور کسی پردے میں چھپی نہیں رہتی)

اقبال کے اردو اور فارسی کلام میں ایسی ایسی گراں قدرنعتیں بھی ہیں جو کسی بھی زندہ یا مرحوم اردو یا فارسی زبان کے شاعر کے کلام میں دیکھنے اور پڑھنے کو نہیں ملتیں۔خدا کے معاملے میں کلام اقبال کی بے باکی مشہور ہے، ”شاعرانہ لائسنس“کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ بہت دور تک نکل جاتے ہیں۔ ”شکوہ“ کے علاوہ بھی اقبال کے درجنوں اشعار ایسے ہیں جن میں شاعر کی شوخی، گستاخی اور بے ادبی کی حد تک چلی گئی ہے، لیکن یہ حد صرف خدا سے ہمکلام ہونے تک محدود ہوتی ہے۔اقبال جب خدا کو ”بخیل“ کہتا ہے، اس پر ”ہرجائی“ کا لیبل لگاتا ہے اور بلا خوف و خطر اس کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہو جاتا ہے اورپوچھتا ہے کہ کیا تجھے اپنی توحید کا بھی کچھ پاس ہے؟.... کیا تجھ کو معلوم ہے کہ جب دنیا میں کوئی تیرا نام نہیں لیتا تھا تو اس وقت قوتِ بازوئے مسلم ہی تمہارے کام آئی تھی؟.... لیکن اس قسم کی شوخی اور گستاخی وہ حضور اکرم کے حضور کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہاں جا کر اس کا دم رک جاتا ہے اور سانس سینے میں اٹک جاتی ہے، زبان بند ہو جاتی ہے، آنکھیں دریا بن جاتی ہیں اور کہیں جائے پناہ نہیں ملتی تو فریاد کرتا ہے:

کرم اے شہ ِ عرب و عجم کہ کھڑے ہیں منتظر ِ کرم

وہ گدا کہ تو نے عطا کیا ہے جنہیں دماغِ سکندری

شاعر پر بار بار متضاد حالتیںطاری ہوتی ہیں، اس کا دل مختلف کیفیتوں کی رُستخیز ہوتا ہے ،وہ کبھی آشفتہ سر ہوتا ہے تو کبھی تشنہ ءدائم اور کبھی سراپا سمندر! وہ کبھی شمشیروسناں بن جاتا ہے تو کبھی طاﺅس درباب ہو جاتا ہے۔ اس کی فطرت کا یہی اضطراب ہے جو اسے ہر لمحہ بے چین رکھتا ہے اور یہی بے چینی اس کے کرب کا علاج بھی ہے۔ اس لئے کہتا ہے:

پھونک ڈالا ہے مری آتش نوائی نے مجھے

اور میری زندگانی کا یہی ساماں بھی ہے

اس تمہیدِ طولانی کے بعد آمدم برسرِ مطلب.... مَیں آج جب ”شمشیروسناں“ لکھنے لگا تو بہت سے موضوعات سامنے تھے۔پاکستان کے اندرونی مسال بھی اور بیرونی بھی۔اندرونی مسائل کا بخار تو دن رات بیشتر قارئین کو ”بے ہوش“ رکھتا ہے، بیرونی موضوعات کا خیال کرنا البتہ ان کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ مَیں اگر پاکستان سے باہر نکلتا ہوں اور اپنے مشرقی ہمسائے کو دیکھتا ہوں تو نریندر مودی کے دورئہ امریکہ کی خبر پر نظر پڑتی ہے۔ ذرا رک کر سوچا کیوں نہ اس موضوع پر قلم اٹھاﺅں۔ اُس مودی کا تذکرہ کروں جو اپنے گجرات میں اپنے مسلمانوں کا قاتل رہا اور پھر شائد اِسی کوالی فیکیشن کی بناءپر ”سیکولرانڈیا“ نے اس کو الیکشن میں وہ پذیرائی بخشی کہ آج تک بھارت کے کسی اور ”سیاسی قاتل“ کو نصیب نہ ہو سکی۔میرے سامنے وہ منظر بھی تھا جب مودی نام کے اس چھوٹے مسلم کُش کو امریکہ نام کے ایک بڑے مسلم کُش نے اپنے ہاں وزٹ کرنے سے روک کر دیا اور حکم جاری کیا کہ یہ مسلم کُش تاحیات ہمارے امریکہ کا رخ نہیں کر سکتا۔ لیکن جب اس بڑے مسلم کُش نے یہ دیکھا کہ اس کی قوم نے اس کو بے نظیر مینڈیٹ سے نواز دیا ہے تو وہی امریکہ، سانپ سے ریشمی رسی بن گیا۔

شب موم کر لیا سحر آہن بنا لیا

پھر سوچا کہ نریندر مودی کے 6روزہ دورے کے پروگرام، وہاں ان کی آﺅ بھگت اور ان کی مصروفیات کے ایجنڈے پر قلم اٹھاﺅں.... ساتھ ہی ایک اور سوچ آئی کہ ہمارے اپنے وزیراعظم جو اس وقت امریکہ میں ہیں یا ”داخل“ ہونے والے ہیں، وہ بھی تو مودی کے ثناءخوانوں میں سے ہیں۔زیادہ وقت نہیں گزرا وہ مودی کو ودھائی دینے میں پیش پیش تھے اور ان کے ”ہیوی مینڈیٹ“ کو اپنے ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ رکھ کر ایک ہی ترازو میں تولتے تھے لیکن وہ نیویارک میں اپنے ”محسن“ سے اس لئے نہیں مل سکیں گے کہ محسن کے پروگرام میں ان کی کوئی رسمی میل ملاقات شامل نہیں، بلکہ اقوام متحدہ کے دفتر کی سائڈ لائنوں میں بھی نواز مودی ”صاحب سلامت“ کا کہیں ذکر تک نہیں۔

پھر سوچا کہ اپنے دوسرے مہربان اور مسلمان مغربی ہمسائے کے صدر محترم کے آخری خطاب پر کچھ لکھوں کہ جو تیرہ چودہ برس کی صدارت کے بعد تخت ِ کابل سے رخصت ہو رہے ہیں اور اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ صاحبان کے لئے کرسی خالی کرکے اپنے گھریلو محل میں منتقل ہو رہے ہیں۔انہوں نے جاتے جاتے ایک ایسا انکشاف بھی کیا کہ ہر پاکستانی ان کے لئے سراپا تحسین بن گیا ہے۔انہوں نے اپنے چودہ سالہ امریکی ”محسن“ کے لئے جو الفاظ استعمال کئے اور جو تفصیلات بتائیں وہ ہر امریکی تھنک ٹینک کے ذہنی افلاس کی غماز اور امریکن خارجی و داخلی پالیسیوں کا پول کھول کر رکھ دیتی ہیں۔

پھر سوچا کہ داعش پر کیوں نہ قلم اٹھایا جائے۔ آخر ہمارے ایک سابق آرمی چیف نے بھی تو کل اسی موضوع کی ”بے کارجگالی“ کی تھی۔ آج کل جنرل بیگ شدید تنہائی اور کس مپرسی کا شکار ہیں۔ شائد اس لئے ”واہی تباہی“ مارے جا رہے ہیں۔

قارئین مکرم! پاکستان کے یہ تمام اندرونی اور بیرونی مسائل ایسے تھے جو میرے دامنِ قلم کو کھینچ کھینچ کر کئی بار صفحہءقرطاس تک لائے لیکن میں نے پھر سوچا کہ یہ سب کچھ تو آپ کو مزید افسردہ کردے گا۔تو پھر کیوں نہ ایک ایسا موضوع چنا جائے جو شمشیروسناں سے ہٹ کر طاﺅس رباب کے نزدیک تر ہو۔ آخر اقبال نے بھی تو حمد و نعت کی دنیا میں تہلکہ مچانے کے بعد کبھی کبھی اس شبستان کا رخ بھی کیا تھا جس کا ذکر احمد فراز نے یوں کیا ہے:

سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت

مکیں اِدھر کے بھی جلوے اُدھر کے دیکھتے ہیں

اس شعر میں دو الفاظ بطور خاص قارئین کی توجہ کے طالب ہیں....ایک ”شبستان“ اور دوسرا ”جلوے“.... اقبال جب نعت گوئی اور حمد سرائی کے بلند بام زینے سے نیچے اترتے ہیں تو فرماتے ہیں:

یاد ایّا مے کہ خوردم بادہ ہا باچنگ ونَے

جامِ مے دردستِ من مینائے مے در دستِ وَے

(وہ بھی کیا دن تھے کہ میں چنگ و رباب کی مدھر تانوں کے درمیان بیٹھ کر شراب پیا کرتا تھا۔شراب کا جام میرے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ اور شراب کی بوتل اس کے ہاتھ میں ہوتی تھی!“

اسی غزل کا ایک اور شعر بھی قابلِ توجہ ہے۔

درکنار آئی خزانِ ما زند رنگِ بہار

ورنیائی فروردیں افسردہ تر گردد زدَے

(تو جب میری آغوش میں ہوتی ہو تو گویا میری خزاں بھی بہار بن جاتی ہے لیکن جب نہیں ہوتی تو مارچ کا مہینہ (فروردیں) دسمبر کے مہینے (دَے) سے بھی زیادہ اداس لگتا ہے!)

کلام اقبال کے جتنے اشعار ان کے افکار کے تقدس کی دلیل میں کوٹ کئے جاتے ہیں، ان سے زیادہ ایسے اشعار بھی ہیںجو بادہ نوشی اور مے پرستی کی خوبصورت رداﺅں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ (خصوصاً زبور عجم اور پیامِ مشرق میں) ....جس طرح غالب نے مشاہدئہ حق کی گفتگو کو بادہ و ساغر کا ذکر کئے بغیر بیکار کہا تھا اسی طرح اقبال کی بادہ نوشی اور ساقی پرستی کو بھی ”مشاہداتِ حق“ کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

اور آج کل پاکستان میں تو بالخصوص جو پُرآشوب دور برپا ہے،اس کا تذکرہ کرنا یا اس پر کسی قسم کی بحث کا در وا کرنا یا اس کی جزئیات کو ورطہءتحریر میں لانے کے لئے کالم نویسی کا سہارا لینا، اپنے اندرونی درد و کرب میں اضافہ کرنے کا اقدام ہے۔ شائد یہی وجہ تھی کہ حافظ شیراز نے اپنے حالاتِ حاضرہ سے تنگ آکر بادہ و ساغر کے تذکرے میں پناہ لی تھی۔ان کے دیوان کی پہلی غزل کاپہلا شعر ہے:

الا یا ایّہا السّاقی ادر کاساً و ناولہا

کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکل ہا

(اے ساقی! جام و ساغر اِدھر میری طرف بڑھا ۔خود بھی پی اور مجھے بھی پلاکہ یہ عشق کہ جس کو پہلے پہل میں آسان سمجھتا تھا، یہ تو بڑا ہی مشکل نکلا)

اس شعرکا پہلا مصرعہ عربی زبان میں ہے اور دوسرا فارسی میں ہے۔برسبیل تذکرہ ایک بار ایک دوست نے اس کا سلیس اردو ترجمہ بھی سنایا تھا۔ آپ بھی سُن لیں:

پڑیں جب جوتیاں سر پر تو قول حافظ کا یاد آیا

”کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکل ہا“

مزید :

کالم -