اضافی بل+ ٹیکس اور حزب اختلاف کی لاپرواہی!

اضافی بل+ ٹیکس اور حزب اختلاف کی لاپرواہی!
اضافی بل+ ٹیکس اور حزب اختلاف کی لاپرواہی!
کیپشن: 1

  

عوام احتجاج کر رہے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے نوٹس لیا۔ بقول عابد شیر علی وزیر مملکت پانی و بجلی وزیراعظم نے اضافی یونٹ واپس لینے اور بلوں میں اضافے کے بارے میں تحقیق کا حکم دیا ہے۔ اس ہدایت کو کئی دن ہو گئے، تاحال بلوں کی تصحیح اور فاضل یونٹ خارج کرنے کی ہدایت پر عمل نہیں ہوا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین یہ کام کر ہی نہیں رہے، جو صارف زیادہ واویلا کرتا ہے اسے یہ کہہ کر ٹرخایا جاتا ہے کہ آئندہ ماہ ٹھیک کر دیا جائے گا۔

جہاں تک بجلی کے عوض مجموعی اضافے کا تعلق ہے تو اس کا بھی قصہ دلچسپ اور قومی اسمبلی میں عوامی نمائندوں کی غفلت اور لاپرواہی کا ثبوت ہے جیسے پنجاب اسمبلی میں عوام کا زیادہ درد رکھنے والی اپوزیشن نے کیا تھا، جہاں تک بجلی کے نرخوں میں اضافے کا تعلق ہے تو یہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی مہربانی اور توجہ کا ثمر ہے کہ جب بھی آئی ایم ایف سے قرضوں کے حوالے سے مذاکرات ہوئے جواب میں بجلی کے نرخ بڑھ گئے۔ یہ آئی ایم ایف والے ابھی بھی مطمئن نہیں، حالانکہ بجلی کے فی یونٹ نرخ 17روپے تک پہنچ گئے اور اس کے تین مراحل ختم کر کے صرف دو پر اکتفا کیا گیا اور پہلے300یونٹوں پر نرخ 14روپے فی یونٹ ہیں، جبکہ300اور اس سے زائد یونٹوں پر17روپے فی یونٹ کا ریٹ لاگو ہو جاتا ہے۔ سیلز ٹیکس، نیلم جہلم سرچارج، فیول ایڈجسٹمنٹ اور ود ہولڈنگ ٹیکس اضافی ہیں۔ یوں مجموعی قیمت20 سے 22روپے فی یونٹ ہو جاتی ہے۔

صارفین کو یہ علم نہیں کہ یہ ”ودِ ہولڈنگ ٹیکس“ کیا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی استثنیٰ نہیں، جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ انکم ٹیکس ہے اور جس صارف کا بھی بل ایک ہزار روپے سے زیادہ ہو اس سے 3سے 5فیصد کے حساب سے یہ ٹیکس لیا جاتا ہے، جو بنیادی طور پر بجلی والوں کو نہیں ملتا۔ سیلز ٹیکس کی طرح ایف بی آر کے پاس جاتا ہے۔ صارف اگر ٹیکس دہندہ ہو اور اس کے پاس این ٹی آر نمبر بھی ہو تو یہ ٹیکس وہ گوشوارے میں شامل نہیں کر سکتا کہ یہ ٹیکس ہے اور لیا ہی جاتا ہے۔ اِسی طرح ٹیلیفون کے بلوں پر بھی یہ فارمولا لاگو ہوتا ہے اور شرائط بھی لاگو ہوتی ہیں، چنانچہ صارف بڑی آسانی سے اسے جگا ٹیکس قرار دے سکتے ہیں، کہ سیر صبح کی ٹولی میں سے جب چوھری اسلم نے بار بار سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کا نام لے لے کر محکمہ کی ایسی کم تیسی کی تو انکم ٹیکس پریکٹیشنر منور بیگ مرزا نے ان کو تفصیل بتائی اور کہا اسے جگہ ٹیکس کہا جا سکتا ہے۔

اس وقت جو مظاہرے ہو رہے ہیں وہ مجموعی اضافے کے خلاف ہیں اور کسی کو یہ اندازہ نہیں کہ یہ سب ایک چور ٹیکس کی وجہ سے ہوا جو باقاعدہ بجٹ کے ساتھ منظور ہوا تھا اور ہمارے عوامی نمائندوں نے توجہ نہیں دی تھی یہ دراصل ایک نیا سرچارج ہے جسے کہا تو فیول سرچارج گیا ہے، لیکن بنیادی طور پر یہ تھرمل بجلی گھروں کے فرنس آئل کے حوالے سے نہیں، سوئی گیس سے پیدا ہونے والی بجلی کے حوالے سے ہے، اس لئے اسے گیس سرچارج کہنا ہی درست ہو گا۔

بجٹ کے دوران محترم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جہاں عوام پر کئی اور بوجھ ڈالے وہاں یہ سرچارج بھی تجویز کیا گیا کہ گیس کے استعمال سے بھی تو بجلی پیدا ہوتی ہے۔ یہ سرچارج پانچ فیصد تجویز کیا گیا (کل صرف شدہ یونٹوں کی قیمت پر) بجٹ کے موقع پر عوامی نمائندگان اور ضروری کاموں میں مصروف تھے۔ انہوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی کہ اس ٹیکس کے نتائج کیا ہوں گے۔ چنانچہ اس کے حوالے سے موثر احتجاج کیا گیا اور نہ ہی سرکار نے توجہ دی۔ معاملہ از خود ٹھنڈا پڑ گیا،جو اب یکایک گرم ہوا کہ جولائی میں استعمال ہونے والی بجلی کے بلوں میں اضافہ بھیج دیا گیا ہے اور یوں اضافی یونٹوں کے ساتھ مل کر اس نئے سرچارج نے احتجاج کا ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اب سرکار کی طرف سے منت سماجت کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم نے نوٹس لے لیا، اس لئے احتجاج روک دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ بجلی والی کمپنیوں کے ملازمین ہی عوام کو پریشان کریں تو وہ کس سے فریاد کریں۔ ہم نے چند روز قبل اپنے ایک کالم میں2013ءاور2014ءکے حالیہ بل کا موازنہ کر کے بتایا تھا۔ جس کے مطابق 2013ءکے اسی مہینے میں490 یونٹ کا بل آیا جو تین ہزار سے زیادہ تھا،2014ءکے مماثل مہینے کا جو بل آیا وہ یونٹوں کے حساب سے480یونٹ کا تھا، لیکن مجموعی ادائیگی سات ہزار پانچ سو روپے سے زیادہ کی گئی، اب خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اضافہ کتنا تھا اس پر اب فیول سرچارج لگایا گیا، تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خودبخود بل بڑھ گئے اور اب احتجاج کا باعث بنے ہیں۔

لاہور میں لیسکو کے عمل سے ہر گھر کا واسطہ ہے اور یہ شکایت آج ہی پیدا نہیں ہوئی، بلکہ عرصے سے یہی ہو رہا ہے کہ اضافی یونٹ بھیج دیئے جاتے ہیں۔ یہ بوجھ ہمیشہ مئی، جون کے بلوں پر ڈالا جاتا ہے اگلا مہینہ ہی کیا جون کے وسط سے بجٹ پیش ہو کر اس پر بحث شروع ہو جاتی ہے، لیکن اب تو مئی، جون کی زیادتی کے بعد جولائی اور پھر اگست کے بلوں پر سرچاج نے بوجھ بڑھا دیا ہے۔ واپڈا کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ میں منظوری کے بعد بھی ہدایت کی تھی کہ سرچارج ایک ماہ کے بعد شروع کیا جائے، چنانچہ ستمبر میں آنے والے بلوں میں جولائی اور اگست کے دو مہینوں کا سرچارج شامل کیا گیا ہے۔ یہ وضاحت یوں بھی ضروری ہے کہ وزیراعظم نے حالات اور بل درست کرنے کی ہدایت کی، شائد اس پر عمل ہو جائے جو بہت ہی مشکل نظر آتا ہے۔

یہ تو صرف ایک نمونہ ہے، نہ جانے بجٹ کے فنانس بل میں اور کیا کیا کرشمے دکھائے گئے ہیں کہ اب تو عام شخص کار بھی خریدنے سے رہا، کہ انکم ٹیکس دینے والے کے لئے رجسٹرڈ کرانے کی فیس کافی کم ہے۔ تاہم جو حضرات انکم ٹیکس نمبر کے حامل نہیں، ان کو کئی گنا زیادہ فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔

اب ذرا پنجاب کی خبر لے لیں۔ یہاں مالک مکانوں کو پراپرٹی ٹیکس کے بل موصول ہوئے ہیں، جو سابقہ کے مقابلے میں دو سے اڑھائی گنا زیادہ ہیں اور عوام پریشان ہیں کہ ایک دم ٹیکس کی شرح میں تین گنا اضافہ کیسے ہو گیا۔ ہمارے سیر کے ساتھی میاں اصغر بہت پریشان تھے کہ ان کو ساڑھے دس ہزار روپے ٹیکس آ گیا، حالانکہ وہ خود رہائش پذیر ہیں، میاں اصغر کے مطابق یہ تین گنا سے بھی زیادہ ہے، ان کو سمجھایا کہ بھائی شور کیوں مچاتے ہیں، یہ سب ٹیکس کی شرح پر نظرثانی اور ٹیکس نادہندگان کو قابو کرنے کے لئے ہے اور یہ بھی باقاعدہ پنجاب اسمبلی میں منظور ہوا، اراکین نے توجہ نہ دی۔

ہم نے کوشش کی کہ جو مسئلہ ہے اسے واضح کر دیا جائے۔ پراپرٹی ٹیکس حکام کے مطابق ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا گیا، بلکہ سالانہ کرایہ کے حوالے سے شرح بڑھائی گئی کہ یہ کام گزشتہ سات سال سے نظر انداز کیا گیا تھا۔ بہرحال یہ سب بجٹ اجلاسوں کے موقع پر اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش ہوا، لیکن حزب اختلاف نے توجہ نہ دی، کسی نے باقاعدہ پڑھ کر بحث نہ کی اور جہاں تک تعلق ہے۔ تحریک انصاف کا تو اس کے اراکین نے بجٹ کا بائیکاٹ کیا اور اجلاس کا سارا وقت مظاہرے کرتے اور نعرے لگانے میں گزار دیا۔ ایوانوں میں اعتراض نہ ہوا اور لوگوں کو بھی پتہ نہ چل سکا، اب تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”ہور چُوپو“۔

مزید :

کالم -