محض الزامات کی بنیاد پر ارکان پارلیمنٹ کی دوبارہ سیکروٹنی کا حکم نہیں دیا جا سکتا ، لاہور ہائیکورٹ

محض الزامات کی بنیاد پر ارکان پارلیمنٹ کی دوبارہ سیکروٹنی کا حکم نہیں دیا جا ...

  

                     لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ محض الزامات کی بنیاد پر ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم جاری نہیں کیا جاسکتا ۔جسٹس عائشہ اے ملک نے یہ ریمارکس تحریک انصاف کے کارکن جاوید بدر کی درخواست کی سماعت کے دوران دیئے۔فاضل جج نے آئین کے آرٹیکل62اور 63کے تحت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی دوبارہ سکروٹنی کیلئے دائر اس درخواست کی سماعت 30ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار سے وضاحت طلب کی ہے کہ دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم کس قانون کے تحت جاری کیا جائے اور عدالت کو مطمئن کیا جائے کہ عدالت اس معاملے میں مداخلت کی مجاز ہے ۔محض الزامات کے بنیاد پر دوبارہ سکروٹنی کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔گزشتہ روز درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ الیکشن کمیشن نے اپنی جائزہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ ریٹرننگ افسران نے امیدوراوں کی سکروٹنی کا عمل درست طریقہ سے نہیں کیا جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے الزامات کے بعد 2013کے عام انتخابات متنازع ہو چکے ہیں، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں پر مشتمل سکروٹنی کمیٹی بھی امیدواروں کی جانچ پڑتال ٹھیک طریقے سے نہیں کر سکی جس کی وجہ سے ٹیکس ڈیفالٹر اور چور اسمبلیوں میں پہنچ گئے ہیں، انہوں نے استدعا کی کہ اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کی آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی روشنی میں دوبارہ سکروٹنی کا حکم دیا جائے، ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ عدالت کو اس نقطے پر مطمئن کریں کہ کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کو اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کی دوبارہ سکروٹنی کا حکم دیا جا سکتا ہے، محض الزامات کے تحت ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے درخواست گزار سے اراکین اسمبلی کی دوبارہ سکروٹنی کا حکم دینے کیلئے قانونی طریقہ کار طلب کر تے ہوئے مزید سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

لاہور ہائےکورٹ

مزید :

صفحہ آخر -