داعش کیخلاف فوجی دباﺅ برقرار رکھیں گے ،تنظیم کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہو گی ،اوباما

داعش کیخلاف فوجی دباﺅ برقرار رکھیں گے ،تنظیم کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ ...

  

                              نیویارک(ر خصوصی رپورٹ )امریکی صدر باراک اوباما نے شدت پسندتنظیم دولت اسلامیہ(داعش) کے خلاف فوجی دباو¿برقراررکھنے کاعزم ظاہر کرتے کہا ہے کہ دہشت گردصرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں، داعش کاخاتمہ کرنے کےلئے مشترکہ جدوجہدضروری ہے، ہم امن اورجنگ کے درمیان پھنس گئے ہیں، اسلام امن اور اعلیٰ انسانی اقدار کاحامل مذہب ہے امریکاکبھی اسلام سے جنگ نہیں کرے گا، لاکھوں مسلمان امریکی شہری امریکاکاحصہ ہیں ، مسلم ممالک کودہشت گردتنظیموں کی سوچ مستردکرناہوگی ،مسلمان نوجوان تعلیم پر مکمل دھیان دیں اور بہتر پیشہ ورانہ صلاحیتیں پروان چڑھائیں ، روس نے یوکرین کیساتھ امن کاراستہ اپنایاتوامریکاپابندیاں ختم کردےگا،ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے مسئلے کے حل کاموقع ضائع نہ ہونے دے، شام کے مسائل کادیرپاحل سیاسی مفاہمت میں ہے ۔بدھ کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ اسلام امن اور اعلیٰ انسانی اقدار کاحامل مذہب ہے جس میں دہشت گردی، انتہا ءپسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیائے اسلام مل تباہی اور بربادی کے اس نظریے کو مسترد کردے۔ امریکاکبھی اسلام سے جنگ نہیں کرے گا لاکھوں مسلمان امریکی شہری امریکاکاحصہ ہیں، ان کےخلاف متحدہوناہوگاجنھوں نے ہمیں فرقوں،رنگ اورمذہب کے نام پرتفرقوں میں ڈالا۔ انہوں نے کہاکہ دنیاکوانتہائی مہلک اورنظریاتی طورپرخطرناک دہشت گردوں کاسامناہے ،مسلم ممالک کودہشت گردتنظیموں کی سوچ مستردکرناہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ امریکادھمکیوں پر سرنگوں نہیں ہوگا، ثابت کرناہوگاکہ مستقبل ان لوگوں کے نام ہے جولوگوں کوجوڑتے ہیں توڑتے نہیں، دہشت گردتنظیم داعش کوکمزورکرکے آخرکارتباہ کرناہوگا دہشت گردصرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری انتہا پسندی اور شدت پسندی کے عفریت سے مقابلہ کرنے کے لیے موثر اور مستقل تعاون و انتظام جاری رکھے۔ داعش کاخاتمہ کرنے کےلئے مشترکہ جدوجہدضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دولت اسلامیہ کے جنگجوﺅں سے نمٹنے کی کوششوں میں تعمیری شراکت دار ہوگا تاہم انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو صورتحال سے نمٹنے میں نمایاں کردار ادا کرنا ہوگا۔ دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت کو روکنا ہوگا اور انتہا پسندی کے رجحان کو ختم کرنا ہوگا۔ یہ ٹاسک مشرق وسطیٰ کو خود پورا کرنا ہوگا کیونکہ کوئی خارجی طاقت دلوں اور ذہنوں میں نہیں بس سکتی۔ انہوں نے کہاکہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی ایک سرطان ہے، جس کا مشترکہ کوششوں سے مقابلہ کیا جانا چاہیے جواقوام متحدہ کے چارٹر کا ایک اہم حصہ ہے۔ صدر اوباما نے مسلمان نوجوانوں سے خصوصی اپیل کی کہ وہ تعلیم پر مکمل دھیان دیں اور بہتر پیشہ ورانہ صلاحیتیں پروان چڑھائیں، جن سے ہی دنیا ترقی و خوش حالی سے ہمکنار ہوگی

مزید :

صفحہ اول -