ریلوے انتظامیہ نے مافیا کی بجائے بیو ہ کا گھر مسمار کردیا

ریلوے انتظامیہ نے مافیا کی بجائے بیو ہ کا گھر مسمار کردیا

  

لاہور(سٹاف رپورٹر)ریلوے انتظامیہ نے کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی ہتھیانے والے قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کرنے کی بجائے بادامی باغ میں دومرلے کے مکان میں رہنے والی بیو ہ کا گھر مسمار کردیا جس کے باعث شہریوں نے شدید احتجاجی کیا اور ریلوے ٹریک پر کئی گھنٹے دھرنا دیتے ہوئے ریلوے انتظامیہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی جبکہ سینہ کوبی بھی کی گئی ۔بتایا گیا کہ ایک طرف ریلوے کی دلکش مقامات پر خالی اراضی پر قبضہ مافیا نے قبضہ کررکھا ہے مگر ریلوے انتظامیہ نے اس اراضی کو قبضہ مافیا کے نرغے سے تاحال چھڑایا لیکن دوسری طرف بمشکل زندگی بسر کرنے والے کمزور افراد کی چھتیں چھیننے کے لئے آپریشن کرکے ان کے گھر مسمار کئے جارہے ہیں۔ گزشتہ روز بتایا گیا کہ بادامی باغ سبزی منڈی کے قریب ریلوے پھاٹک نمبر 5کے قریب ایک چھوٹا سا خستہ حال مکان سرکاری اراضی پر تعمیر کیا گیا تھا جو کہ حال بارشوں کے دوران گر گیا جس پر اس گھر میں مقیم بیوہ خاتو ن نے اس کی دوبارہ تعمیر شروع کردی جس کو تقریبا ایک ہفتہ میں مکمل کرلیا گیا ۔بتایا گیا کہ جن دنوں یہ غیر قانونی تعمیر کی جارہی تھی تو اس دن انہیں کوئی روکنے کے لئے نہیں آیا تاہم جس روز اس کی تعمیر ہوگئی اس روز ہی ریلوے انتظامیہ نے اسے گرا دیا جس کے نتیجے میں بیوہ ایک طرف چھت سے محروم ہوگئی تو دوسری طرف تعمیر کے سلسلے میں لئے ہوئے پیسے لے کر مقروض بھی ہوگئی ۔بتایا گیا کہ ریلوے انتظامیہ نے بیوہ کا گھر گرانا شروع کیا تو مساجد میں اعلان ہوگیا کہ ریلوے کچی آبادی کے مکانوں کو مسمارکرنے آگئی ہے اس پر لوگ سڑک پر نکل آئے اور انہوں نے ریلوے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ریلوے پھاٹک نمبر 5بادامی باغ بند کردیا جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا کئی ایمولینس ٹریفک میں پھنس کررہ گئیں اور شہریوں سمیت مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس صورتحال کا علم ہوتے ہوئے ڈی آئی جی ریلوے پولیس شارق خان اور رکن صوبائی اسمبلی غزالی سلیم بٹ موقعہ پر پہنچ گئے جہاں انہوں نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کئے جس کے دورا ن مظاہرین کو یقین دلایا گیا کہ ان کے مذید گھر مسمار نہیں کئے جائیں گے جس پر مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا ۔دریں اثنا رکن صوبائی اسمبلی غزالی سلیم بٹ نے کہا کہ ہم تجاوزات کے خلاف ہیں مگر جو گھر پہلے سے بنے ہوئے ہیں اور خستہ حال ہیں انہیں دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت ملنی چاہیے ۔جو گھر مسمار کیا گیا ہے اسے دوبارہ تعمیر کروایا جائے گا اس سلسلے میں وفاقی وزیر ریلوے سے بات ہوئی ہے ہم خود اپنے پاس سے اس بیوہ کو اس کی چھت دلوائیں گے ۔دوسری طرف مظاہرین کا کہنا تھا کہ ریلوے ارضی پر قبضہ کرکے پلازے اور کنال کنال کے بنگلے بنانے والوں سے اراضی واگزار نہیں کروائی جارہی۔لیکن ایسے غریب جو دو مرلے کی جگہ پر بے شک قبضہ کرکے رہ بمشکل زندگی بسر کررہے ہیں ان سے چھتیں چھینی جارہی ہیں ۔حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ رعایا کو روٹی ،کپڑا اور مکان دے۔

بیو ہ کا گھر

مزید :

صفحہ آخر -