صرف الیکشن کرانے کا نام جمہوریت نہیں انتخابات جمہوری منزل کی طرف ایک سیڑھی ہے

صرف الیکشن کرانے کا نام جمہوریت نہیں انتخابات جمہوری منزل کی طرف ایک سیڑھی ...

  

               لاہور(نامہ نگار خصوصی )سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ صرف الیکشن کرانے کا نام جمہوریت نہیں الیکشن جمہوریت کی منزل کی طرف ایک سیڑھی ہے۔آئین میں موجود بنیادی حقوق کے آرٹیکلز جمہوریت کی روح ہیں احترام آدمیت درحقیقت اسلام کا چارٹر ہے اور اس چارٹر کی روشنی میں احترام آدمیت کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتاتاہم ہمارے اداروں میں ایسی روایات کا فقدان ہے۔وہ لاہور ہائیکورٹ بار کے کراچی شہداءہال میں لائرز الائنس فار ریئل ڈیمو کریسی کے زیر اہتمام ” بنیادی حقوق اور حقیقی جمہوریت “ کے موضوع پر منعقدہ سیمینا ر سے خطاب کر رہے تھے۔معروف قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ آئین کی رو سے قومی اسمبلی یا سینٹ کے کسی رکن کے استعفے دیئے جانے کے بعد اسکی نشت خالی ہوجاتی ہے اور اسکی تمام مراعات فوری طور پر روک لی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے قواعد کی قاعدہ 25 کے ساتھ مل کر آرٹیکل 64 کے تحت اسمبلی نشست سے استعفے کے بعد مستعفی ہونے والے رکن کی نشت فوری طور پرخالی ہوجاتی ہے ۔ اس عمل میں ایوان کے اسپیکر یا چیئرمین کا اپنا کوئی کردار نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ قواعد کی رو سے اسپیکر رضا کارانہ طور پر استعفیٰ دینے والے ممبر پر اسکے استعفے پر اعتراض یا ابہام کی صورت میں اسکی تصدیق کے حوالے سے انکوائری کراسکتا ہے تاہم تصدیق ہونے کی صورت میں مستعفی ہونے ممبر کی نشت خالی ہو جاتی ہے جسکی اطلاع الیکشن کمیشن کو فوری دی جا نی ضروری ہوتی ہے۔ صرف الیکشن کرانے کا نام جمہوریت نہیں الیکشن جمہوریت کی منزل کی طرف ایک سیڑھی ہے عوام کو حقوق دینے اور امورمملکت نے انکی شمولیت اور شراکت سے ہی حقیقی جمہوریت کا تصور ابھرتا ہے۔ لیکن پاکستانیوں کا ”مائنڈ سیٹ “ آئین کے کلچر کو تسیلم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمرفاروق حقیقی جمہوریت کا نمونہ تھے۔پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین رمضان چوہدری نے کہا کہ بری جمہوریت اچھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے کے فلسفے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اگر جمہوریت میںخرابی یا برائی موجود ہے تو اسے دور کرنا چاہیئے جمہوریت رویوں ، برداشت اور حقوق و فرائض کی ادائیگی کا نام ہے بد قسمتی سے ہماری سیاسی جما عتوں میں خود احتسابی کا فقدان ہے نہ ہی ان میں جمہوری رویے پائے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو سیاسی لڑائیوں سے دور رہنا چاہیئے کسی کو آئین پر شب خون مارنے نہیں دیں گے کسی نے ایسا اقدام کرنے کی کوشش کی تو کالے کوٹ والے اسکے سامنے کھڑے ہوں گے۔ سابق سیکرٹری وفاقی قانون پیر مسعود چشتی نے کہا کہ دستور پاکستان میں سب کچھ موجود ہے ضرورت اس پر عمل کرنے کی ہے مسائل کا حل بھی اسی میں ہے۔سید فیروز گیلانی نے کہا کہ بد قسمتی سے آمروں نے جمہوریت کی بنیادی نرسری بلدیاتی نظام کو فروغ دیا اور سول حکومتوں نے اسے دفن کیا۔ اس موقع پر رانا اعجاز احمد خان ،امان اللہ خان چغتائی،پروفیسر انور گھمن ،سید ذوالفقار حسین، ،کاظم خان ،شبنم ناگی،سیمت دیگر سینئر وکلاءنے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر وکلاءکی بڑی تعداد موجود تھی۔

اےس اےم ظفر

مزید :

صفحہ آخر -