آئندہ جنگیں پانیوں پرہی ہونگی‘ پاکستان ویثنری فورم کانفرنس

آئندہ جنگیں پانیوں پرہی ہونگی‘ پاکستان ویثنری فورم کانفرنس

  


لاہور (خبر نگار) جدید ٹیکنالوجی ، مالی وسائل اور عملدرآمد و عزم کی کمی پاکستان میں باربار سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ بن رہے ہیں۔ 22 مرتبہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنے کے باوجود فلڈ واٹر مینجمنٹ و کنڑول سسٹم بنانا پاکستان کے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے ٹیک سوسائٹی کلب میں ’’ پاکستان میں سیلاب سے ہونیوالی حالیہ تباہ کاریاں اور ان کا حل‘‘ کے موضوع پر ہونیوالی پاکستان ویثنری فورم کی کانفرنس کے دوران کیا۔کانفرنس میں ارسا کے سابق چئیرمین انجینئیر شفقت مسعود، واپڈا کے سابق ممبر فنانس منظور اے شیخ، زرعی سائنسدان ڈاکٹر محمد صادق، سابق وزیر مملکت قیوم نظامی، کامسیٹس یونیورسٹی کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر حسیب اللہ، سابق اکاوئنٹنٹ جنرل پنجاب جمیل بھٹی، انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر جنرل میجر شبیر احمد، کرنل (ر) وحید حامد، انجینئیر محمودالرحمن چغتائی، جمیل گشکوری ، انجینئیر یعقوب چودھری اورڈاکٹر اکرام کوشل نے شرکت کی۔ کانفرنس کے آغاز میں تقریر کرتے ہوئے ارسا کے سابق چئیرمین انجینئیر شفقت مسعود نے کہا کہ1992اور 2010 کے سیلاب کے بعد بننے والے کمشن کی سفارشات پر اگر بھرپور طریقے سے عملدرآمد کیا جاتا تو 2014میں آنیوالے موجودہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا سکتا تھا۔ پاکستان میں فلڈ واٹر مینجمنٹ و کنٹرول کے بارے میں مناسب ویثن، سٹریٹیجی اور پلان کے فقدان سے پاکستان کو اب تک 22مرتبہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متعلقہ اداروں کو بروقت فلڈ الرٹ جاری نہ کرنا، محکمہ موسمیات کا بروقت فلڈ فورکاسٹ نظام کا نہ ہونا، پانی کے بہاؤ کو کنڑول کرنے کیلئے لگائے گئے گیٹس کا ناکارہ ریموٹ کنڑول سسٹم، فلڈ فائٹنگ پلان نہ ہونا، بیراجز کے ذریعے فلڈ واٹر کنٹرول کرنے کا نظام نہ ہونا، متعلقہ اداروں میں لاپرواہ اور کرپٹ افسران و عملہ اور حکمرانوں کی ترجیحات میں فلڈ واٹر مینجمنٹ و کنڑول سسٹم بنانے کا عزم شامل نہ ہونا پاکستان میں بار بار سیلاب کی تباہ کاریوں کا موجب بن رہا ہے۔ قیوم نظامی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینا حکمرانوں اور حکومتی مشینری کی اکثریت کا وطیرہ بن چکی ہے جسکی وجہ سے نہ تو قومی ادارے فعال رہے ہیں اور نہ ہی ملکی مفادات کا تحفظ ہو رہا ہے اور عوام الناس میں ناامیدی اور بے یقینی پھیل رہی ہے۔انیجینیر چودھری محمد یعقوب نے کہا کہ منصوبے اور رپورٹس تو بہت بنی ہیں لیکن عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسیب اللہ نے کہا کہ سیلاب کا مسئلہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پایا جاتا ہے ۔ بین الاقوامی موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے آرہی ہیں۔جس سے نبٹنے کیلئے اگرچہ جدید ٹیکنالوجی سے اسفادہ کیا جا سکتا ہے لیکن وہ بہت مہنگی ہے۔ قدرتی آفات ترقی یافتہ ملکوں کے لوگوں کو بھی بے بس کر دیتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں آبی ماہرین کی بے شمار رپورٹس موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور مالی وسائل درکار ہیں جو کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں ممکن نہیں۔ تاہم پانی جیسے اہم معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آنیوالی جنگیں پانی کے معاملے پر ہی ہونگیں۔ کرنل (ر) وحید حامد نے کہا کہ پاکستان آرمی کی فلڈ ریلیف سرگرمیاں قابل ستائیش ہیں لیکن ہمیں سیلاب کے آنے سے پہلے یا بچاؤ کیلئے جو اقدامات کرنے چاہئیں اس پر قابل عمل کوششیں کرنی ہونگی۔ انھوں نے سیلاب کے متاثرین کیلئے مخیر حضرات، فلاحی اداروں اور پاکستان آرمی کی کوششوں کو سراہا۔

مزید :

صفحہ آخر -