نشے کے عادی افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، کالج ، یونیورسٹیز متاثر

نشے کے عادی افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، کالج ، یونیورسٹیز متاثر

  

لاہور(زاہد علی خان) نشے کے عادی افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، تین سال سے 9سال کے درمیان نشے کے عادی افراد میں 16ہزار اضافہ ہوا اور یونیورسٹیوں اور کالجوں اور بعض سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی لڑکیوں کوسب سے زیادہ اس کی لت لگ گئی اور اس بے راہ روی میں اضافے کے لئے انہیں کم قیمت پر نشے کا عادی بنا دیا گیا ۔ ایک رپورٹ جو حکومت کو بھیجی گئی ہے اس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ صرف دو اداروں کے باقی تمام سرکاری ادارے میں ناکام رہے جن میں سرفہرست محکمہ پولیس اور ایکسائیز ہے۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی افسوس ظاہر کیا گیا کہ حکومت نے جن اداروں کے ذمے یہ ڈیوٹی لگائی گئی تھی وہ انہیں روک نہ سکے اور منشیات کا دھندہ کرنے والے ارب پتی بن گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کی مدد کرنے والا ایک ادارے ....دیگر اداروں نے صرف منشیات فروشوں کی مدد کی اور بعض سرکاری اداروں کی پشت پناہی کی وجہ سے یہ لعنت کالجوں یونیورسٹیوں میں بھی عام ہو گئی اور نشے میڈلکل سٹوروں پر بھی سرعام فروخت ہوئے گئے رپورٹ میں صرف اے این ایف کی تعریف کی گئی اور بتایا گیا ہے کہ اس فورس نے نہ صرف نشے کی کافی حد تک روک تھام کی بڑے بڑے سمگلروں کو پکڑا اور علاقہ غیر میں پوست کی کاشت کو بھی روکا۔ اس فورس کا کردار قابل قدر ہے۔ پولیس ایکسائیز سمیت دیگر 10سرکاری محکمے بھی ان کی روک تھام میں ناکام رہے مگر صرف کاغذی کارروائی میں اپنا نام بتانے میں لگے رہے۔

ف

مزید :

صفحہ آخر -