تحریک انصاف کو پارلیمنٹ سے باہر نہیں ہونا چاہئے!

تحریک انصاف کو پارلیمنٹ سے باہر نہیں ہونا چاہئے!
تحریک انصاف کو پارلیمنٹ سے باہر نہیں ہونا چاہئے!
کیپشن: ch khadim hussain

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین

الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپنی تیار کردہ سفارشات پارلیمنٹ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادی ہیں جو متعلقہ قوانین پر نظرثانی کرکے شفاف اور بے داغ انتخابات کے لئے نئے قواعد و ضوابط اور قوانین بنانے کے لئے بنائی گئی اس کمیٹی کو رائج قوانین اور آئین میں ترامیم کے علاوہ نئے قوانین منظور کرانے کی سفارشات مرتب کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا اور مستقبل میں انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی جیسے اقدامات کو ختم کرنے کے لئے طریق کار وضع کرنے کا یہی فورم ہے کہ اس کے لئے قوانین اور آئین میں ترامیم کی ضرورت ہوگی اور یہ قومی اسمبلی اور سینیٹ (پارلیمنٹ) ہی کے ذریعے ممکن ہے، دوسرا کوئی راستہ جمہوری طرز عمل کے تحت ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ جب کمیٹی بنا کر سفارشات مرتب کرنے کی بات آئی تو پارلیمنٹ میں موجود تمام پارلیمانی گروپوں کو اس میں نمائندگی دی گئی اس میں تحریک انصاف کے تین اراکین کے نام بھی شامل ہیں۔

آج جو صورت حال ہے اس میں کمیٹی تو یقیناً اپنا کام کرے گی مگر تحریک انصاف یہ موقع ضائع کرنے پر تل گئی ہے حالانکہ اس کے مطالبات نیا الیکشن کمشن اور شفاف تر انتخابات کے لئے انتخابی اصلاحات کا یہی فورم ہے اور یہاں اس کے اراکین بہتر تجاویز منظور کرا سکتے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کے اراکین نے تو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر کے استعفے بھی جمع کرا دیئے جو مذاکرات کے سبب سیاسی جرگہ کی سفارش پر زیر التوا چلے آرہے تھے صرف جاوید ہاشمی نے پارلیمنٹ میں آ کر اپنے استعفیٰ کی تائید کی اور اب وہ اپنی اس نشست سے ضمنی انتخاب کا انتخابی مرحلہ عبور کرنے کے لئے میدان میں ہیں جبکہ سپیکر نے تحریک انصاف والوں کے استعفوں کی تصدیق کے لئے ارکان کو طلب کرنا شروع کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے پھر اپیل کی کہ استعفے منظور نہ کئے جائیں مگر سپیکر کا کہنا ہے کہ پہلے ہی تاخیر ہو چکی دو تین روز باقی ہیں۔ سیاسی جرگہ اپنی کوشش کرے سراج الحق نے عبدالرحمٰن ملک سے مشاورت کے بعد جرگہ کا اجلاس بلایا جو گزشتہ روز اسلام آباد میں ہوا اور ایک مرتبہ پھر سر توڑ کوشش شروع کر دی گئی کہ فریقین مصالحت کر لیں اور معاملہ افہام و تفہیم سے نمٹ جائے ۔

جہاں تک استعفوں کا تعلق ہے تو گلزار خان سے تعلق رکھنے والے ان سمیت چار اراکین نے تو انکار کر دیا، پانچ اراکین ایسے ہیں جنہوں نے استعفے سپیکر کے نام نہیں چیئرمین تحریک انصاف کے نام لکھے تھے سپیکر نے یہ پانچوں واپس کر دیئے ہیں اور باقی حضرات کو نوٹس جاری کئے گئے کہ وہ آ کر تصدیق یا تردید کریں تحریک انصاف نے الگ الگ بلانے پر اعتراض کیا اور خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ سب کو اکٹھے بلایا جائے چھ چھ کے گروپوں میں بلا کر ایک ایک رکن سے الگ الگ تحقیق کے طریقے سے یہ خدشہ موجود ہے کہ کئی اور اراکین بھی مستعفی ہونے سے انکار کر دیں اور یوں عمران خان کی مہم کو نقصان پہنچے۔ دوسری طرف حکومت اب زیادہ حوصلے کے ساتھ معاملات نمٹانے کی فکر میں ہے اور جو نشستیں خالی ہوں گی قواعد اور قانون کے مطابق ان پر ضمنی انتخابات ہو جائیں گے۔ ویسے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ سطحی قیادت میں یہ ”فکر“ بھی ہے کہ پارلیمنٹ کا میدان خالی نہ چھوڑا جائے۔ ایسی صورت میں سیاسی جرگے کی آخری کوشش رنگ لا سکتی ہے ۔یوں بھی بہتر عمل یہی ہے کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ کے ذریعے انتخابی اصلاحات کے عمل میں شامل رہے۔ پارٹی کے اراکین کو ٹوٹنے سے بچائے اور اپنی تجاویز کو قانونی شکل دلانے کی جدوجہد کرے کئی دوسرے پارلیمانی گروپ بھی ان کی تائید کر سکتے ہیں اور اچھی تجاویز کو تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

ان حالات میں عمران خان نے جو فیصلہ کیا ہے کہ مختلف شہروں میں جلسے کئے جائیں یہ ان کا جمہوری حق اور سیاسی دباﺅ کا بہتر طریقہ بھی ہے کہ اب دھرنے تو اپنی اہمیت پوری کر چکے ۔جو کام ان سے لیا جانا تھا وہ ہو چکا لیکن کپتان بند گلی میں ہیں کہ اب ڈاکٹر طاہر القادری سے الگ فیصلہ ذرا مشکل ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ ان کو بھی اپنے ساتھ ملائیں وہ مشکل سے مانیں گے کہ ان کا کوئی رکن پارلیمنٹ نہیں ہے۔

صورتحال اب انا سے بڑھ کر ضد کی حد تک آ گئی ہے۔ حالات دھرنو ں کے حق میں نہیں رہے اور اب تو سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے بھی شکوک کا اظہار ہونے لگا ہے۔ ترکی سے لکھنے والے ایک کالم نگار نے 17جون کے سانحہ کو پر اسرار قرار دے کر اس کی انتہائی ماہر، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطح کے حکام پر مشتمل ٹیم سے غیر جانبدارانہ تحقیقات پر زور دیا ہے کہ اصل حقائق اور اصل ذمہ دار سامنے آ سکیں۔ یہ معقول بات ہے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کو بھی اعتراض نہیں ہو گا اور تحقیقاتی ٹیم ان کی مکمل مشاورت سے بنائی جانا چاہئے۔ اب ضرورت سیاسی عمل اور بہتر راستے کی ہے۔ عمران خان کا جلسوں کا فیصلہ اچھا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا اور اس طرح وہ اپنے حق میں فضا بھی بہتر بنا سکیں گے۔ بشرطیکہ دھرنا سیاست ختم کر کے حقیقی سیاست کا یہ عمل شروع کریں۔

تحریک انصاف

مزید :

تجزیہ -