قربانی کی اصل روح

قربانی کی اصل روح
 قربانی کی اصل روح

  



پھر فضا میں اللہ اکبر ، لبیک اللہ ہم لبیک کی صدائیں گونجنے لگیں، حج کا مہینہ آیا ، حاجی، حج جیسے اہم رکن کی ادائیگی میں مصروف ہیں ، ہم بھی یہاں عیدالاضحی کی تیاریاں کررہے ہیں۔قربانی کی سنت ابراہیمی ؑ کو پورا کرنے کے لئے جانور خریدے جارہے ہیں۔وہاں حاجی جانور قربان کرکے حج کے اختتامی مراحل میں داخل ہو جائیں گے، یہاں ہم اللہ کی رضا کے لئے جانور قربان کریں گے لیکن کیا حج یا قربانی کرنے سے ہماری دلی کیفیات میں بھی کوئی تبدیلی آئے گی ۔کیا ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ حج جیسی عبادت جس میں مالی اور جسمانی ہرطرح کی مشقت لی جاتی ہے کیوں اتنے اجر و ثواب کا سبب ہے۔مغرب نے ہر چیز کو ایک سائنس بنا دیا ہے۔ کہیں وہ Anger Management کررہا ہے اور کہیں وہ ہمیں فرسٹریشن اورAnxietyجیسی ذہنی بیماریوں سے نکلنے کے طریقے سمجھا رہا ہے ۔ لوگوں کوCharityکی افادیت بتا رہا ہے ۔ سوشل ورک کو تمام ذہنی پریشانیوں کا حل بتا رہا ہے ۔کیا ہم اپنے ان مذہبی فرائض کو ان کی روح کے ساتھ ادا کرکے یہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔

حاجی، حج کر نے بعد ذہنی طور پر ایک مضبوط انسان بن کر لوٹتا ہے جو وہاں اللہ کے گھر کے گرد اس کی محبت میں دیوانہ وار طواف کرتا رہا ، اس نے سعی کے دوران صفا و مروہ کے درمیان دوڑکر حضرت حاجرہؓ کی وہ سنت پوری کی جس میں وہ اپنے بیٹے (حضرت اسماعیل ؑ ) کے لئے پانی کی تلاش میں دوڑیں ۔ اللہ تعالی کو ان کی یہ سعی اتنی پسند آئی کہ اس کو حج کا رکن بنا دیا۔اصل میں تو وہ اپنے شوہرحضرت ابراہیم کے ہمراہ اس صحرا میں آئیں بھی اللہ کے حکم سے تھیں ۔جب ان کے شوہر حضرت ابراہیم ؑ انہیں اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو صحرا میں چھوڑ کر واپس لوٹ رہے تھے تو حضرت حاجرہؓ نے بھی بیویوں والا سوال کیا تھا کہ آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں جارہے ہیں تو جواب ملا ’’ اللہ کے حکم پر ‘‘ پھر اس اللہ کی بندی نے دوسرا کوئی سوال نہیں کیا ۔ یہی ادا اللہ کو ایسی بھائی کہ ان کا یہ عمل حج کا اہم رکن ٹھہرا ،نہ صرف یہ بلکہ پیاس سے بے قرار شیر خوار حضرت اسماعیل ؑ کے پاؤں مارنے سے جو چشمہ پھوٹا وہ آب زم زم کہلایا جو قیامت تک اس رکن کو ادا کرنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے۔ کیا ہماری خواتین بھی اپنے خاوندوں کو اجازت دیں گی کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزاریں یا ہمارے مرد حضرات بھی اللہ کے حکم پر اس حد تک کاربند ہوں گے ۔حج کے سبھی ارکان میں انسان کے صبر و برداشت کا کافی امتحان ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے نفس کو تمام شیطانی قوتوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔رمی کے رکن کی ادائیگی میں جب وہ شیطانوں کو کنکریاں مارتا ہے تو گویا تمام طاغوتی طاقتوں سے اپنی نفرت اور بیزاری ظاہر کرتا ہے۔اب اس کو اپنی عملی زندگی میں بھی ان تمام شیطانی قوتوں کے خلاف تیار اورباخبر رہنا ہے اور ان سے اپنی بیزاری اور ناپسندیدگی کا اظہار کرنا ہے۔ آج ہمارے مادی دور میں یہ طاغوتی قوتیں قدم قدم پر ہمارے خلاف گھات لگائے بیٹھی ہیں، کہیں یہ ہمیں جھوٹ، دھوکہ دہی،رشوت ستانی، بے حیائی اور ظلم پر اکساتی نظر آتی ہیں اور کہیں خود پرستی ، خود غرضی ، طاقت اور مال کے نشے میں مدہوش کئے جارہی ہیں اورہم اچھے برے کی تمیز کھوتے چلے جارہے ہیں۔

اب آتے ہیں قربانی کی طرف ۔حج کے دوران حاجی اور ہم عیدالاضحی پر جانور قربان کرتے ہیں،یہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر حضرت ابراہیم ؑ کی سنت کی پیروی ہے ۔ آپ کو خواب کے ذریعے اپنی سب سے پیاری چیز اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا۔ پیغمبروں کے خواب سچے ہوتے ہیں لہذا آپ اللہ کے اشارے کو سمجھ گئے۔ شفقت پدری سے مغلوب ہو کر بیٹے حضرت اسماعیل ؑ سے اللہ کے حکم کا تذکرہ کیا کہ بیٹے دنیا کی نعمتوں میں تم ہی مجھے سب سے پیارے ہو اور اب قادر مطلق کی طرف سے یہ حکم ملا ہے۔بیٹا بھی ایسا سعادت مند کہ فورا اللہ اور باپ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیااورقربان ہونے کو تیار ہوگئے۔ اللہ کو باپ بیٹے کی سعادت مندی ایسی بھائی کہ بیٹے کی جگہ آگے دنبہ رکھ دیا گیا لیکن حضرت ابراہیم ؑ تو بندھی آنکھوں کے ساتھ اپنے بیٹے کی گردن پر چھری چلا رہے تھے، اللہ کے حکم کی تعمیل کررہے تھے ،بس اللہ کی آزمائش یہی تھی کہ اللہ کے حکم کے سامنے کوئی دنیاوی محبت تو مانع نہیں ،جب آزمائش پر پورے اترے تو انعام کے طور پر آنکھوں کی پٹی اترنے پر پیارا بیٹا سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔اب کیا ہم اس عمل کی روح کو پاسکتے ہیں ۔بڑی بڑی قربانیوں کو تو چھوڑیں ہم تو اپنے نفس کی چھوٹی چھوٹی قربانیاں نہیں دے سکتے اور اللہ کی نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں حالانکہ ان قربانیوں کے اجر کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالی کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے کہ اگر وہ اس کی مان کرچلیں گے تو نہ ان کو کسی قسم کا غم ہوگا نہ خوف اورتمام اقسام کی فرسٹریشن اور پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔

عیدالاضحی پر قربانی ہمارا ایک ایسا مذہبی فریضہ ہے جو نہ صرف ہمیں روحانی طور پر سرشار کرتا ہے بلکہ ہمارے گردونواح میں بھی ایک پیار محبت ، بھائی چارے کی فضا بنتی ہے ۔آپ قربانی کا گوشت اپنے اردگرد لوگوں میں بانٹتے ہیں ۔اللہ کی نعمت کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں تو ان لوگوں کے دل خود بخود آپ کے لئے نرم ہو جاتے ہیں۔ ان کے دلوں سے آپ کے لئے دعا نکلتی ہے ۔آج کل تو گوشت ویسے بھی بہت مہنگا اور غریب آدمی کی پہنچ سے تقریبا باہر ہوگیا ہے لہذا فریزر بھرنے سے بہتر ہے اس کو بانٹ دیں ۔یقین جانیں آپ کو ایسی روحانی خوشی ملے گی جو آپ کی کئی روحانی اور ذہنی بیماریوں کو اپنے ساتھ بہا لے جائے گی اور آپ کا رب بھی خوش ہوجائے گا ،حضرت ابراہیم ؑ کا مقصد بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا تھا ہمارا بھی یہی مقصد ہونا چاہیے۔یہی کیفیت اللہ کا تقوی کہلاتی ہے ۔ اللہ کو جانوروں کا گوشت نہیں چاہیے بلکہ انسانوں کی طرف سے اللہ کا تقوی چاہیے ۔

مزید : کالم