مقبوضہ کشمیر پولیس نے بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی کے حکم پر عمل درآمد شروع کر دیا

مقبوضہ کشمیر پولیس نے بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی کے حکم پر عمل درآمد ...

جموں (کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر پولیس نے بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی کے حکم پر عمل درمد کے لیے کریک ڈوان شروع کر دیا ہے ۔ مقبوضہ پونچھ میں گائے کی خرید و فروخت سے وابستہ 10 افراد کو گرفتار اور 218 بڑے جانوروں اور 39 گاڑیوں کو ضبط کر لیا گیاہے ۔ شروع کئے گئے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران مغل روڈ پر 218 جانوروں کو ضبط کر لیا گیا جبکہ 39 ہلکی و بھاری گاڑیاں ضبط کر لی گئیں ۔ اس کے علاوہ 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ۔ گرفتار افراد کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔ جموں میں بڑے جانوروں کی تجارت روکنے کے لیے کئی مقامات پر خصوصی ناکے بٹھائے گئے تھے ۔ ریاستی ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر نرمل سنگھ نے چند دن قبل کٹہوعہ میں کہا تھا کہ ریاستی حکومت بڑے گوشت پر پابندی سے متعلق عدالتی فیصلہ کو من و عن نافذ کرے گی ۔ بڑے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کئے جانے کے خلاف وادی کشمیر میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے جہاں حریت کانفرنس کے دونوں گروپوں کے سربراہان سید علی گیلانی اور میر واعظ مولوی عمر فاروق ، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے محمد یاسین ملک ، متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر ، مجلس علماء ، مجلس تحفظ ایمان ، جماعت اسلامی ، جمعیت اہل حدیث جموں و کشمیر اور دیگر مذہبی و حریت پسند جماعتوں نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف قرار دیا ہے ۔

نیشنل کانفرنس ، سی پی آئی ( ایم ) کے واحد رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ و رکن اسمبلی انجینئر شیخ عبد الرشید نے پہلے ہی آنے والے ریاستی اسمبلی کے اجلاس میں بڑے جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق دستوری شقوں کے خاتمہ کے لیے بلز اسمبلی سیکرٹریٹ میں داخل کر دئیے ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ کی جموں شاخ نے 9 ستمبر کو گائے کو ذبح کرنے کے خلاف دائر کی گئی مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جمو ں و کشمیر میں بڑے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ( ڈی جی پی ) سے کہا کہ وہ ریاست بھر میں بڑے گوشت کی فروخت کو روکنے کے لیے تمام اضلاع کے ایس ایس پیز ، ایس پیز اور تمام پولیس اسٹیشنوں کے ایس ایچ اوز کو مناسب ہدایات دیں ۔

مزید : عالمی منظر