ایک ایسی پانی کی بوتل جسے آپ کھا بھی سکتے ہیں

ایک ایسی پانی کی بوتل جسے آپ کھا بھی سکتے ہیں
ایک ایسی پانی کی بوتل جسے آپ کھا بھی سکتے ہیں

  


نیویارک (نیوز ڈیسک) آج کل نہ صرف بازار میں پانی پلاسٹک کی بوتلوں میں ڈال کر فروخت کیا جاتا ہے بلکہ ہم گھروں میں بھی پانی کو محفوظ کرنے کیلئے پلاسٹک کی بوتلیں ہی استعمال کرتے ہیں۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ پلاسٹک نہ صرف صحت کیلئے مضر ہے بلکہ اسے تلف کرنا بھی مشکل ہے کیونکہ یہ زمین میں دفن کرنے پر بھی سینکڑوں سال گلے بغیر موجود رہتا ہے اور آلودگی کا باعث بنتا ہے۔ اب ذرا تصور کیجئے کہ اگر آپ کو پانی ایسی بوتل میں دیا جائے کہ جس میں سے پانی پینے کے بعد آپ بوتل کو کھا بھی سکیں تو کیسی اچھی بات ہوجائے۔

ایک موبائل ایپ جو آپ کو بڑے دھوکے سے بچا سکتی ہے

یہ حیرانی کی بات تو ہے لیکن دلچسپ حقیقت یہی ہے کہ سائنسدانوںنے سمندری گھاس اور کیلشیم کلورائیڈ کو ملا کر ایسی بوتل تیار کرلی ہے کہ جو نظر تو پلاسٹک جیسی آتی ہے لیکن اصل میں سو فیصد قدرتی اجزاءپر مشتمل ہے اور اسے کھایا بھی جاسکتا ہے۔ اسے "ooho"کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایجاد Alchemie Technologie کی طرف سے دو ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسے ہر طرح کی کھانے پینے کی اشیاءکی پیکنگ کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ پلاسٹک کی پیکنگ کا خاتمہ کرکے صاف ستھرے ماحول کے حصول میں بہت بڑا قدیم ثابت ہوگی۔

یہ خودکش بمبار اپنی موت سے چند منٹ پہلے کیوں رو رہا ہے؟ وجہ جان کر آپ کو مسلمانوں کی حالت زار پر رونا آئے گا

مزید : ڈیلی بائیٹس