سندھ اور خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی احتساب کی ہواچل پڑی

سندھ اور خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی احتساب کی ہواچل پڑی

(تجزیہ /نعیم الدین)

؂

سندھ اور خیبرپختونخوا میں احتساب کے اداروں کی جانب سے بدعنوانیوں میں ملوث سرکاری افسران اور سیاستدانوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو نوں صوبوں کے بعد کیا پنجاب میں اسی قسم کی کارروائیاں ہوں گی؟ نیب پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے گزشتہ دنوں دیئے گئے بیانات سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ عید الاضحی کے بعد احتساب کاعمل ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی شروع کردیا جائے گا اور کچھ حلقے یہ امکان ظاہر کررہے ہیں کہ حکمران مسلم لیگ کی کچھ شخصیات بھی اس کی زد میں آسکتی ہیں ۔ادھر سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اب تک سندھ میں ہونے والی کارروائیوں کو صوبے میں مداخلت قرار دے رہی ہے اور اس کا ذمہ دار وزیراعظم میاں نواز شریف کو ٹھہراتی رہی ہے لیکن اگر احتساب کا عمل پنجاب میں بھی شروع ہوجاتا ہے توپیپلزپارٹی اور ن لیگ ایک ہی صف میں کھڑے ہوجائیں گی ۔پھر کون سے کس سے شکوہ کرے گا ۔پیپلز پارٹی کا یہ بھی الزام ہے کہ ان کی پارٹی سے بدلہ لیا جارہا ہے، کیونکہ اس آپریشن سے سندھ کے محکموں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ گذشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے دبئی میں ہونے والے اجلاس میں یہ کہا گیا کہ نیب، رینجرز اور ایف آئی اے کی کارروائیوں کیخلاف پاکستان پیپلزپارٹی اب احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی ۔پہلے مرحلے میں پارلیمنٹ میں تحفظات کو اٹھایا جائے گا ۔اگر شنوائی نہیں ہوئی تو پھر عوامی احتجاج بھی کیا جاسکتا ہے جبکہ عدالتوں میں ان معاملات کو لے جانے کے لیے بھی پارٹی میں مشاورتی عمل جاری ہے ۔پیپلزپارٹی اگر جلسوں اور ریلیوں کی شکل میں اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں اس وقت جاری دہشتگردی کی صورتحال کے باعث کیا یہ ریلیاں مناسب ہونگی کیونکہ پیپلز پارٹی ماضی میں جلسوں اور جلوسوں میں بہت نقصان اٹھاچکی ہے۔پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ایک ایسے ہی عوامی اجتماع میں دہشت گردوں کا نشانہ بن گئی تھیں۔جبکہ کراچی میں 18اکتوبر 2007کو کارساز کے مقام پر نکالی جانے والی ریلی میں بھی ان پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 100سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ایسی صورتحال میں جبکہ ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر نہ ہو، ریلیوں کی قیادت کیا پی پی کی اعلیٰ قیادت کرسکے گی؟ اُن کو سیکورٹی کی کلیئرنس کون دے گا؟ پی پی کا کہنا ہے کہ سندھ میں دس اور پنجاب میں پانچ جلسوں سے بلاول بھٹو خطاب کریں گے۔ جبکہ بلدیاتی انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر ضلعی پوزیشن کومدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں گے۔ بلوچستان اور کے پی کے میں بھی پارٹی کی تنظیم نو پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اس وقت اپنی منزل سے بہت دور ہے ، اور اسے پارٹی کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن میں پارٹی سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات میں کچھ کر کے دکھائے۔اس کو شاید کچھ دوسری پارٹیوں سے بھی اتحاد کرنا ہوگا۔ یہ اتحاد اس نو عیت کا ہو کہ اس اتحاد میں تانگہ پارٹیاں شامل نہ ہوں تب کہیں جاکر صورتحال میں بہتری کے امکان ہوسکتے ہیں۔ بلاول بھٹو میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ تو موجود ہے لیکن برسوں پرانی پارٹی کو اپنے نظریات کے مطابق چلانا آسان نہیں ہوگا۔ پی پی میں اس وقت سندھ کی صورتحال کے باعث کافی کرائسز پائے جاتے ہیں۔کچھ حلقوں کو کہنا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے سندھ میں جو کچھ بھی کررہی ہیں ان کو روکنا وزیراعظم کے ہاتھ میں بھی نہیں ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب میں آپریشن ہوتا ہے تو ن لیگ کے لیے بھی اسی طرح کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔جس طرح کی صورتحال سے اس وقت پیپلز پارٹی گذر رہی ہے اور بلدیاتی انتخابات پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔

مزید : تجزیہ