بلدیاتی انتخابات، امیدواروں کی سلیکشن میں پسند و نا پسند غالب آنے لگی

بلدیاتی انتخابات، امیدواروں کی سلیکشن میں پسند و نا پسند غالب آنے لگی

لاہور( جاوید اقبال، لیاقت کھرل) بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کی سلیکشن کے پہلے مرحلہ میں پسند و نا پسند غالب آنے لگی۔پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں میرٹ کی بجائے سیاسی اور خاندانی اثرو رسوخ کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اہم رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کی مداخلت نے بھی زور پکڑ لیا ۔باخبر ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا اغاز ہونے پر سیاسی جماعتوں کے رہنماء اپنے رشتے داروں اور قریبی تعلق رکھنے والوں کو ’’نوازنے‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہیں، آمریت کے دور میں مسلم لیگ (ن) کیلئے قربانی دینے والے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نظر انداز ہو رہی ہے جبکہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں بھی سیاسی اثرو رسوخ اور پارٹی عہدیداروں کی مداخلت سے کارکنوں میں بددلی پھیل گئی ،جس کے باعث سیاسی کارکنوں نے اپنی پارٹیوں سے سے مایوس ہر کر دوسری جماعتوں سے رابطے بڑھا دئیے۔ ’’پاکستان‘‘ نے اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے بلدیاتی الیکشن کیلئے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کے طریقہ کار سے متعلق سیاسی جماعتوں کے ذرائع کا کہنا تھا کہ پارٹیوں کے اہم عہدیداروں اور ارکان اسمبلی نے اپنے عزیزوں اور قریبی تعلق رکھنے والوں کو بلدیاتی ٹکٹیں دلوانے کی کوششوں کو مزید تیز کر دیا ۔جس کے باعث سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں بددلی پھیلنا شروع ہو گئی۔ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ترجمان کا اپنے موقف میں کہنا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے لئے صرف میرٹ کی بنیاد پر ٹکٹیں دی جا رہی ہیں اس میں شفافیت کو مکمل طور پر ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مداخلت یا ارکان اسمبلی کی سفارشوں کو آڑے نہیںآنے دیا جا رہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات

مزید : صفحہ آخر