قربانی ہے کیا؟

قربانی ہے کیا؟

صحابہ کرامؓ نے نبی رحمتﷺ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے حبیبﷺ قربانی کی حقیقت کیا ہے؟ تو رحمت کائناتﷺ نے فرمایا تھا:

’’سنتہ ابیکم ابراہیم‘‘

’’ یہ تمہارے باپ سیدنا ابراہیم ؑ کی یادگار ہے‘‘۔ اللہ نے سیدنا ابراہیم ؑ کو84برس کی عمر میں بیٹا عطا کیا اور ساتھ ہی حکم دیا کہ اسے مکہ کے صحراؤں میں چھوڑ آؤ۔ سیدنا ابراہیم ؑ نے فوراً بیوی بچے کو ساتھ لیا اور بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئے۔ اس سے قبل اللہ کی خاطر گھر بار چھوڑنا پڑا تو چھوڑا، آگ میں پھینکا گیا تو اللہ کی خاطر قبول کر لیا اور اب تاریخ انسانی کا سب سے بڑا امتحان درپیش ہے کہ بوڑھا باپ، ارمانوں سے مانگے ہوئے بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں سے ذبح کرے۔ دل پہ ہاتھ رکھ کر ذرا تصور کیجئے کہ بوڑھا باپ ہے، تمام عمر اطاعت الٰہی میں گزاری، دعاؤں اور التجاؤں سے بیٹا ملا، جو امیدوں کا مرکز بھی ہے اور بڑھاپے کا سہارا بھی، مگر فوراً ربانی کی اطاعت کے لئے تیار ہو جا تے ہیں۔ سیدنا ابراہیم ؑ کے اس عمل کو اللہ تعالیٰ نے یادگار بنا دیا اور اس یاد کو تازہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو حکم ملا کہ ہر سال10ذوالحج کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق بہترین جانور کی قربانی پیش کریں۔

سمجھنا یہ ہے کہ قربانی کیا ہے اور ہمارے اس عمل میں اللہ تعالیٰ کو مطلوب کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ:یہ جو تم جانور ذبح کرتے ہو ان کا خون اور گوشت تو اللہ کو نہیں پہنچتا، بلکہ اللہ کا مقصود تو یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم ؑ کی طرح تمہارے شعور میں صرف اور صرف ایک ہی بات سما جائے کہ کس طرح اپنے مالک کو راضی کرنا ہے۔ پھر تمہاری زندگی و موت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، تمہارا اٹھنا اور بیٹھنا، تمہارا ہنسنا اور رونا، تمہاری خوشی اور غم الغرض تمہاری زندگی کے ہر سانس میں اپنے اللہ کی خوشنودی کا احساس غالب رہے۔ یہ اصل مقصود ہے قربانی کا اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا بہت بڑا ذریعہ ہے اس کی مخلوقات سے حسن سلوک ہے۔

اس طرح لاکھوں جانوروں کی قربانی ہے، مقصود اطاعت الٰہی کا وہ جذبہ پیدا کرنا ہے جو سیدنا ابراہیم ؑ کے دل میں تھا اور یہ وہ جذبہ ہے کہ کائنات کی کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کی محبت ہے ماورا نہیں ہے۔ پوری اسلامی تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ دولت کی چمک، نہ اقتدار کی ہوس، نہ باپ کی شفقت، نہ بیٹے کی محبت، نہ ماں کا ایثار، نہ بیوی کی الفت کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی محبت سے بڑھ کر ہو، بدر واحد میں بہتی ہوئی خون کندیاں اور دشمنان دین کے ہاتھوں دو لخت ہوتے ہوئے لاشے اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔

آیئے جانوروں کو قربان کرنے سے قبل اپنی خواہشات کو قربان کریں۔ جانوروں کا خون بہانے سے قبل اپنے دل میں اطاعت الٰہی کی شمع روشن کریں، امت کی وہ خیر خواہی بیدار کریں، جس نے نبی اکرمﷺ کی نیند و سکون کو ختم کر دیا تھا ، جس نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر دوسروں کو کھلانا سکھایا تھا اور یہی وہ چیز تھی جس نے صدیوں کے دشمنوں کو شیرو شکر بنا دیا تھا۔

اے اللہ ہمیں اپنی محبت عطا فرما، ان لوگوں سے ہمیں محبت کرنے کی توفیق عطا فرما، جو تجھ سے محبت کرتے ہیں اور ہمیں ایسے اعمال کی توفیق دے جو تجھے پسند ہیں۔ آمین یا رب العالمین

مزید : ایڈیشن 1