قربانی کی روح

قربانی کی روح

نبی کریمﷺ ہر سال قربانی کرتے تھے۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپؐ نے ہر سال قربانی کی۔ (ترمذی)

دین اسلام دراصل اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی اطاعت کا نام ہے۔ قربانی کے موقع پر اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے سب کچھ قربان کر دینے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اگر یہ جذبہ موجود نہیں تو ایسی بے روح عبادت کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ایک رسم ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ تمہارا تقویٰ ہی اس کی بارگاہ میں مطلوب ومحبوب ہے)۔۔۔ وہ صاحب حیثیت بھائی جو 50/60 ہزار روپے کا بکرا اور 1189 لاکھ تک کی گائے کی قربانی کا شوق رکھتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ غریب علاقے (جہاں لوگوں کو عید کے روز بھی گوشت نصیب نہیں ہوتا) ڈھونڈ کر مناسب قیمت کے جانور زیادہ تعداد میں قربانی کر دیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔

قربانی کی کھالیں

قربانی کی کھالوں کے صحیح حقدار سب سے پہلے اپنے قریبی غریب رشتہ دار ہیں۔ ان کے بعد گلی محلہ کے غریب، یتیم اور بیوہ کا حق ہے، لیکن بدقسمتی سے تنظیموں اور اداروں کے کارکن اتنی تیزی سے کھالیں اکٹھی کر لیتے ہیں، جس کے باعث حقیقی حق دار محروم رہ جاتے ہیں۔ ہمیں خود کوشش کرنی چاہئے کہ کھال یا اس کی رقم اپنے ہاتھوں سے صحیح حقداروں تک پہنچائیں۔

قصاب کی اجرت

بعض افراد قربانی کا گوشت بنوا کر کھال بطور اجرت قصاب کو دیتے ہیں، جو کہ ناجائز ہے۔۔۔ سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں قربانیوں کی کھال سے قصاب کو اجرت نہ دوں۔۔۔ (بخاری)

نماز عید سے پہلے قربانی

نماز عید کی ادائیگی سے قبل قربانی کرنا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ’’نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے، لہٰذا نماز عید ادا کرنے کے بعد قربانی کرنی چاہئے‘‘۔

نماز عید سے پہلے کھانا

عیدالاضحیٰ کے دن نماز ادا کرنے سے پہلے کوئی چیز نہیں کھانی چاہئے۔ اگر قربانی ہو تو کوشش کی جائے کہ قربانی کا گوشت کھایا جائے۔ (بخاری)

حجامت

قربانی کرنے والا ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد بال اور ناخن نہ کاٹے بلکہ قربانی کرنے کے بعد حجامت کروائے۔۔۔ (مسلم)

مزید : ایڈیشن 1