عید الاضحی و قربانی کے احکام

عید الاضحی و قربانی کے احکام

مولانا مجیب الرحمن انقلابی

عید الاضحی کے موقع پر اسلام میں قربانی کی بہت زیادہ فضیلت و عظمت ہے اور یہ قربانی ہر صاحبِ نصاب پر واجب ہے اور اس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ ’’جو شخص استطاعت رکھنے (صاحبِ نصاب ہونے) کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عید گاہ نہ آئے‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ)

قربانی ایسی فضیلت والی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی عمل پسند نہیں ہے۔قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول ہو جاتا ہے اور قربانی کرنے والے کی نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ؐ یہ قربانی کیا ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہیں قربانی کے جانور کے) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی، انہوں نے پھر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (جن جانوروں کے بدن پر اون ہے اس) اون کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اون کے ہر بال کے بدلہ میں بھی ایک نیکی ملے گی۔ (مشکوٰۃ)

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال قربانی فرمائی۔(مشکوٰۃ)

قربانی کے جانور شرعاً مقرر ہیں گائے، بھینس، بیل، اونٹ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ مذکر و مؤنث، دنبہ ، دنبی ان کے علاوہ کسی جانور کی قربانی درست نہیں اگرچہ وہ کتنا ہی زیادہ قیمتی ہو اور کھانے میں بھی جس قدر مرغوب ہو لہٰذا ہرن کی قربانی نہیں ہوسکتی اس طرح دوسرے حلال جانور قربانی میں ذبح نہیں کئے جاسکتے۔

گائے، بیل، بھینس، بھینسہ کی عمر کم از کم دو سال اور اونٹ ، اونٹنی کی عمر کم از کم پانچ سال اور باقی جانوروں کی عمر کم از کم ایک سال ہونا ضروری ہے۔ ہاں اگر بھیڑ یا دنبہ سال بھر سے کم کا ہو لیکن موٹا تازہ اتنا ہو کہ سال بھر والے جانوروں میں چھوڑ دیا جائے تو فرق محسوس نہ ہو تو اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ بشرطیکہ چھ مہینے سے کم کا نہ ہوا۔

چونکہ قربانی کا جانور بارگاہِ خداوندی میں پیش کیا جاتا ہے اس لئے جانور خوب عمدہ موٹا تازہ ، صحیح سالم، عیبوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ قربانی کے جانور کے آنکھ، کان خوب اچھی طرح دیکھ لیں اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان چرا ہوا ہو یا جس کے کان میں سوراخ ہو(رواہ الترمذی) اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ قربانی میں کن کن جانوروں سے پرہیز کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (خصوصیت کے ساتھ) چار طرح کے جانوروں سے پرہیز کرو (۱) ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔ (۲) ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ (۳) ایسا بیمار جانور جس کا مرض ظاہر ہو (۴) ایسا دُبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔ (مؤطا امام مالک، ترمذی، ابوداؤد)

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جس پر زکوٰۃ واجب نہیں اس پر قربانی بھی واجب نہیں یہ بات صحیح نہیں ہے۔ یوں کہنا تو درست ہے کہ جس پر زکوٰۃ فرض ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں کہ جس پر زکوٰۃ فرض نہیں اس پر پر قربانی بھی واجب نہیں کیونکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن پر زکوٰۃ فرض نہیں اس لئے ان کے پاس سونا، چاندی یا مال تجارت یا نقدی نصاب کے بقدر نہیں ہوتی لیکن بہت سا فاضل (ضروت اصلیہ سے زائدہ) سامان پڑا ہوتا ہے۔۔۔ اگر یہ فاضل سامان ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تو قربانی واجب ہو جاتی ہے لیکن زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی، اور ایک فرق اور بھی ہے وہ یہ کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا اس وقت فرض ہوتا ہے جب صاحبِ نصاب پرچاند کے اعتبار سے بارہ مہینے یعنی سال گذر جائے اورقربانی واجب ہونے کے لئے قربانی کی تاریخ آنے سے پہلے چوبیس گھنٹے گذرنا بھی ضروری نہیں ہے اگر کسی کے پاس ایک آدھ دن پہلے یا قربانی کے ان تین ایام میں ہی ایسا مال آیا جس کے ہونے سے قربانی واجب ہوتی ہے تو اس پر قربانی واجب ہو جائے گی۔

قربانی کا مقصد گوشت کھانا ، دکھلاوا یا ریاء کاری نہیں بلکہ ایک شرعی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک جان قربان کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بندہ کی نیت اور اخلاص کو دیکھا جاتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے۔ ’’اللہ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ ہی خون پہنچتا ہے بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘ (پارہ17، سورۃ الحج آیت 37)

مزید : ایڈیشن 1