عمران اور ریحام خان میں اختلاف؟ عمران نے تردید کر دی

عمران اور ریحام خان میں اختلاف؟ عمران نے تردید کر دی

تجزیہ چودھری خادم حسین:

لیڈر ہو، قائد یا عام آدمی کسی بھی خانگی زندگی اور امور کے بارے میں خبر تو کیا بات کرتے وقت بھی احتیاط لازم ہے لیکن کیا کیا جائے جب کوئی شخصیت سیاست میں آتی ہے تو پھر اس کی ہر حرکت اور امر عوامی ملکیت اختیار کر جاتا ہے عمران خان اب ایک بڑے سیاسی قائد ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر گوشہ کھلی کتاب ہی ہونا چاہئے جب ان کی دوسری (دونوں کی) شادی ریحام خان کے ساتھ ہوئی تو بڑی دھوم مچی اور مادام ریحام خان نے بھی اپنی نقل و حرکت سے خبروں کو دعوت دی یہ ان کے علم میں ہے کہ ان کا اپنا تعلق بھی صحافت اور الیکٹرونک میڈیا سے رہا اب عمران خان کو ٹوئیٹ کر کے کہنا پڑا ہے کہ ان کی خانگی زندگی کے بارے میں خبروں سے گریز کیا جائے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ریحام خان کے ساتھ اختلافات یا ان سے علیحدگی کی تردید کی ہے۔ اب کپتان صاحب کو کیسے سمجھایا جائے کہ جس سوشل میڈیا پر وہ فخر کرتے ہیں یہ بھی اسی کا کیا دھرا ہے اور یہ ساری بحث اسی پر ہو رہی ہے۔ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نے تو بڑی احتیاط کی ہے۔ ویسے عمران خان نے اپنی اہلیہ کو سیاست سے علیحدگی کی ہدایت کر کے بہتر کیا تھا۔ ہم نے اپنے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ جب میاں بیوی اہل اور سیاست میں ہوں تو اختلاف علیحدگی تک پہنچ جاتے ہیں ہم نے اس سلسلے میں نام لکھے بغیر اپنے دو دوستوں کی مثال بھی دی تھی۔ اب عمران خان بھی ان خبروں سے دو چار ہیں۔ اور سوشل میڈیا زیادہ سر گرم ہے۔ انہوں نے تردید کر کے تو بہتر کیا تاہم ریحام خان کی سرگرمیوں کو بھی محدود کیا ہے۔ اور ان کی ازدواجی زندگی کے لئے یہی بہتر ہے ہم اس کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

عدالت عالیہ کے فیصلے کے نتیجے میں ضمنی انتخابات میں انتخابی مہم کی پابندیاں ختم ہو گئیں اور عمران خان 5 اکتوبر سے لاہور کے حلقہ این اے 122 میں انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ تحریک انصاف کے کارکن اور خود امیدوار عبدالعلیم خان بہت پرجوش ہو گئے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ عدالت نے اجازت دی عمران خان شوق سے مہم چلائیں۔ ہم بھی اپنی قیادت میاں محمد نوازشریف، شہباز شریف اور دوسرے راہنماؤں کو بلائیں گے دوسرے معنوں میں عمران خان کو ملنے والی اجازت اتنخابی مہم کو متاثر کرے گی اور مقابلہ سخت ہو جائے گا۔ بہر حال مقابلے میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بھی حلقے میں جلسے کریں گے۔

دریں اثناء وزیر اعظم محمد نواشریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے پاکستان سے روانہ ہو چکے اور وہ برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔ یہاں سے امریکہ جائیں گے خطاب تو 30 ستمبر کو ہے۔ وزیر اعظم نے اس دورے سمیت دیگر اجلاسوں کے لئے بہت تیاری کی ہے۔ برصغیر کی سیاسی کشمکش امریکہ پہنچ گئی۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے امریکہ میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ مودی سے پہلے زمین ہموار کی اور امریکہ کے ساتھ ایک شراکت داری کر لی جو دہشت گردی کے حوالے سے ہے اس سلسلے میں امریکہ نے حسب روایت بھارتی موقف کی تائید کی اور بقول سشما امریکہ نے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے حمایت بھی کر دی ہے ۔ پاکستان کی طرف سے ایسی لابنگ نہیں کی گئی اور سارا بوجھ ملیحہ لودھی نے اٹھایا ہے بہر حال جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم نے صدر اوباما سے ملاقات کرنا ہے جو امریکی دعوت پر سرکاری دورے کے دوران ہو گی۔ موقع بھی اچھا ہے اور پاکستان اپنا موقف دہرا سکتا اور اصرار کر سکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا اور مسلسل ہو رہا ہے۔

مزید : تجزیہ