والدین کے بغیر ادھوری خوشیاں

والدین کے بغیر ادھوری خوشیاں
 والدین کے بغیر ادھوری خوشیاں

  


والدین کو اللہ کا دوسرا روپ قرار دیا جاتا ہے والدہ کا مقام اور والد کا مقام بھی کمال اہمیت کا قرار پایا ہے والدین کی جانشین جیسے ہم اولاد کے نام سے جانتے ہیں وہ بیٹا ہو یا بیٹی پیدائش سے شادی ہونے تک کی سیڑھیاں چڑھنے کا ہر مرحلہ بھی اہمیت کا حامل ہے آج کے کالم میں ایک سچا واقعہ تحریر کروں گا جو میری ذاتی زندگی کے قریب تر ہے موجودہ دور میں عموماً نئی نسل تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے ہم تو یہ تھے ہمارے والدین وہ تھے ہم اتنے امیر ہیں ہمیں ورثے میں یہ یہ ملا ہے میں ذاتی طور پر ان دعوؤں کو حقائق کے منافی سمجھتا ہوں آج کے کالم میں ذکر کیے گئے بعض پہلو میری ذاتی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں میرے والدین اب اس دنیا میں نہیں میری والدہ کو اللہ کو پیارے ہوئے 25سال مکمل ہونے کو ہیں میرے طالب علمی کے دور میں ہی مجھے اپنی والدہ اورپھر والد کی جدائی کا دکھ سہنا پڑا مگر ان کی زندگی کی کہانی آج کے کالم سے ملتی جلتی ہے۔

والدین کے بغیر عید کی خوشیاں کیسی ہوتی ہیں یہ بھی یاد ستائے گی،جب یہ کالم شائع ہو گا میں اللہ کی توفیق سے حج کی سعادت کے لیے موجود ہوں گا مجھے غریب محنت کش اور بھینسوں کو چارا ڈالنے والے اپنے والد محترم پر فخر ہے میں آج بھی اپنی والدہ کو اتنا ہی یاد کرتا ہوں جتنا شاید موجودہ دور میں درد رکھنے والے فرماں بردار اپنی والدہ کی تابعداری میں گزارہ ہوا وقت لگاتے ہیں آج بھی میں کسی کی ماں کو دکھ اور تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔ آج بھی کوئی دن ان کی یاد میں روئے بغیر نہیں گزرتا اس لیے عید قربان کے مبارک موقع پر اپنی اولاد سمیت اپنے احباب اور دوستوں سمیت تمام بچے بچیوں کے لیے بطور تزکیہ عرض کروں گا والدین اور عید کا تعلق بڑا گہرا ہے آج کی کہانی سے پہلے فرمان رسولﷺ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں کسی مرد صالح کا درجہ ایک دم سے بڑھا دیا جاتا ہے تو وہ جنتی بندہ پوچھتا ہے اے پروردگار میرے درجہ اور مرتبہ میں برتری کس وجہ سے اور کہاں سے ہوئی جواب ملتا ہے کہ تیرے واسطے تیری فلاں اولاد کی دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے ،میں اپنے سمیت ان والدین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہوں جو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اور جن کے والدین حیات ہیں ان کے لیے دعا گو ہوں اللہ ان کے دل میں رحم ڈال دے وہ والدین کی قدر کریں اور انہیں صرف پیسے بنانے اور فراہم کرنے والی مشین نہ سمجھیں۔ سچی کہانی پڑھیں۔

جب ابا جان کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے تب اماں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی، پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ دو مٹھی بچی ہوئی دالیں مسل لیتے پھر پیسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دیا جاتا حتیٰ کہ مزے دار حلیم سا بن جاتا اور ہم سب بچے وہ حلیم انگلیاں چاٹ چاٹ کر ختم کر دیتے اماں کے لیے صرف دیگچی کی تہہ میں کچھ ٹکڑے ہی بچتے اماں کا کہنا تھا کہ کھرچن کا مزا تم لوگ کیا جانو اور اماں ایسی سگھڑ تھیں کہ ایک دن گوبھی پکتی اور اگلے دن اسی گوبھی کے پتوں اور ڈنٹھلوں کی نبدی پکتی اور یہ کہنا مشکل ہو جاتا گوبھی زیادہ مزے کی تھی یا اس کے ڈنٹھلوں کی نبدی اماں جب بھی بازار جاتیں غفور درزی کی دوکان کے کونے میں پڑی کتروں کی پوٹلی بنا کے لے آتیں کچھ عرصہ بعد یہ کترنیں تکیے کے نئے غلافوں میں بھر دی جاتیں، پھر کترنوں سے بھرے تکیے پر اماں رنگ برنگے دھاگوں سے شعر کاڑھ دیتیں کبھی لاڈآتا تو ہنستے ہوئے کہتیں تم شہزادے شہزادیوں کے تو نخرے ہی نہیں سماتے جی، سوتے بھی شاعری پر سر رکھ کے ہو، عید کے موقع پر محلے بھر کے بچے غفور درزی سے کپڑے سلواتے ہم ضد کرتے تو اماں کہتیں وہ تو مجبوری میں سلواتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کسی کو سینا پرونا نہیں آتا میں تو اپنے شہزادے شہزادیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے سئیوں گی جمعتہ الوداع کا مبارک دن آتا تو لٹھے اور پھول دار چھینٹ کے دو آدھے آدھے تھان گھر لاتیں لٹھے کے تھان میں سے اَبا اور تینوں لڑکوں کے اور چھینٹ کے تھان میں سے دونوں لڑکیوں اور اماں کے جوڑے کٹتے اور پھر اماں ہم سب کو سلا کر سحری تک آپا نصیبن کے دیوار ملے کوارٹر سے لائی گئی سلائی مشین پر سب کے جوڑے سیتیں آپا نصیین سال کے سال اس شرط پر سلائی مشین دیتیں کہ اس کے میاں کا جوڑا بھی اماں سی کر دیں گی۔

چھوٹی عید والا تہوار تھا جس پر سب بچوں کو ابا ایک ایک روپے کا چاند تارے والا بڑا سکہ دیتے تھے اس کے انتظار اور خرچ کرنے کی منصوبہ بندی میں چاند رات آنکھوں میں کٹ جاتی صبح صبح نماز کے بعد ہی ہم بچوں کی شاپنگ شروع ہو جاتی بڑا بھائی تو ڈوکے تھیلے والے سے ایک پتی والی گول عینک خریدتا جسے پہن کر چال میں اتراہٹ سی آ جاتی پھر سب کے سب چاندی کے ورق لگی مٹھی املی خریدتے پھر خانہ بدوشوں کے خوانچے میں بھرے مٹی کے کھلونوں اور رنگین کاغذ اور بانس کے لچکدار تیلیوں سے بنے گھگو گھوڑے کی باری آتی سوڈے کی بوتل ایک خرید کر تمام بہن بھائی ایک ایک گھونٹ پی کر مزے لیتے بقر عید پر سب کے ہاں قربانی ہوتی سوائے ہمارے گھر کے مگر یہاں بھی اماں کی منطق دل کو لگتی کہ جو لوگ کسی وجہ سے دنیا میں قربانی نہیں کر سکتے ان کے بکرے اللہ میاں اوپر جمع کرتا رہتا ہے جب ہم اوپر جائیں گے تو ایک ساتھ سب جانور قربان کریں گے انشاء اللہ ایک دفعہ گڑیا نے پوچھا کہ اماں کیا ہم جلدی اوپر نہیں جا سکتے اماں چپ سی ہو گئیں ہمیں صحن میں چھوڑ کر اکلوتے کمرے میں چلی گئیں ہم بچوں نے پہلی بار کمرے سے سسکیوں کی آوازیں سنیں مگر جھانکنے کی ہمت نہ ہوئی سمجھ نہیں آیا گڑیا کی بات پر رونے کی کیا بات تھی کوئی چھ سات ماہ بعد ایک دن اماں باورچی خانے میں کام کرتے کرتے گر پڑیں ابا نوکری پر تھے ہم سب سکول میں تھے گھر آ کر پتہ چلا کہ آپا نصیبن اماں کی چیخ سن کر دوڑی دوڑی آئیں اور پھر گلی کی نکڑ پر بیٹھنے والے ڈاکٹر محسن کو بلا لائیں ڈاکٹر صاحب نے کہا اماں کا دل اچانک ساتھ چھوڑ گیا ہے تدفین کے بعد ایک دفعہ گڑیا نے میرا بازو زور سے پکڑ لیا اور یہ کہتے ہوئے پھوٹ پڑی کہ خود تو اوپر جا کر اگلی عید پر اکیلے اکیلے بکرے کھائیں گی اور ہمیں چھوڑ گئی ہیں۔ یہ ہے زندگی کا سبق آج میں اور میرے بچے ایک بکرے پہ رکنے کے لیے تیار نہیں گائے چائیے اور اونٹ چاہیے کہاں سے آئے گا کیسے آئے گا یہ نئی نسل کا مسئلہ نہیں ہے۔

مسئلہ ان کی ضرورتوں کے پورا ہونے کا ہے وہ پوری ہونی چاہئیں ماں باپ حلال لائیں یا حرام زندہ رہیں یا مر جائیں ان کا سوال زندہ ہے آپ ہمارے لیے کیا مختلف کرتے ہیں تمام والدین اپنے بچوں کے لیے کر رہے ہیں کیا وقت آئے گا جب بچے بھی والدین کے بارے میں سوچنا شروع کریں گے بچے بھی والدین کی ضرورتوں کا خیال کریں گے انشاء اللہ ضرور آئے گا کیوں کہ آج ہم جو بوئیں گے وہی کل انہیں کاٹنا پڑے گا نئی نسل ایسا ہر گز نہیں چاہے گی اپنا بھلا چاہے گی اور اپنی آنے والی نسل کا بھی جب یہ سوچ آئے گی تو انشاء اللہ گھروں کا ماحول بھی تبدیل ہو گا اور عید کی حقیقی خوشیاں بھی ملیں گی بکرا ملے نہ ملے گائے ملے نہ ملے مگر والدین ضرور چاہیں۔ !

مزید : کالم