چمگادڑ راج

چمگادڑ راج
 چمگادڑ راج

  


بھارت میں آج بھی کچھ نہیں بدلا۔ اکیسویں صدی میں ابھرنے والے متوسط طبقے سے یہ اْمید کی جا رہی تھی کہ وہ فرسودہ اور کہنہ روایتوں کو دانشمندانہ طریقے سے موضوعِ بحث بنا کر نئی روشنی سے بغلگیر ہو گا، مگر یہ امید خاک میں ملتی جا رہی ہے۔بھارت میں بڑے گوشت پر پابندی کا مسئلہ بھی ایک ایسا ہی واقعہ بن کر سامنے آیا ہے۔۔۔حالیہ دِنوں میں گوشت پر پابندی کا معاملہ بھارتی مسلمان پہلے سے موجود ’’گؤ ماتا‘‘ کے اس تصور کے ساتھ باندھ کر نہیں دیکھ رہے،بلکہ اِسے نریندر مودی کی جانب سے ہندو تعصب میں گندھے اقدامات کی ایک قطار میں دیکھ رہے ہیں، جو انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مرکزی حکومت کی حمایت کے ساتھ مسلسل جاری ہیں۔گھر واپسی، اردو زبان سے تعصب اورنئی مساجد پر کچھ نئے بھارتی دعوے نریندر مودی کی’’شاندار‘‘ حکومت میں تعصب کی نئی مہمات میں شامل ہیں۔ اب گوشت پر پابندی کا معاملہ اس میں نیا اضافہ ہے۔یہ غلط سمجھا جارہا ہے کہ گائے کا گوشت صرف کشمیر میں جنگ کا موضوع ہے،جہاں گائے کو ذبح کرنے پر تو پابندی کا سوسالہ ایک دقیانوسی قانون ہے، مگر مسلمان کو ذبح کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔

دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی کی نو صوبائی حکومتوں نے نو دن تک گوشت کھانے اور اس کی فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ نو دن بعد ’’گؤماتا ‘‘کو اس پر کوئی اعتراض کیوں نہیں ہوگا؟کوئی بھی ذی شعور شخص بآسانی اندازا لگا سکتا ہے کہ کسی ریاست کی روزافزوں معاشی ترقی اورتعمیر بھی اُس کے فرسودہ تصورات کو اتنی جلدی تحلیل نہیں کر پاتی۔ مہاراشٹر کی مثال سامنے ہے۔ جسے بھارت کی سب سے ترقی یافتہ ریاست سمجھا جاتا ہے۔ ممبئی جس کا دارالحکومت ہے۔ یہ وہی ریاست ہے، جہاں فی کس آمدنی پورے بھارت کی تمام ریاستوں سے 40 فیصد زیادہ ہے۔یہ فلم نگری ہے۔ اِسی زمین پر بھارت کی ہوائی و خلائی صنعت بھی کھڑی ہے، ٹیکنالوجی کی جدید دیوی بھی یہیں اِٹھلاتی ہے۔سیاحت کے سارے راستے یہیں مڑتے ہیں۔ تن پوشی کی صنعت یہاں لوگوں کو کپڑے پہناتی ہے اور فیشن کی دُنیا یہیں وہ کپڑے اُتروا بھی دیتی ہیں۔یہیں پر پٹرولیم کا کاروبار ہوتا ہے جسے دُنیا کالا سونا کہتی ہے۔ الغرض ایک صنعتی ریاست کے طور پر مہاراشٹر بھارت میں ایک قائدانہ حیثیت رکھتی ہے، مگر اسی ریاست میں بڑے جانور کے ذبیحہ اور اس کے گوشت کی فروخت پر مکمل پابندی بھی عائد ہے۔ انتہا پسند ہندو ایک خاص منصوبے کے تحت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو دیوار سے لگا رہے ہیں اور اْنہیں ریاست کے مرکزی دھارے سے نوچ کر پھینک رہے ہیں۔وہ نریندر مودی کی حکومت میں اس تیزرفتاری سے فعال ہوئے ہیں جیسے یہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو دبانے کا کوئی آخری موقع ہو۔ چنانچہ اسی عجلت نے اْنہیں مقبوضہ کشمیر میں بھی اِسی اقدام کو غیر منطقی بنیادوں پر اُٹھانے پر اُکسایا۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ کشمیر میں پہلے سے ہی بڑے گوشت کا استعمال نہایت کم ہوتا ہے اور وہاں بھیڑ کے گوشت کی رغبت زیادہ ہے۔ پھر کشمیر میں بڑے گوشت پر پابندی عائد کرنے کا تازہ حکم ایک بالکل غیر ضروری مشق تھی، کیونکہ یہاں پہلے سے ہی 1932ء کا ایک قانون نافذتھا ،جس کے تحت بڑے گوشت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ابھی اس قانون کی قانونی حیثیت کو ایک طرف رکھیے، مقبوضہ کشمیر میں تازہ معاملہ کیا ہوا ہے؟ دراصل ایک ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل کی طرف سے مفادِ عامہ کے نام پر ایک عرضی عدالتِ عالیہ جموں و کشمیر کے سامنے رکھی گئی، اور عدالتِ عالیہ نے ایک عبوری حکم نامہ جاری کردیا، جس کے تحت پولیس کو ہدایت کی گئی کہ وہ ریاست میں بڑے گوشت پر پابندی کو نہ صرف یقینی بنائے، بلکہ بڑے گوشت کے کاروبار میں ہی نہیں، اس کے استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی قانون حرکت میں لائے۔ اس طرح عدالت نے پہلے سے موجود قانون کو دوبارہ لاگو کیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک ملبوس شخص کو اس کے اوپر دوبارہ کپڑے پہنائے جائیں۔ عدالت تو پہلے سے موجود قانون کی خلاف ورزی کے بعد دخیل ہوتی، مگر یہاں معاملہ اوپر سے نیچے تک صرف ومحض مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کا ہے۔ چنانچہ مسلمان بھی اشتعال کا شکار ہوئے اور وہ اس قانون کی خلاف ورزی پر تُل گئے، جس کی عام حالات میں شاید اتنی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ اس کی تفصیلات سے اندازا ہو گا کہ بھارت کس طرح اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔

کشمیری کبھی بڑا گوشت کھانے کے حوالے سے معروف نہیں رہے۔ اُن کا مرغوب گوشت بھیڑ اور بکری کا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق وہ بھیڑ بکری کا ایک ہزار لاکھ کلو گرام گوشت سالانہ استعمال کرتے ہیں۔کشمیر میں بھیڑ بکریوں کے گوشت کی یہ ضرورت عام طور پر راجستھان اور پنجاب سے پوری ہوتی ہے۔اس میں بڑے گوشت کا حصہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے،مگر مودی حکومت نے ایک سوئے ہوئے مسئلے کو جگا دیا۔اب حال یہ ہے کہ کشمیر میں اس سال بھیڑ اور بکریوں کو کچھ سکون لینے کا موقع دیا جارہا ہے اور گائے کی قربانی کا بڑے پیمانے پر ماحول بن رہا ہے۔ کشمیریوں کی جانب سے سماجی رابطوں کے برقی مقامات (ویب سائٹس) پر اب یہ پیغامات پڑھنے کو مل رہے ہیں:’’عدالت نے عید کے موقع پر ہمارے جانور کے حقِ اختیار کو ’’قربان‘‘ کر دیا ہے،اِس لئے اب ہم قربانی کے دن بھیڑ اور بکرے کی جگہ پر گائے کی قربانی ہی دیں گے‘‘۔۔۔اس موقع پر ایک بار پھر کشمیر میں قاضی نثار کو یاد کیا جا رہا ہے، جس نے اننت ناگ کے لال چوک میں 1984ء میں کھلے عام گائے کی قربانی کر کے گائے کے گوشت پر پابندی کے قانون کے خلاف اپنا احتجاج محفوظ کرایا تھا۔ یہ تب کے پسندیدہ گورنر جموں وکشمیر کے طور پر جگموہن ملہوترہ کادور تھا۔صرف پابندی کے باوجود پابندی کی آڑ میں ایک فساد پیدا کرنے کے باعث کشمیر میں اس مرتبہ بہت سے قاضی نثار کھڑے ہو رہے ہیں،جو اس قانون پر بھی مختلف سوال اُٹھا رہے ہیں۔

تاریخی حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ 83 برس قبل ایک مطلق العنان ہری سنگھ کے دور میں بنایا گیا قانون تھا۔ یہ کوئی جمہوری دور کی قانون سازی نہیں تھی،بلکہ ایک مطلق العنانیت کے عہد کی آمرانہ روش تھی۔ 1846ء سے 1949ء تک ڈوگرہ راج کے عہدِ تاریک میں کشمیریوں پر قوانین سے نہیں احکامات سے حکومت کی جاتی تھی۔ گلاب سنگھ کے بعد دوسرے مہاراجہ رنبیر سنگھ کے عہد میں ایک خاتون کسی گائے کو مارکے بھگا رہی تھی، کیونکہ وہ گائے دھوپ میں خشک ہونے والوں کپڑوں کو مسلسل چبائے جارہی تھی۔ اس پر رنبیر سنگھ نے گائے کو بھگانے کے بجائے اْس خاتون کی زبان کاٹ دی تھی۔ ظاہرہے ایسے ماحول میں گائے کے ذبیحہ پر سزاؤں اور عمر قید کے قوانین ہی بن سکتے ہیں،چنانچہ 298اے دراصل رنبیر پینل کوڈ(آر پی سی) کے تحت دس برس قید اور جرمانے کی سزا کا قانون ہے۔ یہ ایک قانون تھا، مگر اِس کی کبھی بھی کوئی پروا نہیں کی گئی۔ اسے قوانین کی کتاب کا ایک دفن مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ اب عدالت کے ذریعے اِس مسئلے کو زندہ کیا گیا ہے تو اْس دور کے دیگر قوانین کی بابت بھی سوال اُٹھ رہے ہیں۔ مثلاً اُسی سال، یعنی 1932ء میں ایک قانون یہ بھی منظور کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر میں مہاراجہ کے سواکوئی بھی شخص کسی نوع کی بجلی پیدا نہیں کر سکتا۔ اس طرح ایک معمولی دْکاندار بھی جنریٹر کے ذریعے بجلی پیدا کرنے میں دھرا جاسکتا ہے۔ ایسی احمقانہ تاریخ میں بھارت خود اپنے مستقبل سے کھیل رہا ہے، جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو اب عدالت ، اسمبلی اور عوام کی سطح پرگائے کے ذبیحے کا مسئلہ ایک زندہ مسئلہ بن چکا ہے۔ بھارت میں کچھ بھی نہیں بدلا۔ یہاں عہدِ عمیق کی تاریکیوں کے چمگادڑ وں کا راج ہے اور اْن کو الٹا لٹکا دینے والی نئی روشنی کا کوئی استقبال نہیں کرنا چاہتا۔

مزید : کالم