اخبار فروش کی قربانی

اخبار فروش کی قربانی

پیارے قارئین!آج عیدالاضحی کا پہلا دن ہے۔ اس وقت آپ عید کی نماز پڑھنے کے بعد گھر آکر قربانی کی تیاریاں یا کسی عزیز رشتے دار کی طرف سے قربانی کا گوشت آنے کا انتظار کررہے ہوں گے۔ آج عیدالاضحی کے دن میں ایک الگ موضوع پر آپ سے ہم کلام ہونے والا ہوں۔

اس وقت آپ کے ہاتھ میں روزنامہ ’’پاکستان‘‘ ہے اور آپ میرا یہ کالم پڑھ رہے ہیں ذرا کالم سے نظر ہٹایئے اور سوچیے کہ آج عید کے دن بھی کِس طرح یہ اخبار آپ کے گھر پہنچا ہے؟ آج تو پورے ملک میں چھٹی ہے لیکن وہ کون ہے جو چھٹی کے دن بھی آپ کے گھر میں، آ پ کے کہنے پر یہ اخبار ڈال گیا ہے؟وہ کون ہے جس نے آپ کے اخبار کے مطالعے میں تعطل نہیں آنے دیا۔ گرمی ہو یا سردی، آندھی ہو یا طوفان کوئی ہے جو آپ کا خیال رکھتا ہے۔ آپ اپنی زبان میں اسے اخبار والا کہتے ہیں، اخبار فروش کہتے ہیں، ہاکر کہتے ہیں لیکن سچ پوچھیے تو یہ جوکوئی بھی ہے، ہم سب سے بڑھ کر ہے۔ ہم اپنی مرضی سے اپنے کام کی جگہ سے چھٹی لے کر گھر پر آرام کرتے ہیں۔ اپنے دفتر دیر سے بھی چلے جاتے ہیں، لیکن یہ شخص اپنی مرضی سے کبھی چھٹی نہیں کرتا، کر بھی نہیں سکتا۔ وہ ایک دن آپ کے گھر میں اخبار نہ ڈال کر جائے تو آپ فون کرکرکے اس کے کان کھا جاتے ہیں۔ چھٹی کیا، اگر اخبار ڈالنے میں معمول سے کچھ زیادہ وقت لگ جائے تو بھی آپ اسے فون کرتے ہیں اور اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں۔۔۔اگر میری آنکھ سے آپ دیکھیں تو اخبار فروش،آج کے معاشرے میں بہت سے صوفیانہ اور درویشانہ اوصاف کا پیکر ہے۔ اس میں وہ ساری خوبیاں نظر آتی ہیں:

اب دیکھنے کو جن کو آنکھیں ترستیاں ہیں

ذرا اخبار فروش کے اوصاف ملاحظہ کیجئے:

ہرروز صبح سویرے اٹھتا ہے اور اپنی بائیسکل یا موٹر بائیک پر سوار ہو کر اخبار مارکیٹ کی طرف چل پڑتا ہے۔گرمی ہو یا سردی، آندھی ہو یا بارش وہ اپنے معمول سے نہیں ہٹتا۔ وہ اخبار مارکیٹ کی طرف بھوکا پیاسا جاتا ہے۔ وہاں جا کر چائے کا کپ پی لے تو پی لے، ورنہ میں نے تو اپنے اخبار فروش بھائیوں کو اخبار تقسیم کرنے کے بعد ہی ناشتہ کرتے دیکھا ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ اخبار کے ہر اسٹال پر صبح سویرے لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے ان میں سے بیش تر لوگ مفت خورے ہوتے ہیں۔ وہ سرخیوں سے خبروں کے متن تک سارا اخبار مفت میں پڑھتے ہیں اور اپنے گھر کی راہ لیتے ہیں۔ اگر کوئی ایک آدھ اخبار خرید لے تو اخبار فروش صبر شکر کرتا ہے۔ اس کی یہ قناعت اسے صوفی کے درجے پر فائز کرتی ہے۔

ہمارے آج کے معاشرے میں جس شخص کا داؤ لگتا ہے، لگاتا ہے۔ نیچے سے اوپر تک یہی حال ہے ، لیکن اخبار فروش کو آپ نے کبھی داؤ لگاتے نہیں دیکھا ہوگا۔ وہ اخبار اسی قیمت پر فروخت کرتا ہے جو اخبار کی پیشانی کے نیچے درج ہوتی ہے۔ آپ اخبار ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم سے خریدیں یا ائرپورٹ کی بک شاپ سے اخبار فروش آپ سے کبھی زائد پیسے طلب نہیں کرے گا۔ ورنہ آپ جانتے ہی ہیں کہ ان مقامات پر آپ کو سادہ پانی بھی نہایت مہنگے داموں ملتا ہے۔ لوگوں کے دماغوں میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ اسٹیشنوں اور ایئرپورٹوں پر ہر چیز مہنگی ہی ملتی ہے۔

اخبار فروش کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ تازہ مال فروخت کرتا ہے۔ پُرانا مال وہ رکھتا ہی نہیں۔ اخبار خریدنے والا ہر آدمی سب سے پہلے اخبار کے اوپر لکھی تاریخ پڑھتا ہے پھر وہ اخبار خریدتا ہے۔ وہ لوگ جو کھانے پینے کی اشیاء پر اس کی تیاری اور زائد المیعاد ہونے کی تاریخ بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔وہ بھی اخبار کی تاریخ دیکھ کر اخبار خریدتے ہیں۔ ہمارے تجارت کرنے والے لوگوں اور اداروں نے تجارت کے اصول کبھی اپنائے ہی نہیں۔ ان کے نزدیک وہی اصول سب سے اچھا ہے، جس میں زیادہ پیسہ حاصل ہوتا ہے۔ گدھے، گھوڑے اورکتے کے گوشت کے افسانے یونہی تو عام نہیں ہوئے۔ اخبار فروش کو میں نے کبھی پیسے کے لالچ میں مبتلا نہیں دیکھا۔ وہ ذخیرہ اندوزی کرتا ہے نہ کر سکتا ہے۔اخبار میں خبریں خواہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہوں، وہ کبھی اخبار بلیک میں نہیں بیچتا۔ اونٹ کی نکیل ایک بچے کے ہاتھ میں ہو یا بڑے کے ہاتھ میں، وہ چپ چاپ اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔ اسی طرح اخبار فروش کے پاس کوئی بچہ جائے یا بڑا، وہ اسے وہی اخبار دیتا ہے جو وہ طلب کرتا ہے۔ گویا وہ دھوکا دینے کی کوشش نہیں کرتا۔ ہمارے دوسرے شعبوں کے تاجروں کا حال آپ کو معلوم ہی ہے کہ اگر ہم بچے کو سبزی یا پھل لینے کے لئے بھیج دیں تو دکان دار آدھے سے زیادہ مال خراب دے دیتا ہے۔

اخبار فروش کا ایک صوفیانہ وصف یہ ہے کہ یہ جہاں چاہے بیٹھ جاتا ہے اور اپنی دکان لگا لیتا ہے۔ وہ ہماری طرح بڑے بڑے دفتر نہیں مانگتا۔ ٹھنڈا کمرا کبھی اس کا خواب نہیں ہوتا۔اخبار فروش انتہائی صابر ہوتا ہے۔آپ دیکھیے کہ وہ پورا مہینہ اخبار آپ کے گھر ڈال کر جاتا ہے اور پیسے اتنے ہی لیتا ہے جتنے اس کے اسٹال پر آکر اخبار خریدنے والے ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ اس کے ساتھ ناانصافی نہیں؟ آپ دوسرے لوگوں سے کوئی چیز منگوائیں تو وہ ڈلیوری کے الگ چارجز وصول کرتے ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ ہم کئی بار اخبار کے ماہانہ بل کی ادائیگی قدرے تاخیر سے کرتے ہیں۔ بجلی، گیس ،پانی اورفون کے بل کی ادائیگی میں ہم ایک دن کی تاخیر کر دیں تو ہمیں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارا اخبار فروش ہم سے جرمانہ بھی وصول نہیں کرتا۔

تو پیارے قارئین! آج عیدالاضحی کا دن ہے۔ آج اپنی خوشیوں میں اپنے اخبار فروش بھائیوں کو بھی ضرور یاد رکھیں جو آپ کی خوشی کے لئے سارا سال اپنی بڑی بڑی خوشیوں کی قربانی دیتے ہیں۔۔۔آخر میں میرا ایک شعر ملاحظہ کیجیے :

اُداس بیٹھا ہے اخبار بیچنے والا

کھڑے ہیں مُفت میں اخبار دیکھنے والے

مزید : کالم