جانوروں کے بیوپاری سے پولیس اہل کاروں کی زیادتی

جانوروں کے بیوپاری سے پولیس اہل کاروں کی زیادتی

ضلع گجرات میں ایک اندوہناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب قربانی کے لئے لائے ہوئے 60بکرے عوام ایکسپریس کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ یہ ایک بیوپاری کے تھے جو عیدِ قربان کے موقع پر فروخت کے لئے لایا تھا ۔ ایک خبر کے مطابق پولیس چوکی جنوو کل کے پولیس والے قریب لگی مویشی منڈی میں آئے اور بکرے پسند کر کے بیوپاری سے قیمت پوچھی، بھاؤ تاؤ ہوتا رہا، بیوپاری نے ایک حد کے بعد نرخوں میں کمی سے انکار کر دیا، اس پر یہ پولیس اہلکار، جو ایک سب انسپکٹر کی قیادت میں تھے، برہم ہو گئے اور انہوں نے بیوپاری کو زدوکوب کرنے کے ساتھ ہی اس کے بکرے ریلوے لائن کی طرف بھگا دیئے، اتفاق سے اُسی وقت عوام ایکسپریس آ گئی اور بکرے اس کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے، ان کی تعداد60تھی، اس صورت حال نے بیوپاری کو شدید صدمہ پہنچایا اور وہ بے ہوش ہو گیا، ساتھیوں نے بمشکل اسے ہوش دلایا تو وہ رونے اور واویلا کرنے لگا، پولیس اہلکار وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔ اس نقصان اور بیوپاری کی حالت دیکھ کر دوسرے ساتھیوں نے مل کر احتجاج کیا اور جی ٹی روڈ بلاک کر دی، ڈھائی گھنٹے تک سڑک بند رہی، جس کی وجہ سے سڑک کے دونوں طرف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، پولیس کے اعلیٰ حکام موقع پر آئے، طویل مذاکرات کے بعد ٹریفک بحال کرائی اور سب انسپکٹر سمیت پانچ اہلکار معطل کر کے تحقیقات شروع کرا دی گئی۔

پولیس کے حوالے سے ایک سے ایک کہانی اور واقعہ سامنے آتا رہتا ہے، تاہم یہ اپنی نوعیت کا الگ ہی معاملہ ہے، اس میں بیوپاری کی سال بھر کی تمام جمع پونجی ختم کر دی گئی اور اب وہ محتاج ہی نہیں، مقروض بھی ہوگیا ہے کہ اس نے اِن بکروں کی پرورش کے لئے ادھار بھی لے رکھا ہے۔ متعلقہ اعلیٰ پولیس افسر نے اہلکاروں کو معطل کر کے تحقیقات تو شروع کرا دی ہے، مگر اِس سے بیوپاری کو کیا حاصل ہو گا؟ تحقیقات پیٹی بھائی کریں گے اور تجربہ بتاتا ہے کہ ان کے پاس سو عذر ہوں گے۔ سوال تو یہ ہے کہ اِس بیوپاری کا لاکھوں روپے کا جو نقصان ہوا وہ کیسے پورا ہو گا؟ بیوپاری ابھی تک اپنے حواس بحال نہیں کر سکا۔ اِس سلسلے میں وزیراعلیٰ کو خود نوٹس لینا ، اور بیوپاری کے نقصان کا ازالہ بھی کرنا چاہئے۔ ان پولیس اہلکاروں کو مثالی سزا بھی ملنی چاہئے کہ یہ سرا سر زیادتی ہے.

مزید : اداریہ