کیا پوپ فرانسس امریکہ میں قائد حزب اختلاف ہیں؟

کیا پوپ فرانسس امریکہ میں قائد حزب اختلاف ہیں؟
 کیا پوپ فرانسس امریکہ میں قائد حزب اختلاف ہیں؟

  


جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں ۔تو امریکہ میں عید ہے۔چھٹی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے بمشکل عید کی نماز پڑھی۔یہاں  پرقربانی کرنا بھی ایک مشکل کام ہے۔لہذا زیادہ تر پاکستانی قربانی پاکستان میں ہی کرواتے ہیں ۔تاہم جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے تو پاکستان میں عید ہو گی ۔حاجیوں کی شہادت نے پوری امت مسلمہ میں عید کو سوگوار کر دیا ہے۔امریکہ میں بھی ہر کوئی اپنے عزیز و اقارب کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہا تھاجو حج پر گئے ہوئے ہیں ۔لوگ افسردہ بھی ہیں اور دکھ کی کیفیت میں بھی ۔

اگر امریکہ کی بات کی جائے تو امریکہ میں صدارتی انتخابات کی خبریں آج کل غیر اہم اور پوپ فرانسس کا دور ہ امریکہ زیادہ اہم ہو گیا ہے۔پوپ فرانسس پہلے پوپ ہیں جنہوں نے گزشتہ روز امریکی کانگریس سے خطاب کیا ۔پوپ نے اپنے خطا ب میں گو کہ امریکہ کی عالمی پالیسیوں کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنانے سے پرہیز ہی کیا، لیکن پھر بھی پوپ نے عالمی سطح پر دولت کی غیر منصفانہ تقسیم۔ معیشت اور سرمایہ دارانہ نظام کی طاقت کے بل بوتے پر اپنی مرضی کے غیر منصفانہ فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے دنیا میں دولت کی بنیاد پر تقسیم اور فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس لئے امریکہ کے مضبوط سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی لابی کو کسی بھی طرح پوپ کا خطاب اور ان کی باتیں پسند نہیں آّئی ہیں۔

اسی طرح پوپ نے گو کہ براہ راست تو نہیں لیکن ہم جنس پرستی اور امریکہ میں حال ہی میں ہم جنس شادی کی اجازت پر بھی تنقید کی ہے۔انہوں نے سیدھی تنقید کرنے کی بجائے مضبوط خاندانی نظام اور خاندان کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔انہوں نے اسقاطِ حمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔اسی طرح پوپ کی باتوں سے امریکہ کے ترقی پسنداور لبرل بھی خوش نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ترقی پسند اور لبرل سے انسانیت اور دنیا کے خاندانی نظام کو خطرہ ہے۔

میں سوچ رہا ہوں کہ آج جب پوپ کی باتوں سے امریکہ کا ترقی پسند اور لبرل بھی اسی طرح خوش نہیں جیسے ہمارے ملک میں لبرل اور ترقی پسند مذہبی لوگوں کی باتوں سے خوش نہیں ہوتے ۔شائد مذہبی اقتدار کی بنیاد ایک ہی ہے اور کوئی بھی مذہب بنیادی انسانی اقتدار کی پامالی کی اس طرح اجازت نہیں دے سکتاجیسے آج کے ترقی پسند اور لبرل کہہ رہے ہیں ۔

قوم کے خطاب کی سب سے خوبصورت بات امریکہ میں امیگریشن کے سخت قوانین کی مخالفت تھی ۔آج امریکہ میں امیگریشن کے سخت قوانین کی بات کی جا رہی ہے۔امریکہ میں بڑے صدارتی امیدوار سخت امیگریشن قوانین کے حق میں بات کر رہے ہیں ۔امریکہ میں جو لوگ غیر قانونی طور پر موجود ہیں انہیں امریکہ سے نکالنے کی بات کی جارہی ہے۔نئے آنے والوں کے لئے دروازے بند کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ایسے میں پوپ فرانسس نے امریکی کانگریسمیں اپنے خطاب میں امیگریشن کے حق میں کھل کر بات کی ہے ۔انہوں نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا ہے کہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ امریکہ میں سب امیگریشن سے ہی آئے ہیں۔انہوں نے خو د اپنے بارے میں کہا کہ ان کے خاندان میں بھی امیگریشن تھی۔اس طرح جو قانون اور اصول کل آپ کے اور آپ کے والدین کے لئے ٹھیک تھا وہ آج غلط کیسے ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قوموں کو نا انصافی کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہیے ۔صرف آزادی کی   جدوجہد ہی قوموں کو ترقی دیتی ہے۔آزادی سلپ کرنے کے قوانین سے قومیں ترقی نہیں کر سکتیں۔ اس ضمن میں انہوں نے ابراہم لنکن اور مارٹن لوتھر کی مثالیں دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے آزادی کے لئے جدوجہد کی اس لئے وہ قوم کے ہیرو ہیں ۔

مجھے پوپ کے خطاب کے بعد ایسے لگا کہ پوپ حقیقی معنوں میں امریکہ میں قائد حزب اختلاف ہیں ۔وہ اپنی دھیمی اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں موجود ہ امریکہ کی ہر پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔بے ربط انگریزی میں وہ امریکی عوام اور معاشرہ کو جھنجھورنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔خود امریکی تجزیہ نگاروں کو بھی معلوم نہیں پوپ کی ان باتوں کا امریکی معاشرہ اور امریکی پالیسیوں پر کیا اثر ہو گا۔کیا وہ امریکی رائے عامہ کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔کیا امریکی پالیسی سازوں کے ذہن کو بدلنے میں کامیاب ہوں گے ۔پاپ کو امریکہ میں غیر معمولی پروٹوکول دیا جارہا ہے۔ویسے تو نیو یارک مین ہیٹن کی سڑکیں بند نہیں ہوتیں ۔اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے سیشن کے موقع پر جب بہت سے سربراہ مملکت اکٹھے مین ہیٹن میں موجود ہوتے ہیں تب بھی سڑکیں اور ٹریفک بند نہیں کی جاتیں لیکن پوپ کی آمد پر سیکورٹی بھی غیر معمولی ہے اور ٹریفک کے لئے سڑکیں بند کی گئی ہیں ۔

ابھی پوپ نے اقوام متحدہ سے خطاب کرنا ہے ۔وہ اس کے لئے نیو یارک پہنچ گئے ہیں ۔لیکن انہوں نے واشنگٹن میں جس طرح گفتگو کی ہے اس سے ان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے گفتگو کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔وہ دنیا میں اختلافات ختم کرنے پر بات کر رہے ہیں ،کمزور کی محرومیاں ختم کرنے پر بات کر رہے ہیں ،مسائل کی منصفانہ تقسیم پر بات کر رہے ہیں ،انسانیت تمام انسانوں کے ساتھ برابر کے سلوک کی بات کر رہے ہیں ، وہ سرمایہ داروں کو چیلنج کر رہے ہیں ۔ان کی باتیں مغرب کے حکمرانوں کو پسند نہیں آسکتیں لیکن شائد عیسائی رائے عامہ ان کے حق میں ہے اسی لئے وہ امریکہ میں قائد حزب اختلاف ہی ہیں ۔

مزید : کالم