پہلی بار رمی جمرات 5 گھنٹے بند، نماز عصر کے وقت بحال،منیٰ سے آنکھوں دیکھا حال

پہلی بار رمی جمرات 5 گھنٹے بند، نماز عصر کے وقت بحال،منیٰ سے آنکھوں دیکھا حال
 پہلی بار رمی جمرات 5 گھنٹے بند، نماز عصر کے وقت بحال،منیٰ سے آنکھوں دیکھا حال

  


اسلام آباد (ویب ڈیسک)  بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے کمپیوٹر سائنسز ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر شہزاد خالد نے  بتایا کہ یہ سانحہ جمرات (چھوٹے درمیانے بڑے شیاطین) کے وسیع و عریض ہال تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سانحہ وسیع و عریض علاقے (کئی کلومیٹر رقبے) میں واقع دنیا بھر کے آئے ہوئے حجاج کے مکتبوں تک پھیل گیا، رمی جمرات کے لئے بیک وقت لاکھوں حاجج سعودی حکومت کی طرف سے بنائے گئے وسیع و عریض متعدد پلوں پر کندھے سے کندھے ملا کر چل رہے تھے کہ رمی جمرات کے ہال کے اندر اور باہر درجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ سے 49 سینٹی گریڈ تک چلے جانے کے نتیجے میں دو درجن کے لگ بھگ مرد و خواتین دم گھٹنے سے اس وقت جاں بحق ہوئے جب وہاں ہال میں حجاج کی تعداد گنجائش سے بڑھ جانے کی وجہ سے دم گھٹنے لگے۔ اس کے نتیجے میں دھکم پیل شروع ہو گئی۔

روزنامہ جنگ نے لکھاکہ جیو نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹر شہزاد خالد نے بتایا نوبت یہاں تک پہنچی کہ رمی جمرات کے وسیع و عریض کئی منزلہ ہالوں سے حجاج بھگدڑ افراتفری کے باعث صرف واپس جانے والی کشادہ سڑکوں کے علاوہ اوپر آنے والے پلوں سے بھی تیزی سے اترنے لگے۔ اس دوران درمیانی جنگلے کی دیوار حجاج نے جانیں بچانے کے لئے توڑ ڈالی۔ اس موقع پر سکیورٹی فورسز نے رمی جمرات بند کرا دی۔ ساڑھے دس گیارہ بجے یہ سانحہ رونما ہوا اور میتیں ساڑھے تین بجے تک اٹھائی جاتی رہیں۔ اس کے بعد جمرات کے راستے کھول دیئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بھگدڑ میں جو حاجی گرا وہ اٹھ نہیں سکا۔ اس کے اوپر دوسرے حجاج بھاگتے ہوئے گزرتے رہے۔ اس طرح انسانوں کے قدموں کے نیچے زندہ حجاج بھی جاں بحق و زخمی ہونے لگے۔

اسی دوران الجزائر والوں کے کیمپ کے اندر شارٹ سرکٹ ہوا، ایک خیمہ جل گیا۔ وہاں بھگدڑ مچی، بھگدڑ سٹریٹ 204 تک کے کئی کلومیٹر راستوں تک پھیل گئی۔ اس بھگدڑ میں درجنوں پاکستانی خواتین و مرد حجاج شہید و زخمی ہو گئے۔ مکتب نمبر 7 کے اردگرد خیموں سے پاکستانیوں کے رونے دھونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی تیرہ کے محمد افضل خان کی اہلیہ طاہرہ افضل جن کی عمر 50 سال سے زیادہ تھی وہ ہسپتال جاتے ہوئے مالک حقیقی سے جا ملیں۔

مزید : اسلام آباد