انسانی حقوق کے ”ٹھیکے دار“دو یورپی ممالک کی تارکین وطن کے ساتھ ایسی شرمناک حرکت کہ انسانیت بھی شرماجائے

انسانی حقوق کے ”ٹھیکے دار“دو یورپی ممالک کی تارکین وطن کے ساتھ ایسی شرمناک ...
انسانی حقوق کے ”ٹھیکے دار“دو یورپی ممالک کی تارکین وطن کے ساتھ ایسی شرمناک حرکت کہ انسانیت بھی شرماجائے

  


پیرس(نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلوں سے بچتے بچاتے تارکین وطن یورپ تو جاپہنچے ہیں مگر وہاں ایک ملک انہیں دھکے دیتا ہے تو بیچارے دوسرے میں چلے جاتے ہیں لیکن پھر وہاں سے بھی نکال دئیے جاتے ہیں، اور یوں یہ مظلوم جگہ جگہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ پناہ گزینوں کے معاملے پر یورپی ممالک آپس میں لڑنے لگے ہیں اور ایک دوسرے کی سرحدوں کے پار پناہ گزینوں کو دھکیلنے کا شرمناک کھیل شروع ہوچکا ہے۔

ایک ایسا ہی افسوسناک واقعہ فرانس اور بیلجیئم کی سرحد پر پیش آیا جہاں بیلجیئم کی پولیس نے درجن بھر پناہ گزینوں کو فرانس کی سرحد کے اندر لیجا کر چھوڑدیا، جس پر فرانس سراپا احتجاج بن گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فرانس نے اپنے شمالی ہمسائے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے اور اسے غیر قانونی پناہ گزین فرانس کی سرحدوں میں دھکیلنے پر انتہائی غیر ذمہ دار ملک قرار دیا ہے۔

دوسروں پر جنگ مسلط کرنے والاامریکہ خود ’خانہ جنگی‘کا شکار ہوگیا، لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے، ہر طرف چیخ و پکار

دوسری جانب بیلجیئم کے پولیس کمشنر جارج آئک کا کہنا تھا ”ہم نے یہ کام پیسوں کے لئے تو نہیں کیا ، یہ انسانی سمگلنگ نہیں ہے، ہم نے تو صرف ان کی مدد کی ہے، ہم نے ان پناہ گزینوں کو کچھ فاصلے تک اس جگہ چھوڑدیا ہے جہاں وہ جانا چاہ رہے تھے۔“

فرانسیسی حکومت اس بیان کو ماننے پر تیار نہیں ہے اور بدھ کے روز فرانسیسی وزیر داخلہ نے اپنے بیلجیئن ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات کرکے باقاعدہ طور پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ فرانسیسی حکومت کے ایک اہلکار نے تو بیلجیئم کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا، ” یہ قانون کی خلاف ورزی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو بھی ختم کرسکتی ہے۔ آئندہ ایسا نہ ہو۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...