وہ جڑواں بہنیں جن کی نہ صرف شکلیں ملتی ہیں بلکہ۔۔۔ ایسی مماثلت کے ڈاکٹر بھی چکراگئے

وہ جڑواں بہنیں جن کی نہ صرف شکلیں ملتی ہیں بلکہ۔۔۔ ایسی مماثلت کے ڈاکٹر بھی ...
وہ جڑواں بہنیں جن کی نہ صرف شکلیں ملتی ہیں بلکہ۔۔۔ ایسی مماثلت کے ڈاکٹر بھی چکراگئے

  


ڈھاکہ(نیوزڈیسک) کئی جڑواں بچوں کے چہرے کے خدوخال ملتے ہیں لیکن یہ بنگلہ دیشی جڑواں بہنوں کے نہ صرف خدوخال ملتے ہیں بلکہ دونوں کے جسم کے ایک ہی حصے پر تل ہیں۔تفصیلات کے مطابق رابعہ اوررکیہ اس حد تک ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں کہ ان کے جسم پر ایک ہی جگہ تل ہیں لیکن یہ گہری مماثلت ان کی زندگی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ان کے والدین تسلیمہ خاتون اور محمد رفیق السلام کو ان کی پیدائش سے قبل تک یہ علم نہ تھا کہ یہ دونوں بچیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور ان کے سر جُڑے ہوئے ہیں۔ان بچوں کی ڈلیوری بڑے آپریشن کے ذریعے ہوئی اور پیدائش کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیاہے۔ان کی والدہ تسلیمہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ دونوں بچیوں کی دیکھ بھال کرتی ہے ۔اس کاکہنا ہے کہ پیدائش کے بعد جب اس نے پہلی بار ان بچیوں کو دیکھا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ میں کس طریقے سے ان بچیوں کو پکڑوں گی اور میں کس طرح ان کی دیکھ بھال کروں گی۔

وہ بچہ جو بھیڑئیے کی طرح دکھتا ہے،ایسا کیوں ہے جان کر آپ اپنے تندرست ہونے پر شکر ادا کریں گے

ڈاکٹر ان بچیوں کی دیکھ بھال کرنے کے ساتھ اب اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کس طریقے سے ان بچیوں کو آپریشن کے ذریعے ان کے سروں کو علیحدہ کیاجاسکے گا۔ڈاکٹر رحیم کاکہنا ہے کہ وہ ان بچیوں کے بڑے ہونے کا انتظار کریں گے اور دو سال بعد اس بات کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ کب یہ آپریشن کیا جائے گا۔اس کاکہنا ہے کہ یہ بہت ہی پیچیدہ آپریشن ہے لہذا اس بات کو حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آپریشن کا میاب ہوگا یا نہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...