ایک کپ چائے کا سوال ہے، بابا

ایک کپ چائے کا سوال ہے، بابا

خدا معلوم میرے اس حق کی پامالی پہ کون سی عدالت غور کرے گی کہ پاکستان کے باغ و بہار شہر لاہور کی مال روڈ پر اب ڈھنگ کا کوئی چائے خانہ نہیں رہا ۔ انگریزی شاعر جان کیٹس نے کہا تھا کہ شاعری یوں نازل ہونی چاہئے جیسے موسم آنے پر درختوں پہ خود بخود پتے کھلنے لگتے ہیں ۔ اہل ذوق کے لئے چائے کا حصول بھی شعر کے نزول کی طرح ہے، جس کے بے ساختہ پن میں رکاوٹ آ جائے تو ایک عجیب سی بے لطفی کا احساس ہونے لگتا ہے ۔ کہنے کو تو پوسٹ ماسٹر جنرل کے دفتر سے لے کر میاں میر کی چھاؤنی تک اس شاہراہ پر پانچ ستاروں والے دو ہوٹل واقع ہیں، لیکن اول تو ان کے نرخ روح فرسا حد تک اونچے ہیں ، پھر چائے پینے کے لئے آدھ آدھ کلو وزن کے کھلے منہ والے کپ اور سب سے بڑھ کر یہ شرط کہ ہوٹل کے احاطے میں داخل ہونے سے پہلے ایک ’امپورٹڈ‘ کتا آپ کو سونگھے اور چال چلن کی تصدیق کرے ۔

اگر عام کھانے پینے کی طرح چائے بھی محض ایک غذا ہوتی تو اس ضرورت کو پورا کرنے کے انتظامات کو چادر اور چار دیواری کے اصول کے تابع کیا جا سکتا تھا ۔ پھر بھی تجربے کی بات یہ ہے کہ گھر کی چائے اس گمبھیر دانشوری ، محفل آرائی اور ایک گونہ وارفتگی کی متحمل نہیں ہو سکتی جس کے لئے طبیعت کسی ٹی ہاؤس ، کیفے یا ریستوراں کی فضا میں بلا امتیازِ رنگ و نسل و ملت ہنگامۂ یاراں برپا کرنے کے لئے مچلتی رہتی ہے ۔ چائے نوشی کی ان دو روایات کے درمیان جو نازک سا کیفیتی فرق ہے ، اسے شائد وہی لوگ سمجھ سکیں،جنہوں نے گھر میں بیٹھ کر بال بچوں کے ساتھ ڈی وی ڈی پر کوئی نہ کوئی فلم تو دیکھی ، لیکن اس لذت کو فراموش نہ کر سکے جو دوستوں کی ٹولی کے ہمراہ سنیما جانے اور بعد ازاں کئی کئی دن تک کہانی ، موسیقی اور مکالمات کی جگالی کر کے حاصل کی جاتی تھی۔

کم عمری میں ہمارا سنیما کا شوق تو خیر کبھی کبھار ہی پورا ہوا، لیکن ہوش سنبھالتے ہی اپنے گر د و پیش میں چائے نوشی کے جو رجحانات دیکھے ان کی بدولت دفتری شخصیات ، نیم کاروباری افراد اور محنت کش طبقے کے الگ الگ سماجی مسالک بھی سمجھ آ نے لگے ۔ جیسے مکس یا رلی ہوئی چائے اور اس کے مقابلے میں سیپریٹ یا وکھری وکھری جس کے ساتھ کچھ لٹرم پٹرم ضرور ہوتا ۔ عام طور پہ کشمش والا پیلے رنگ کا فروٹ کیک اور اس کے ساتھ نمک پارے ، جنہیں ہمارے سیالکوٹی آبا و اجداد ’مٹر‘ اور لاہوری ننہال ’پوپٹ‘ کہتی۔ پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں آباد ہمارے بیشتر رشتہ داروں کو ، جو چائے کی افادیت کے بارے میں تشکیک کا شکار رہے ، اس کی چسکی لینے کے لئے ’کس چڑھنے‘ کا انتظار کرنا پڑتا ۔ گویا سویاں عید کے عید اور چائے بخار کے بخار۔

ویسے عزیز و اقار ب کے درمیان چائے نواز اور چائے مخالف رویوں کا باہمی اختلاف ذرا اکیڈمک نوعیت ہی کا تھا ، جیسے ترقی پسند ی کے زیر اثر ’ادب برائے زندگی‘ کا نعرہ اور حلقہ ارباب ذوق کے تحت ’ادب برائے ادب ‘ کا نظریہ ۔ یہ تو بعد میں پتا چلا کہ ان دونوں مکاتب فکر کے علاوہ ایک انقلابی دھارا اور بھی ہے ، اور وہ ہے ’زندگی برائے چائے نوشی‘ کی تحریک ، جس کے وجود کا انکشاف میرے والد کے بڑے پھوپھی زاد بھائی نے ایک ہی نشست میں چائے کی بائیس پیالیاں پی کر کیا تھا ۔ ذاتی حافظے میں اس تحریک کے دوسرے علمبردار ناصر کاظمی کے ہم عصر شاعر اور ہمارے پڑوسی خواجہ شاہد نصیر تھے ، جنہوں نے پیالیاں گننے کا تکلف کبھی نہ کیا ، ہمیشہ چینیکیں ہی گنتے رہے ۔ عیالدار ی کے پس منظر میں ان دونوں بزرگوں کی چائے کاری بالآخر گھر اور دفتر تک سمٹ کر رہ گئی۔یوں بلا کشان چائے میں اگر کسی ہول ٹائمر ریستوراں گرد کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے تو وہ میرے بی اے کے استاد پروفیسر زمرد ملک کے سوا اور کوئی نہیں ، جن کے سینکڑوں شاگرد اور دوست اس کی تصدیق کریں گے کہ مرحوم چائے کے عشق میں ’ہمہ اوست‘ کی منزل پر پہنچے ہوئے تھے ۔

پروفیسر ایرک سپرئن ، منظور احمد صاحب اور امین مغل کے دوست اور ہمکار زمرد ملک نے چائے ٹیکنالوجی کے زور پر جس طرح دوران تدریس میری ’خرد کو غلامی سے آزاد‘ کیا ، وہ ایک لذیذ حکایت ہے۔ سر دست اتنا ہی کافی ہے کہ فکر و عمل میں خوشگوار انکساری کی ایک بھر پور لگن نے ان کے برٹرینڈ رسل ، آلڈس ہکسلے اور جدید امریکی ناولوں کے مطالعہ کو آخری وقت تک شاہ حسین کی کافیوں ، ہاشم شاہ کی سی حرفیوں اور امرتا پریتم ، دلیپ کور ٹوانہ ، نجم حسین سید اور بلونت گارکی کے فن پاروں سے جوڑے رکھا ۔ تخلیقی نظم و نثر ، مصوری اور فن کتابت سے ان کا شغف ویسے ہی تھا جیسے انہوں نے آبائی شہر میانوالی کو چھوڑ کر بمبئی ، امرتسر ، ساہیوال ، لاہور اور سیالکوٹ میں رہتے ہوئے لارڈز ریستوراں ، امیلیا ہوٹل ،جناح اسلامیہ کالج کی ٹک شاپ اور اسی کالج کے نواح میں اللہ رکھا ٹی سٹال کی میزبانی سے اپنے منفرد تو حید پرستانہ انداز میں ایک سا لطف لیا۔

یہ تمام چائے خانے مہمان نوازی کے الگ الگ پیرایوں کی یاد گاریں ہیں ۔ ٹھیک ہے ان کی دلنوازی میں گوروں کے آخری دنوں والے ’لورینگ‘ کی خوشبو ، اس سے چند قدم آگے سٹینڈرڈ ہوٹل کی ’سویٹ سکسٹین ‘ رقاصہ انجیلا کے غمزے اور فلیٹی کا ’فلیٹی چیوڈ‘ دکھائی نہیں دیتا ، لیکن ایک اور طرح کا تنوع تو موجود تھا ۔ جیسے آزادی کے بعد مال روڈ کے آر پار دونوں شیزانوں میں اگر ظرفِ قدح خوار دیکھ کر ایک مدت تک چائے ’پر ہیڈ‘ نرخوں پر ملتی تھی تو راولپنڈی چھاؤنی کے ووگیز ، سی بی مارکیٹ والے کامران اور گورڈن کالج روڈ کے قیصر ہوٹل میں فل سیٹ اور ہاف سیٹ کا اعشاری نظام رائج رہا ۔ اس دور کی چونی مارکہ چائے ایک تیسری کیٹگری تھی ، جس کے جھونگے‘ کے طور پر کیفے زم زم میں پاکستانی اور بھارتی فلموں کے گراموفون ریکارڈ ایک نغمہ فی ’کوپ‘ کے حساب سے اپنے وقت کے معروف شاعر شاہد مسعود ، تاریخ کے نامور استاد خرم قادر اور یاروں کے یار ’شیدا ٹلی‘ سمیت ہر جی دار پنڈی وال طالب علم نے ضرور سنے ہوں گے۔

نئے زمانے کی گرین ٹی ، فروٹی قہووں اور کشمیری چائے سے ہٹ کر ، ہماری روائتی چائے کے اجزائے ترکیبی اب بھی وہی ہیں جو پچاس ساٹھ سال پہلے کی عوامی اصطلاح میں لپٹن یا کالی چائے کے ہوا کرتے تھے ، یعنی ’پانی ، مٹی ، آگ ، ہوا‘ کے وزن پر ’ پتی ، پانی ، چینی ، دودھ‘ ۔ معاشرے کے مختلف طبقوں میں ظاہری طور پر چائے کی جو بھی اقسام رائج ہوئیں ان کی رنگا رنگی کا دارومدار انہی اجزاء کے الگ الگ ترتیب و تناسب پہ رہا ہے ۔ یوں کہہ لیں کہ کون سی چیز پہلے اور کونسی بعد میں ڈالی جائے اور متعلقہ اجزاء کے ملاپ کا دورانیہ کیا ہو ۔ یہ تو ہے بنیادی ترکیبِ نحوی ۔ کچھ عوامل اس کے علاوہ بھی ہیں ، جیسے پتی میں رنگ ، مہک اور ’کسالت‘ کی سطح ، دودھ ڈبے کا ہے ، گوالے سے لیا یا پھر پاؤڈر مِلک ۔ اسی طرح پانی تازہ ہے یا وہی جو متحدہ پنجاب کے گورنر فرانسس موڈی کی چھوڑی ہوئی کسی کیتلی میں آج تک ری سائیکل ہوتا رہا۔

درمیانے طبقے کے مشروب کے طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چائے کا مستقبل کیا ہے ؟ اس کا حتمی جواب دینے میں بڑا رِسک ہے ۔ ہاں ، اس دوران دو واقعات ایسے ہوئے ہیں جو ہیں تو غیر جمالیاتی،مگر ان سے آنے والے دنوں میں چائے نوشی کے امکانی رجحان پہ روشنی پڑتی ہے ۔ ایک ہے ٹی بیگ کی مقبولیت ، دوسرے ڈسپوزایبل کراکری‘ کا رواج۔دونوں ایجادات کا مطلب ہے کہ کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا‘ ۔ ان ڈبہ نما پیالوں کی بدولت چائے کا شمار اب مکمل طور پر ’قابل گنتی‘ اصناف میں ہونے لگا ہے ’چار چاہواں سٹو ، ادھی درجن کافیاں دیو‘ ۔ ساتھ ہی مقدار کے لحاظ سے لارج ، میڈیم اور سمال کی تخصیص کر دی گئی ہے ۔ یہ تو وہی بات ہوئی نا جیسے اسلام آباد کے جی نائن سیکٹر میں ایک نامی گرامی مورخ کے گھر جاتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور نے کہا تھا ’گریڈ انیس میں ہوں گے، جس کے جواب میں بی بی سی والے وقار بھائی نے حیران ہو کر جواب دیا تھا کہ میاں ، یہ انیس بیس کیا ہوتا ہے ، ہمیں تو ڈاکٹر رئیس احمد خاں سے ملنا ہے۔

چائے کی اصل بے توقیری صرف کاغذی پیرہن کے باعث نہیں ۔ خفت اس وقت ہوتی ہے جب مال روڈ سے بہت دور ایک بڑے نام والے چائے خانے میں چائے مانگنے پر نام سے بھی طویل تر مینیو آپ کے ہاتھ میں دے کر آنکھوں آنکھوں میں پوچھا جاتا ہے کہ ’بتا تیری رضا کیا ہے ؟‘ چائے مانگنے والا چاروں طرف کے بے ربط شور سے پریشان ہو کر دوبارہ فہرست پہ نظر ڈالتا ہے جس میں آٹھ نامانوس ناموں کے بعد جن کی ردیف ’ٹی‘ ہے، نویں نمبر پہ واحد قابل فہم لفظ درج ہے ’چائے‘۔ مانگے والا اسی پر انگلی رکھتا ہے ، اور پھر کچھ ہی دیر بعد ایک مگ میں بے حرارت مٹھاس ، رنگت، تلخی اور دودھ کا عجیب و غریب آمیزہ تھما دیا جاتا ، جس کے اجنبی ذائقے میں کہیں کہیں شناسائی کے جزیرے بھی ہیں ۔ چائے نوش کو اپنے باطن کی آواز سنائی دیتی ہے ’لو و ، ہور چوپو‘ ۔ وہ سینکڑوں روپے میں رہائی کا تاوان ادا کر کے اٹھتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ ٹی ہاؤس والے سراج صاحب اور چینیز لنچ ہوم کے حاجی حمید کا زمانہ تو لد گیا ۔ اب اگلی بار کیا بھٹہ چوک کا ڈرائیور ہوٹل بہتر رہے گا یا مال روڈ کا پانچ ستاروں والا کتا ۔

مزید : کالم


loading...