کبوتر کی جاسوسی؟ بھارتی بوکھلا گئے!

کبوتر کی جاسوسی؟ بھارتی بوکھلا گئے!
کبوتر کی جاسوسی؟ بھارتی بوکھلا گئے!

  


’’واسطہ ای رب دا توں جا ویں وے کبوترا، چٹھی میرے ڈھول نوں پچاونویں وے کبوترا‘‘ یہ ایک پنجابی فلم کے گانے کا ابتدائیہ ہے، جس میں نوراں(ہیروئن) دُلا بھٹی کو کبوتر کے ذریعے پیغام بھیج کر مدد کے لئے بلانا چاہتی ہے اور فلم کی ضرورت کے مطابق کبوتر ہاتھوں میں پکڑ کر گانا گاتی ہے، جب تک گانا ختم نہیں ہوتا کبوتر بھی ہاتھ میں رہتا ہے اور جونہی گانے کے آخری بول آتے ہیں نوراں (ہیروئن) کبوتر کو فضا میں اچھال دیتی ہے جو اڑان بھرنے کے بعد دُلا بھٹی کے ڈیرے کا رُخ کر لیتا ہے اور اُڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے۔ دُلا بھٹی کبوتر کو دیکھ کر فوراً اٹھتا اور اُسے پکڑ کر چھاتی کے نیچے ٹٹولتا ہے جہاں ایک نلکی سی ہے اور اس میں سے چٹھی نکال کر پڑھتا ہے اور پھر بلند آواز سے پکار کر کہتا ہے،’’نوراں میں آ ریا واں‘‘۔

یہ گیت اور سین یوں یاد آیا کہ بھارتیوں نے (پولیس والوں) دوسری مرتبہ ایک کبوتر پکڑا اور اسے پاکستان کا جاسوس قرار دے دیا ہے، اس سے پہلے بھی گزشتہ برس ایک ایسا ہی ڈرامہ کیا گیا تھا جو از خود فضا میں گم ہو گیا کہ اس کا سر پیر ہی نہیں تھا، اب پھر ایک پولیس والے نے کبوتر ہی پکڑا، ٹی وی پر دکھایا گیا، خوبصورت ہے اور پولیس والے کو بڑے دور کی سوجھی اور اُس نے پروں پر پیغام بھی دکھا دیا اور کہا کہ نمبر لکھے ہوئے ہیں، اس کبوتر نے بھارتی میڈیا پر خوب دھوم مچا دی ہے کہ مودی نے حالات ہی اس نہج پر پہنچا دیئے کہ ایسی کوئی بھی بات کہی جائے، بھارتی میڈیا اسے لے اُڑتا ہے، چنانچہ یہ کبوتر بھی امیتابھ بچن بن گیا، جس کی بہت مانگ اور جس کے بڑے پرستار ہیں۔

جہاں تک کبوتروں سے پیغام رسانی کا تعلق ہے تو ماضی میں یہ طریقہ بہت مستعمل تھا، خصوصاً دورِ بادشاہت میں پیغام رساں کبوتر پرورش کئے اور ان کی تربیت کی جاتی تھی، لیکن یہ پیغام رسان کبوتر انٹرنیٹ نہیں ہوتے کہ ایک سے زیادہ پتوں پر پیغام رسائی ہو سکے، اس دور میں ان کی تربیت یوں ہوتی تھی کہ یہ ایک شہر کے اپنے اڈے سے اُڑ کر کسی بھی دوسرے شہر کے اڈے تک چلے جاتے اور اِسی طرح اِدھر سے واپس بھی آ جاتے تھے، ان کی ساری مسافت یہی ہوتی اور مخصوص قسم کے کبوتروں کی تربیت کی جاتی تھی۔ یہ زمانہ گزر چکا، بلکہ یہ بھی عرض کریں کئی مرتبہ یہ کبوتر اپنی منزل تک پہنچ بھی نہیں پاتے تھے کہ راستے میں کوئی باز اُن کو دبوچ لیتا یا شدید آندھی میں یہ پیغام رسان گر کر کسی بلی کا ہاضمہ درست کرنے کے کام آ جاتا ہمیں تو اس پولیس والے پر حیرت ہے اور اس کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ کبوتر پکڑ کر اس کی نمائش شروع کر دی، اُسے تو چاہئے تھا کہ اُسے اُڑا کر منزل کی طرف جانے دیتا اور جہاں وہ بیٹھتا وہاں اُسے اور اُس گھر یا ڈیرے والے کو قابو کر لیا جاتا، لیکن اُسے تو جلدی تھی کہ بھارت میں پرنالہ بہنے کا الزام بھی پاکستان پر لگانے کا رواج ہے۔

برصغیر میں کبوتر پالنے اور ان کو اڑانے کا شوق بہت پرانا ہے، یہاں بڑی سوجھ بوجھ سے کبوتر خریدے جاتے ہیں اور پھر ان کو سدھایا بھی جاتا ہے کہ وہ اُڑ کر واپس اپنی چھت پر ہی آئیں۔ کبوتر بازی ایک شوق ہے، کبوتر باز ایسے دیوانے ہوتے ہیں کہ گرمیوں کی شدید دھوپ میں بھی چھت پر بیٹھے رہتے ہیں، پھر کبوتر بازوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ کبوتر فضا میں اُڑائے جاتے ہیں، مقابلہ یہ ہوتا ہے کہ کس کبوتر باز کا کبوتر زیادہ وقت زیادہ اونچا فضا میں رہتا ہے۔ دور بین آنے سے پہلے آنکھوں پر دونوں ہاتھوں کا پردہ کر کے دیکھا جاتا یوں بھی کبوتر باز کی نظر بہت تیز ہوتی تھی۔

برصغیر میں اب بھی کبوتر اڑانے کا شوق جاری ہے اور کبوتروں کے لئے چھتوں پر بڑے بڑے کھلے پنجروں کا بندوست کیا جاتا ہے، جہاں وہ آ کر بسیرا کرتے رات بسر کرتے ہیں۔ قارئین! یوں بھی ہندوستان کے مغل شہنشاہ جہانگیر کو ملکہ نور جہاں کی کبوتر والی ادا ہی تو پسند آئی تھی۔یہ بھی ایک بھارتی فلم ہی کا سین ہے کہ جہانگیر پائیں باغ میں موجود نور جہاں کو دو کتوبر پکڑا کر سنبھالنے کی ہدایت کرتا ہے اور جب واپس آتا ہے تو نور جہاں کے ہاتھ میں ایک کبوتر ہوتا ہے۔ جہانگیر پوچھتے ہیں۔ دوسرا کبوتر کہاں گیا، جواب آتا ہے، اُڑ گیا،سوال ہوتا ہے کیسے؟ تو جواب میں نور جہاں دوسرا کبوتر بھی فضا میں اڑا کر کہتی ہے، ’’ایسے‘‘ اور اسی ادا پر مستقبل کا شہنشاہ مر مٹا اور نور جہاں مستقبل کی ملکہ عالیہ بن گئی تھی۔

اب امکان تو یہی ہے کہ جو کبوتر بھارتی پولیس والے نے پکڑ لیا ہے وہ کسی بھارتی کبوتر باز ہی کا ہو گا، اگر کبوتر کو فضا میں چھوڑ کر جانے دیں اور اس کا پیچھا کریں تو وہ اپنے اڈے پر پہنچ کر بیٹھ جائے گا، پھر اُسے اور گھر والوں کو پکڑ کر تفتیش کر لیں ویسے کیا ہی دلچسپ نظارہ ہو اگر یہ کبوتر بھارتیہ جنتا پارٹی ہی کے کسی مرکزی رہنما کے گھر جا بیٹھے یا پھر لالو پرشاد کا ہو، اور لالو کو لالے پڑ جائیں۔یہ کبوتر کسی بھارتی کبوتر باز ہی کا ہو گا، بھارتی پولیس والے ذرا تفتیش کر لیں، شاید دھمکیاں دینے والے کسی بی جے پی والے ہی کا ہو۔

ایسا دوسری مرتبہ ہوا، ایک بار پہلے بھی کبوتر پکڑ کر پاکستان پر کبوتر کے ذریعے جاسوسی کا الزام لگایا گیا اور اب پھر یہی حرکت کی گئی جسے بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے کیا یہ دور کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی کا ہے؟ اگر ایسا بھی ہے تو کبوتر کو منزل تک جانے دیتے تو پتہ چلتا کہ کبوتر بازی توبہت سے بھارتی کرتے ہیں۔

سچ کہا جا رہا ہے کہ بھارت پر بوکھلاہٹ طاری ہے اور ہر سرکاری اہلکار گھوڑے کی بلا طویلے کے سر باندھنے کی فکر میں ہے اس سے بہتر تو یہی تھا کہ تنازعہ کشمیر کو تسلیم کیا ہے تو اس کے حل کے لئے بھی مذاکرات کر لیں۔ وادی میں ظلم کو بند کرائیں اور اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔

مزید : کالم


loading...