مہاجرین اور مسلمان مخالف جرمن پارٹی مقبولیت میں اضافہ

مہاجرین اور مسلمان مخالف جرمن پارٹی مقبولیت میں اضافہ

برلن(این این آئی)جرمنی کی مہاجرین اور مسلم مخالف سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ (اے ایف ڈی) کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات ایک تازہ سروے اور حال ہی میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے بھی واضح ہوئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اے ایف ڈی نامی سیاسی جماعت کی مقبولیت جانچنے کے لیے جرمن ریاستی براڈکاسٹر کی طرف سے کرائے جانے والے ایک سروے کے نتائج منظر عام پر آئے۔ ان نتائج کے مطابق اگر ملک میں وفاقی انتخابات ابھی کرائے جائیں تو محض تین برس قبل وجود میں آنے والی یہ جماعت 16 فیصد تک ووٹ حاصل کر سکتی ہے۔ مہاجرین اور مسلمان مخالف اس جماعت کی مقبولیت کی یہ اب تک کی بلند ترین شرح ہے۔ اس مہینے جرمنی کی دو ریاستوں میں ہونے والے صوبائی انتخابات میں اس جماعت نے توقعات سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس سروے کے مطابق اے ایف ڈی گرینز کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے جرمنی کی تیسری سب سے بڑی جماعت کے طور پر اْبھر کر سامنے آ سکتی ہے۔فی الحال اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ یہ جماعت حکومت میں بھی آ سکتی ہے۔ تازہ سروے کے جو نتائج سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق چانسلر میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو، 32 فیصد ووٹ حاصل کرے گی جبکہ ان کی اتحادی جماعت سی ایس یو، 22 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔ اس طرح اس اتحاد کو مجموعی طور پر 54 فیصد ووٹ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ شرح حکومت بنانے کے لیے کافی ہو گی۔ یہ بات البتہ یقینی نظر آ رہی ہے کہ اے ایف ڈی ریاستی اسمبلیوں کے علاوہ وفاقی اسمبلی میں بھی نمائندگی حاصل کر لے گی۔مہاجرین اور مسلمان مخالف سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ کی مقبولیت کی بڑی وجہ مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد دائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کے خیالات ہیں۔ ان کو تحفظات ہیں کہ اس سے جرمنی کا طرز معاشرت بدل سکتا ہے اور جرمنوں کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔اے ایف ڈی کو ووٹ ملنے کی ایک وجہ بھی دراصل چانسلر میرکل کی مہاجرین دوست پالیسی بنی۔ اے ایف ڈی کو رواں ماہ برلن سمیت دو ریاستوں میں نمائندگی تو مِل گئی مگر کوئی بھی سیاسی جماعت اسے بطور اتحادی اپنے ساتھ ملانے کو تیار نہیں ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...