پاکستان ویسٹ انڈیز کرکٹ سیریز2016ء، پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اب صرف جیت چاہئے!

پاکستان ویسٹ انڈیز کرکٹ سیریز2016ء، پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اب صرف جیت چاہئے!

یو اے ای کی کرکٹ گراؤنڈز میں شروع ہونے والی پاکستان ویسٹ انڈیز کرکٹ سیریز 2016ء میں پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کر لی ہے۔دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 27 ستمبر کو شیخ زید سٹیڈیم ابوظہبی میں کھیلا جائے گا یہ میچ بھی پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات نو بجے شروع ہوگا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز کے بعد تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 30 ستمبر کو شارجہ، دوسرا میچ 2 اکتوبر کو شارجہ جبکہ تیسرا اور آخری میچ 5 اکتوبر کو ابوظہبی میں کھیلا جائے گا۔ ون ڈے سیریز کے علاوہ دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچز بھی کھیلے جائیں گے اس سلسلے میں پہلا ٹیسٹ 13 سے 17 اکتوبر تک دبئی، دوسرا ٹیسٹ 21 سے 25 اکتوبر تک ابوظہبی جبکہ تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 30 اکتوبر سے 3 نومبر تک شارجہ میں کھیلا جائیگا۔ سرفراز احمد کی کپتانی میں کھیلنے والے کھلاڑی اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ کرکٹ کے میدان میں پاکستان کی عزت داؤ پر ہے اور اگر انہوں نے کھیل کا بہتر مظاہرہ نہ کیا تو دیگر کھیلوں کی بساط جس طرح ہاتھوں سے نکلی ہے اسی طرح کرکٹ بھی ایک قصہ پارنیہ بن سکتی ہے۔ تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم نے سابقہ ناکامیوں سے سبق سیکھا ہے اور ہوش کے ناخن لئے ہیں حال ہی میں عماد وسیم ٹونٹی 20میں 5وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی اسپنر بن گئے، انہوں نے ویسٹ انڈیز سے سیریز کے ابتدائی میچ میں 4اوورز میں 14 رنز کے عوض 5 وکٹیں لینے میں کامیابی حاصل کی ۔عماد وسیم سے قبل پاکستانی فاسٹ بولر عمر گل نے مختصر فارمیٹ میں دو بار 5، 5کھلاڑیوں کو پویلین چلتا کیا تھا، انہوں نے نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف یہ پرفارمنس پیش کی۔ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میں بہترین بولنگ کا اعزاز سری لنکا کے اجنتھا مینڈس کو حاصل ہے، انہوں نے زمبابوے کے خلاف ہمبنٹوٹا پر 2012 میں 8 رنز کے عوض 6 وکٹوں کا سودا کیا جب کہ اس سے قبل انھوں نے یہ کارنامہ پالے کیلی میں آسٹریلیا کے خلاف 2011 میں انجام دیا جس میں ان کی پرفارمنس 16 رنز کے بدلے 6 وکٹیں رہیں۔لہٰذا پاکستان اور ویسٹ انڈیزکے درمیان تین ٹوئنٹی20میچوں کی سیریز کے دوران دونوں ٹیموں کے پلیئرزکئی قومی وعالمی ریکارڈزکے بالمقابل اپنا نام لکھواسکتے ہیں۔سیریز میں 16 ریکارڈز ایسے ہیں جو ٹوٹیں گے ۔ان ریکارڈز میں پاکستانی مڈل آرڈربیٹسمین شعیب ملک پہلے میچ میں شرکت کرتے ہی 80ٹوئنٹی20انٹرنیشنل میچز کھیلنے کا اعزاز حاصل کرنے والے دنیاکے تیسرے کرکٹر بن جائیں گے سیریزکے تینوں میچوں میں شرکت کرکے ڈیوائن براووویسٹ انڈیزکی جانب سے سب سے زیادہ 66 ٹوئنٹی20میچزکھیلنے کا ڈیرن سامی کا ریکارڈ برابرکردیں گے ، شعیب ملک پوری سیریزمیں محض32رنز بناکر ڈیڑھ ہزار ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل رنزبنانے والے تیسرے پاکستانی کھلاڑی بن سکتے ہیں، تین میچوں میں 175رنز پاکستانی اوپنر شرجیل خان کو مختصر فارمیٹ میں 500رنزکا ہندسہ عبورکرنے والا نواں پاکستانی بیٹسمین بنا سکتے ہیں۔ مارلن سموئلز2جبکہ ڈیوائن براووسیریزکے دوران تین بار گیند باؤنڈری لائن سے باہر پھینک کر ٹوئنٹی20 انٹرنیشنلزمیں چھکوں کی ففٹی مکمل کرنے والے محض دوسرے یاتیسرے ویسٹ انڈین بیٹسمین بن سکتے ہیں پہلے میچ میں شرکت کرکے ویسٹ انڈین ٹیم 80+ میچز کھیلنے والی دنیاکی ساتویں ٹیم بن جائے گی ، پاکستان ٹیم اگر سیریزکے تینوں میچوں میں شرکت کرکے مجموعی طورپر 358رنزبنالیتی ہے تو وہ ٹوئنٹی 20انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں 15ہزار رنز کاسنگ میل عبورکرنے والی واحد ٹیم بن جائے گی۔ سیریزکے تینوں میچز کے دوران اگر پاکستانی بیٹسمین مجموعی طورپر 51چھکے لگانے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان ٹوئنٹی20انٹرنیشنل مقابلوں کی تاریخ میں 500چھکوں کا بڑاہندسہ عبورکرنے والی محض دوسری ٹیم بن جائیگی، پوری سیریزکے دوران گرین شرٹس بلے بازوں کے صرف آٹھ چوکے پاکستان کو 1300چوکوں کی مالک دنیا کی واحد ٹیم بنادیں گے۔ سیریزکے تین میچوں میں گرین شرٹس بیٹسمینوں کی محض چار ففٹیاں پاکستان کومختصر فارمیٹ میں سب سے زیادہ ففٹیوں کی مالک ٹیم بنادیں گی۔ تین میچوں میں محض تین وکٹیں حاصل کرکے سہیل تنویر ٹوئنٹی20انٹرنیشنلز میں وکٹوں کی ففٹی مکمل کرنے والے چوتھے پاکستانی بولر بن سکتے ہیں۔ محض دو شکارکرکے پاکستان ٹیم ٹوئنٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں 400شکار(بشمول فیلڈر/ وکٹ کیپر کیچز اور اسٹمپس)مکمل کرنے والی مجموعی طورپر تیسری ٹیم بن جائیگی، پاکستانی بیٹسمین عمراکمل تین میچوں کی ٹوئنٹی20 سیریزمیں محض تین کیچز تھام کر اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے کرکٹربن سکتے ہیں ، عمراکمل سیریزکے تینوں میچوں میں مردِمیدان کا ایوارڈ حاصل کرکے تاریخ میں 10+مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کرنے والے دنیاکے محض دوسرے کرکٹر بن سکتے ہیں، شعیب ملک سیریزکے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل کرکے ٹوئنٹی20انٹرنیشنلزکی تاریخ میں سب سے زیادہ تین مین آف دی سیریز ایوارڈز حاصل کرنے کا شاہد آفریدی اورویرات کوہلی کا مشترکہ ریکارڈ برابر کرسکتے ہیں۔ مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرنے والے شعیب ملک اور عمراکمل پوری سیریزکے دوران 203رنز اکٹھے جوڑ کر ٹوئنٹی20انٹر نیشنلز میں ایک ہزار شراکتی رنزبنانے والی پاکستان کی پہلی جبکہ دنیاکی محض تیسری جوڑی بن سکتے ہیں۔ ۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن ٹرافی حاصل کرنا میری زندگی کا یاردگار ترین لمحہ ہے اور اس کا مجھے مدتوں سے انتظار تھا ۔انہوں نے کہاکہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔قومی ٹیم کے اراکین ،کوچز ،پی سی بی کے عہدیدران اور کھلاڑیوں کی فیملیوں کا بھی آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں اہم کردار ہے ۔کھلاڑی سات سات ماہ تک ملک سے باہر رہتے ہیں اور ان کے خاندان کے افراد قربانی دیتے ہیں ۔ ، انہوں نے کہا کہ کپتانی اہم ہوتی ہے لیکن اگر ٹیم پرفارمنس نہ دے تو اکیلا کپتان کچھ نہیں کرسکتا ۔ پاکستان نے مستقبل میں کافی سخت سیریز کھیلنا ہے لیکن ہماری پوری کوشش ہوگی کہ پاکستان کی ٹیم کی پہلی رینکنگ لمبے عرصہ تک برقرار رہے ۔پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کھیلنا ہے اور اس کے بعد نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی سیریز ہیں جو کہ کافی مشکل اور چیل جنگ ہیں۔ایشیا کی ٹیمیں ان ممالک کی کنڈیشنز میں کھیلنے میں دقت محسوس کرتی ہیں لیکن انشاء اللہ قومی ٹیم توقعات پر پوری اترے گی ۔خواہش ہے کہ ریٹائرمنٹ سے قبل بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلوں ۔دونوں ممالک کے کرکٹرز ایک دوسرے کے خلاف کھیلنا اور عوام میچز دیکھنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے میں اہم رکاوٹ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کا نہ ہونا اور اپنی ہوم گراؤنڈ کی بجائے غیر ملکی کنڈیشنز میں کھیلنا تھا لیکن پاکستان ٹیم نے اس رکاوٹ کو بھی عبور کیا۔ یو اے ای کیکنڈیشنز جتنی بھی پاکستان کے حق میں بہتر ہوں لیکن پاکستان جیسی نہیں ہوسکتیں ۔ہوم گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کو کافی ایڈواٹج اور اعتماد ملتا ہے ۔ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوتا ہے ۔قومی ٹیم کو نیا ٹیلنٹ ملتا ہے ۔مصباح الحق نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی ہر کھلاڑی کو خواہش ہے اور اپنے ملک میں اپنے شائقین کے سامنے کپتانی کرنے اور پرفارمنس دکھانے کا اور مزہ ہے ۔امید ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ جلد بحال ہوگی ۔ مصباح الحق نے بتایا کہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں کامیابی نہ حاصل کرنے کا افسوس ہے ۔بطور کپتان اور بطور کھلاڑی ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ورلڈ کپ ونر ٹیم کا حصہ بنے ۔پاکستان ٹیم کو ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں اپنی پرفارمنس میں بہتری لانی ہوگی ۔ون ڈے اور ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں موجودہ دور کی ضرورت کے مطابق کھلاڑیوں کو اپنے آپ کو ایڈجسٹ اور محنت کرنا ہوگی ۔گراس روٹ سطح سے کھلاڑیوں کی تکنیک میں بہتری لانی ہوگی کیونکہ قومی ٹیم میں کھلاڑیوں کی تکنیک کو راتوں رات بہتر نہیں بنایا جاسکتا ۔سکول ،فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری کی ضرورت ہے ۔ کوئی کھلاڑی بھی اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوتا اور نہ ہی مسلسل پرفارمنس کا مظاہرہ کرسکتا ہے ۔اپنی خامیوں کو نظر میں رکھنے کی وجہ سے ہی ہم نے ٹیسٹ میں پہلی رینکنگ حاصل کی ہے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز 2-2سے برابر ہوئی ہے لیکن وہ سیریز ان کی زندگی کی یادگار سیریز ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان کی پی سی بی سے درخواست ہے کہ ملکی کرکٹ کے لئے اہم خدمات سر انجام دینے والے کھلاڑیوں کو باعزت طریقے سے رخصت کرے اور اس کے لئے کھلاڑیوں کی مشاورت سے کوئی پالیسی یا سسٹم تشکیل دے جس سے پی سی بی اور کھلاڑیوں دونوں کی عزت ہو۔مصباح الحق نے کہاکہ اس سلسلہ میں کھلاڑیوں بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پی سی بی عہدیدران سے بات چیت کرکے انہیں اعتماد میں لیں ۔دوسری جانب آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے پاکستانی سونے میدانوں کو آباد کرنے میں اپنی معذوری ظاہر کردی۔ان کا کہنا ہے کہ میرے یا گورننگ کونسل کے قائل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں سیکیورٹی ماہرین کو مطمئن کرنا ہوگا، امید ہے کہ جلد ہی ٹیمیں خود یہاں پر کھیلنے کی خواہش ظاہر کریں گی، تمام ممبر ممالک پاکستان کی کھیل میں عالمی سطح پر موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے تعاون کررہے ہیں۔ رچرڈ سن نے کہاکہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے حوالے سے میرے یا آئی سی سی کے قائل ہونے سے کچھ نہیں ہوگا، اصل بات سیکیورٹی ماہرین کو مطمئن کرنا ہے۔وہ پلیئرزاور ٹیموں کو کسی ملک میں جانے کے حوالے سے اپنی رائے دیتے اور یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، میں جانتا ہوں کہ پاکستان کی حکومت اور پی سی بی لوگوں کو قائل کرنے اور سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے اپنی بہترین کوششیں کررہا ہے، امید ہے کہ جلد ہی ایسے حالات ہو جائیں گے جس میں خود ٹیمیں پاکستان میں دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی خواہش ظاہر کریں گی۔ رچرڈسن نے کہا کہ دنیا بھر کے حالات واقعی دشوار ہورہے ہیں لیکن کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ دہشتگردی نے پاکستان کو نقصان پہنچایا، آئی سی سی ممبران ہمیشہ پاکستان کو سپورٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اس کے ساتھ یو اے ای یا کسی بھی دوسری جگہ کھیلنے کو تیار رہتے ہیں تاکہ وہ عالمی سطح پر کھیلنے کا سلسلہ برقرار رکھے۔انھوں نے کہاکہ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کا رکن رہا،ان کے ملک میں بھی انٹر نیشنل کرکٹ کے انعقاد میں رکاوٹ آئی تھی لیکن بعد میں آہستہ آہستہ بحالی ہوئی اور پاکستان میں بھی مستقبل میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس آئے گی۔ رچرڈسن نے کہاکہ آئی سی سی نے کئی بارپاکستان میں خصوصی ایونٹ منعقد کرانے کی کوشش کی لیکن جب حتمی شکل دینے کا مرحلہ آیا تو کوئی نہ کوئی سیکیورٹی کا بڑا مسئلہ سامنے آگیا،اپنے ایونٹس میں سیکیورٹی کے معاملات کو دیکھنا آئی سی سی کی ذمہ داری ہے لیکن باہمی سیریز میں دونوں ممالک کی رضامندی ہوتی ہے۔اصل چیلنج دنیا کی کرکٹ ٹیموں کو پاکستان میں سیکورٹی کی ضمانت دینا ہے تاہم آئی سی سی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ زمبابوین ٹیم کے دورۂ پاکستان کے دوران آئی سی سی میچ آفیشلز نہ بھجوانے کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہاکہ ہمیں سیکیورٹی ماہرین سے رائے لینا ہوتی ہے جس کے بعد میچ آفیشلز کو کسی جگہ بھیجنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے،ماہرین کی رائے کے خلاف یہ فیصلہ ممکن نہیں۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...