اے ایچ ایف ویمن ہاکی کپ، قومی خواتین ٹیم کا انتخاب تنازعات کا شکار

اے ایچ ایف ویمن ہاکی کپ، قومی خواتین ٹیم کا انتخاب تنازعات کا شکار

ایشین ہاکی فیڈریشن کپ کی تیاریوں کے لئے پاکستان کی خواتین ٹیم کا تربیتی کیمپ ان دنوں نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں جاری ہے۔ پی ایچ ایف نے یکم اکتوبر سے بنکاک میں کھیلے جانے والے ایونٹ کے لئے اولمپئن محمد عثمان کو خراب ٹریک ریکارڈ کے باوجود دوبارہ ٹیم کی کوچنگ کی ذمے داری سونپ دی جن کی زیر نگرانی قومی ٹیم نے گزشتہ ایونٹ میں بدترین کارکر دگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن پی ایچ ایف کے سیکرٹری شہباز سینئر کے ساتھ قربت کی وجہ سے وہ ایک مرتبہ پھر کوچ بننے میں کامیاب ہوگئے حتمی ٹیم کے انتخاب کے لئے سابق گول کیپر سلیم شیروانی کی سربراہی میں بنائی گئی سلیکشن کمیٹی جس کے دیگر ارکان ٹیم کے منیجر اولمپئن سعید خان اور سپورٹس بورڈ پنجاب کی ہاکی کوچ چاند پروین شامل تھیں جس اٹھارہ رکنی ٹیم کا انتخاب کیا اس میں حالیہ قومی چیمپئن شپ میں بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے والی پاکستان آرمی کی کپتان شاہدہ رضا کی عدم شمولیت نے اسے ابتداء ہی میں متنازعہ بنا دیاجبکہ سونے پہ سہاگہ کے مترادف فنڈز کی کمی کا رونا رونے والی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ٹیم کے ساتھ دو کھلاڑیوں کو بطور آبزرور بھیج کر سابقہ فیڈریشن کی طرح شاہ خرچیوں کا آغاز کر دیا، جبکہ اطلاعات کے مطابق قومی ٹیم کے ساتھ دو امپائرز اور دو ٹیکنیکل آفیشلز بھی بھیجے جارہے ہیں جس سے فیڈریشن کو کم از کم دس لاکھ روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے لیکن پی ایچ ایف کے صدر خالد سجاد کھوکھر ، سیکرٹری شہباز سینئر اور ویمن ونگ کی سیکرٹری تنزیلہ عامر چیمہ مصلحتوں کا شکار ہوکر اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔پی ایچ ایف کے موجودہ عہدیدار جو سابقہ فیڈریشن پر کرپشن اور سلیکشن میں اقرباء پروری کے الزامات عائد کرتے تھکتے نہیں تھے خود بھی انہی کی ڈگر پر چل پڑے جس کی مثال خواتین ٹیم کا اعلان ہونے کے باوجود اس میں مزید دو کھلاڑیوں گول کیپر رشناء خان اور ذکیہ نواز کی شمولیت ہے،جنہیں سابق گول کیپر سلیم شیروانی کی سربراہی میں قائم سلیکشن کمیٹی کے ارکان چاندپروین اورٹیم کے منیجر سعید خان نے مسترد کر دیا تھالیکن نادیدہ قوتوں کے اشارے پر دونوں کھلاڑی ٹیم کے ہمراہ بنکاک جائیں گی ۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ بیس رکنی خواتین ٹیم کسی مقابلے میں شرکت کرے گی، جس میں حیران کن طور پر تین گول کیپرز شامل ہوں گے۔عام طور پر ایسا اس وقت ہوتا ہے،جب ٹیم نے کسی بڑے مقابلے کی تیاری کرنا ہو، جبکہ قومی خواتین ٹیم کانمبر ساؤتھ ایشیاء میں بھی سب سے نیچے ہے۔روشناء خان کی ٹیم میں شمولیت کے لئے پی ایچ ایف ویمن ونگ کی سیکرٹری تنزیلہ عامر جبکہ ذکیہ نواز کے لئے ان کے ڈیپارٹمنٹ پاکستان ریلوے کے سپورٹس آفیسر راشد بٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے جو خود بھی انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے امپائرنگ انسٹرکٹر ہیں۔اس سے قبل قومی ٹیم کے ہمراہ جانے والی ویمن امپائر نگین بابر کی سلیکشن پر بھی خاصا شور مچا، جنہوں نے مقامی سطح پر کسی ایونٹ میں امپائرنگ نہیں کی لیکن ٹیم کے منیجر سعید خان انہیں ساتھ لے جانے پر بضدہیں جبکہ ٹیکنیکل آفیشل نبیلہ ایاز کو پنجاب ویمن ہاکی ایسوسی ایشن کی سیکرٹری راحت خان کی دوستی نے تھائی لینڈ کا ٹکٹ دلوایاہے۔ ہاکی سے وابستہ حلقوں نے خواتین ٹیم اور آفیشلز کے انتخاب میں اقرباء پروری کوقومی کھیل کے لئے مزید نقصان دہ قرار دیا ہے جو پہلے ہی آخری سانسیں لے رہا ہے۔قومی خواتین ہاکی ٹیم کے منیجر سعید خان کا موقف ہے کہ اے ایچ ایف کپ کے لئے دو مزید کھلاڑیوں کو بطور آبزرور پاکستانی دستے کا حصہ بنایا گیا ہے، لیکن ان کا اٹھارہ رکنی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، جبکہ قوانین کے مطابق میچ کے دوران ٹیم کے بنچ پر سولہ کھلاڑی بیٹھ سکتے ہیں اس طرح ٹیم کے ساتھ دو اضافی کھلاڑی پہلے سے موجود تھیں یوں قومی ٹیم کے ساتھ جانے والی اضافی کھلاڑیوں کی تعداد دو نہیں چار ہے۔پی ایچ ایف کی جانب سے منتخب ہونے والی امپائر نگین بابر کی سلیکشن پر بھی کئی سوالیہ نشان ہیں، جنہیں مقامی سطح پر امپائرنگ کا بالکل بھی تجربہ نہ ہونے کے باوجود حیران کن طور پر انٹرنیشنل ایونٹ کے لئے امپائر منتخب کیاگیا ۔غلطی کا احساس ہونے پر پی ایچ ایف نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایف آئی ایچ کے امپائر حیدر رسول کوخاتون امپائر نگین بابرکی ٹریننگ شروع کی ذمے داری سونپی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ذمے داران نے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو ان کا حشر بھی سابق صدر قاسم ضیاء اور سیکرٹری آصف باجوہ سے مختلف نہ ہوگا جو فیڈریشن میں کئے جانے والے گھپلوں کی پاداش میںآج بھی انکوائریاں بھگت رہے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...