سعودی خارجہ پالیسی اور پاکستان

سعودی خارجہ پالیسی اور پاکستان
سعودی خارجہ پالیسی اور پاکستان

  


سعودی عرب کا قومی دن نہا یت جوش و خروش سے منایا گیا۔ سعودی عرب بھی اس وقت پاکستان کی طرح عالمی سطح پر ایک عجیب دور سے گزر رہا ہے۔ جس طرح پاکستان آہستہ آہستہ امریکہ سے دور ہو رہا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب بھی عالمی صف بندی میں امریکہ سے دور ہو رہا ہے۔ امریکی کانگریس نے نائن الیون کے واقعہ کے حوالہ سے سعودی عرب کے خلاف ایک قانون پاس کیا ہے۔ گو امریکی صدر باراک اوباما نے اس قانون کو ویٹو کر دیا لیکن امریکی کانگریس اس قانون کو دوبارہ پاس کرنے کے درپے ہے۔

کون یقین کر سکتا ہے کہ امریکی کانگریس سے سعودی عرب کے خلاف قانون پاس ہو جائے گا، لیکن نئی عالمی صف بندی میں امریکہ سعودی عرب نہیں،بلکہ ایران کے ساتھ کھڑا نظر آرہا ہے۔ امریکہ سے اسی دوری نے سعودی عرب کو اپنی عالمی صف بندی تبدیل کرنے کے لئے سوچنے پر مجبور کیا ہے، لیکن اس ضمن میں سعودی عرب کے پاس بہت محدود آپشن موجود ہیں۔

دوسری طرف دنیا میں تیل کی گرتی قیمت نے سعودی عرب سمیت تمام تیل پیدا کرنے والی عرب ریاستوں کی معاشی حالت پتلی کر دی ہے۔ عالمی سطح پر امیر ترین ریاستیں اب امیر نہیں رہی ہیں۔ تیل کی گرتی قیمت نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ اسی صورتِ حال نے سعودی عرب کو اپنے حریف ایران کو بھی یہ پیشکش کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ایران اور سعودی عرب مل کر تیل کی پیدوار کو منجمد کر سکتے ہیں۔ گو ایران نے اس پیشکش کا ابھی تک جواب نہیں دیا، لیکن پھر بھی یہ پیشکش سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاس ہے۔ اسی طرح اگر سعودی عرب امریکہ سے دور ہو گا تو یقیناًعالمی سطح پر امریکہ کے مخالف جو گروہ ہے، اس کے قریب ہو گا۔

اسی تناظر میں چند ماہ قبل سعودی عرب نے پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کی بھی پیشکش کی ہے۔یہ پیشکش دو بڑی باتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ سب سے پہلا یہ کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات دوبارہ بہتر ہو رہے ہیں اور سعودی عرب پاکستان کے ساتھ تعاون کی نئی راہیں تلاش کر رہا ہے۔ حالانکہ یمن جنگ کے آغاز پر جب پاکستان نے سعوی عرب کو اپنی فوجیں یمن جنگ کے لئے دینے سے انکار کر دیا تھا تب پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کافی سرد مہری کا شکا رہو گئے تھے۔ لیکن امریکہ کی بدلتی پالیسی نے سعودی عرب کو اپنی پالیسی اور رویہ کو یکسر تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ دوسرا سعودی عرب پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بن کر سعودی عرب اور چین کے درمیان بھی تعاون کی نئی راہیں کھولنے کا خواہاں ہے۔ یقیناًچین اور سعودی عرب میں قربتیں سعودی عرب کو ایک نئے عالمی اتحاد کی طرف لیکر جائیں گی۔ اسی طر ح سعودی عرب اور روس کے درمیان بھی تعاون کی راہیں کھلیں گی جیسے پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اسی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے ایرانی صدر نے بھی وزیراعظم میاں نواز شریف کو ایرانی چا ہ بہار بندر گاہ کو پاک چین اقتصادی راہدری کا حصہ بنانے کی پیشکش کی ہے، حالانکہ چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری کی گئی ہے، لیکن اس پیشکش کو بھی سعوی تناظر میں ہی دیکھنا چاہئے، کیونکہ یہ سعودی پیشکش کے بعد آئی ہے۔

سعوی عرب کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سعودی عرب کا اعلیٰ ترین سول اعزاز دیئے جانے پر پاکستان میں بہت قیاس آرائیاں ہوئی تھیں، کہ چونکہ پاکستان نے سعودی عرب کو یمن میں جنگ کے لئے فوج نہیں دی، لہٰذا سعودی عرب نے بھارت کو گلے لگا لیا ہے، حالانکہ سعوی عرب اور بھارت کے تعلقات کبھی خراب نہیں رہے۔ تا ہم اس اعلیٰ ترین سول اعزاز کے حوالے سے ایک سعودی سفارت کار نے بتا یا کہ یہ تیل کی ڈپلومیسی کے تناظر میں دیا گیا تھا، کیونکہ بھارت سعوی عرب سے تیل خریدنے والا ایک بڑا مُلک ہے اور ایران سے پابندیاں اُٹھنے کے بعد سعودی عرب کویہ خطرہ تھا کہ بھارت اس سے تیل خریدنا بند یا کم نہ کر دے ۔ لہٰذا تیل کے اس آرڈر کو برقرار رکھنے کے لئے مودی کو یہ اعلیٰ ترین سول اعزاز دیا گیا۔ اس کا سعودی عرب پاکستان تعلقات سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ویسے کسی بھی بھارتی کو دیا جانے والا یہ پہلا اعزاز تھا، جبکہ پاکستان کو سعودی عرب ایسے تین اعزاز دے چکا ہے۔

یہ بھی قیا س آرئیاں ہیں کہ اگر جنرل راحیل شریف کو مدت ملازمت میں توسیع نہیں ملتی تو سعوی عرب نے جو اتحادی ممالک کی ایک فوج بنانے کا جو منصوبہ بنایا ہے، وہ اس کے سربراہ کے طور پر چلے جائیں گے۔ اس ضمن میں جنرل راحیل شریف اور سعودی حکومت کے درمیان معاملات طے ہو گئے ہیں۔ اگر جنرل راحیل شریف یا کوئی بھی پاکستانی اس عہدہ پر چلا جاتا ہے تو یقیناًاس سے بھی پاک سعودی عرب تعلقات مضبوط اور طاقتور ہوں گے۔

اس وقت سعودی عرب اور پاکستان امریکہ کے حوالے سے ایک جیسی صورتِ حال کا شکار ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان نصف صدی کی بہترین شراکت داری رہی ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ اپنا مکمل وزن امریکہ کے پلڑے میں ہی ڈالا ہے۔بلا شبہ سعودی عرب نے اس ضمن میں کبھی دوغلی پالیسی نہیں رکھی، لیکن اب امریکہ سعوی عرب کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ امریکہ کے سعودی عرب کے حوالہ سے تیور بدل رہے ہیں،جو یقیناًسعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کے درمیان خطرے کی گھنٹیا ں بجا رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خطرے کی بے شمار گھنٹیاں دونوں طرف سنی جا رہی ہیں۔

مزید : کالم


loading...