صوبائی دارالحکومت، نامعلوم لاشوں میں اضافہ، 9ماہ میں 4 بچوں سمیت 300نعشیں برآمد

صوبائی دارالحکومت، نامعلوم لاشوں میں اضافہ، 9ماہ میں 4 بچوں سمیت 300نعشیں ...

لا ہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے ) صو با ئی دا ر لحکومت میں نامعلوم لاشوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،روا ں برس 4بچو ں سمیت 300افرا د کی نعشیں بر آ مد ہو ئیں ۔ پولیس چند ایک کے سوا کسی بھی لاش کے لواحقین کوڈھونڈنے اور ملزمان گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ 80فیصد مسخ شدہ لاشوں کو لاوارثوں کے قبرستان میں دفنا دیا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہر میں ملنے والی نا معلوم نعشوں میں بتدریج اضافہ ہو نے لگاہے ، لاہور پولیس کے تفتیشی افسران بھی ان نامعلوم نعشو ں کے لواحقین تک پہنچنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں اور تفتیش کے نا م پر ٹامک ٹوئیاں مارنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔ذرائع کے مطابق پولیس نعش کے مقد مہ کی تفتیش کرنے اور ملزم تک پہنچنے کے بجائے لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے،اخبار میں تشہیر اور اسے دفنانے کے بعد کیس کی فائل بند کر دیتی ہے او ر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے ۔ رواں برس با د ا می با غ ، مصر ی شاہ ، نواب ٹاؤن سے بچو ں کی لا شیں ملی تھیں جن میں سے 2کی شنا خت ہو گئی جبکہ 2کی شنا خت نہ ہوسکی ہے ۔ د ستاویزا ت کے مطا بق 20 افرا د ایسے بھی تھے جو کچھ عر صہ سے لا پتہ تھے اور ان کی نعشیں بر آ مد ہو نے کے بعد ان کی شنا خت ہو گئی ۔پولیس ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ لاپتہ اور مسخ شدہ لاشوں کو پولیس نشئی اور لاوارث سمجھ کر دفنا دیتی ہے جس وجہ سے لواحقین اپنے پیاروں کے آخری دیدار سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ پنجاب بھر کے دیہاتوں سے سینکڑوں لو گ روز گار کی غرض سے صوبائی دارالحکومت لاہور کا رخ کرتے ہیں اور ساتھیوں کے ہاتھوں کسی ناخوشگوار واقعہ پر قتل کر دئے جاتے ہیں۔ مقتولین کے قاتلوں کو تلاش کیا جاتا ہے نہ ہی لواحقین کوڈھونڈ کر انہیں اطلاع دینے کا کوئی طریقہ کار طے کیا جا سکا ہے۔ اس حوالے سے پو لیس حکام کا کہنا ہے کہ متعد د مقد ما ت میں ملزموں تک پہنچ چکے ہیں۔ لا شیں خرا ب ہو نے کی صورت میں اما نتاً د فن کردی جا تی ہیں ۔

مزید : علاقائی


loading...