روہنگیا کی مدد کو پہنچے دو پاکستانی فرشتے

روہنگیا کی مدد کو پہنچے دو پاکستانی فرشتے
 روہنگیا کی مدد کو پہنچے دو پاکستانی فرشتے

  

مَیں حیرت کی تصویر بنا انہیں دیکھ رہا تھا اور وہ اس سفر شوق کی تفصیل بتا رہے تھے جو انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کی حالتِ زار جاننے اور ان کے لئے کچھ کرنے کی آرزو کو عملی شکل دینے کے لئے ڈھاکہ سے کاکس بازار تک کیا تھا،یوں وہ پہلے پاکستانی ٹھہرے جو سڑھنے کڑھنے کی بجائے عملی طور پر کچھ کر پائے اور مزید کرنے کا راستہ کھول آئے ،نیو اور دُنیا پر وہ بہت ہی مختصر بتا سکے، مگر جس جس دل تک بات پہنچی وہ تحسین کے لئے جوہر ٹاؤن الخدمت کے ہیڈ آفس چلا آیا۔

میاں عبدالشکور کی کئی فضیلتیں ہیں مگر یہ خوبی سب پر بھاری ہے کہ وہ سوچتے ہیں ،پلان کرتے ہیں اور کر گزرتے ہیں۔گزشتہ جمعہ کو لاہور آئے، سوچا، اور اگلے روز شام کو وہ اس طویل سفر پر تھے۔بنگلہ دیش کا ویزہ کسی پاکستانی کو ملنا عملاً اتنا آسان نہیں ہے۔اختلافِ رائے دشمنی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔میاں صاحب نے سوچا ان کے کس کس دوست کے پاس غیرملکی پاسپورٹ ہے

۔ وقاص وحید کا نام ان کے ذہن کے پردہ سکرین پر چمکا۔ رابطہ کیا تو وہ اس وقت بھلوال میں تھے۔ ان کے پاس نارویجیئن پاسپورٹ ہے اور ایک عمر بیرون ملک گزارنے کے بعد چند برس قبل پاکستان لوٹ آئے ہیں۔لاہور میں ریڈی اینٹس کے نام سے سکولز کا سامان بنانے کا ادارہ چلا رہے ہیں۔ میاں عبدالشکور کی ایک بڑی خوبی جو ان کی کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے ، ان کی سوچ کا واضح اور مقاصد کا شفاف ہونا ہے۔وہ اپنی ٹیم بھی ایسی بناتے ہیں جو نوکری پیشہ نہیں ہوتے۔کام کو مشن سمجھ کر ان کے ہونے کی خوشی اور لذت سے ہم کنار ہوتے ہیں۔شاہد اقبال اس ٹیم کی سربراہی کرتے ہیں۔

میاں صاحب کو سیالکوٹ سے دبئی کی فلائٹ پر ایک سیٹ ملی اور وہاں سے ڈحاکہ۔ وقاص وحید بھاگم بھاگ لاہور پہنچے۔ اس دوران وہ بنگلہ دیشی قونصلیٹ سے ویزہ کی ناں سن چکے تھے۔ناروے کے قونصل خانے نے کہا ’’ آپ اس پاسپورٹ پر ڈھاکہ ایئر پورٹ پر آن آرائیول ویزہ لے سکتے ہیں۔امریکی اور یورپی پاسپورٹ رکھنے والوں کو یہ سہولت دی جاتی ہے، مگر ایئرپورٹ پر موجود امیگریشن آفیسر کی مرضی نہ ہو تو انکار بھی کر سکتا ہے‘‘۔وہ لاہور پہنچے تو دو گھنٹے بعد کی ٹکٹ ، الخدمت کی ٹیم ان کے گھر پہنچا چکی تھی۔انہیں لاہور ، دوحہ اور ڈھاکہ کی ٹکٹ ملی تھی۔

مظلوم اور دکھی برمی مسلمانوں کی خدمت انہیں دیکھنے ،ملنے اور مدد کا کوئی مستقل نظام بنانا مقصد اور آرزو واضح تھا ، باقی ہر چیز اندھیرے میں تھی۔ان دونوں کو دورانِ سفر ہی اپنے موبائل پر شاہد اقبال کی طرف سے ڈھاکہ سے منگوائے دعوت نامے ملے تھے۔ ٹیم کا یہی کمال ہوتا ہے۔ وہاں رہنے کا، گائیڈ کا،ڈھاکہ سے کاکس بازار کی فلائٹ اور وہاں رہائش کا سارا انتظام اس دوران الخدمت کے جوہر ٹاؤن آفس میں ہو رہا تھا۔ رات کے ڈیڑھ بجے تھے جب میاں عبدالشکور سے رابطہ منقطع ہوا۔ لوگوں کی قطار میں ان کی باری آنے میں 3گھنٹے لگ گئے۔

لاہور میں بے چینی کے بادل گہرے ہو چکے تھے۔ ڈھاکہ ائیر پورٹ پر استقبال کے لئے آنے والے مایوس ہو کر جا چکے تھے۔وقاص صاحب دو گھنٹے قبل اسی ایئر پورٹ پر آزمائش سے گزر چکے تھے۔ان کے پاس نارویجیئن کرنسی کافی مقدار میں مل گئی تو ویزہ کی سٹمپ بھی لگ گئی۔ انہیں ریڈی اینٹس کے لئے بزنس امکانات دیکھنے کے لئے آنے کی اجازت ملی۔ برما کے مظلوم ، بے کس اور بے نوا مہاجروں کی امداد کے لئے کسی کو آنے کی اجازت ملنے کا امکان ہی نہ تھا۔حسینہ واجد ایک روز قبل سخت بیان دے چکی تھی کہ یہ لوگ واپس جائیں۔

رات تین بجے میاں صاحب کی خلاصی ہوئی۔ سب کے سانس میں سانس آیا ۔امیگریشن کی قطار میں ان کے آگے چینی مہمان تھے۔نہ وہ بنگلہ جانتے تھے نہ انگریزی۔ بنگلہ دیشی عملہ ان کی زبان میں کورا تھا۔ ایسے میں تو سلام دعا میں بھی گھنٹوں لگ جاتے ،انہیں تو ویزہ چاہیے تھا۔ اس دوران شاہد اقبال دبئی ، سعودی عرب اپنے دوستوں اور ان کے والدین سے رابطہ کر چکے تھے۔ سوتے سے اُٹھا چکے تھے۔ ایئر پورٹ پر کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے بچنے کی وہ پوری تیاری میں تھے جیسے ملک میں قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لئے پنڈی اور ملتان میں ایمرجنسی رسپانس سنٹر بنانے کا وہ کامیاب تجربہ کر چکے ہیں۔

رات ڈھاکہ کے ایک ہوٹل میں گزاری۔ ہوٹل جاتے ہوئے سائیکل رکشے کی غیر انسانی سواری نے انہیں بہت تکلیف دی۔ اگلے روز جماعت کے قائدین سے ملاقات ہوئی جو اپنی مشکلات کے باوجود برمی مسلمانوں کی مدد کے لئے میدان میں ہے ،وہاں سے واپسی پر بھی ان رکشوں کی کثرت دیکھ کر اور بھی دل پر بوجھ پڑا۔پاکستان میں میاں نوازشریف نے اپنے گزشتہ دورِ حکومت میں اس تکلیف دہ اور توہین آمیزسواری اور اس سے پھیلتی ٹی بی کی بیماری کی بہت عمدگی سے روک تھام کر ڈالی تھی۔بہاولپور میں سب کو موٹر رکشے دے کر ہزاروں سائیکل رکشوں کو کسی قبرستان کی نذر کر دیا گیا۔ دوبارہ کبھی کسی گاؤں میں بھی دیکھنے کو نہیں ملے۔

برما کی سرحد ڈھاکہ سے 783 کلو میٹر دور ہے اور کاکس بازار سے 33کلو میٹر ۔ اگلے روز دونوں کاکس بازار پہنچے اور وہاں سے بارڈر پر جہاں جگہ جگہ ظلم کا شکار ہونے والے،ہڈیوں کے ڈھانچے،صرف لنگیوں اور بنیانوں میں ملبوس،کندھوں پر ڈنڈوں کے دونوں طرف ڈولیوں میں بوڑھے ماں باپ کو اٹھائے سینکڑوں روہنگین مسلمان آ رہے تھے۔ اسی دوران بارش شروع ہو گئی۔ پورے پورے خاندان کے پاس ایک ایک چھتری تھی،جس کے نیچے وہ جگہ جگہ دائرے بنا کر بیٹھ رہے تھے۔بنگلہ فوج کے چوکس دستے انہیں آگے بڑھنے سے روک رہے تھے اور سڑک کنارے یا کھیتوں میں رہنے پر مجبور کر رہے تھے۔وہ بھی اِس لئے کہ ترکی کے صدر طیب اردوان کا بیان آ چکا تھا کہ بنگلہ دیش ان مظلوموں کی داد رسی کرے،سارے اخراجات ترکی اٹھائے گا،جس کے بعد حسینہ واجد نے انہیں رہنے کی اجازت دی۔دو دن میں مہاجرین کی تعداد ڈیڑھ سے چار لاکھ ہو گئی۔

نوجوان بنگالی گائیڈ نے جماعت اسلامی کے مقامی خدمت کے ادارے کی مدد سے بازار سے دس ہزار ڈالر مالیت کے ڈرائی فروٹ،دالیں،گھی،چینی،چائے،آٹا کے پیکٹ بنوا دیئے تھے۔ایک دو جگہ موقع دیکھ کر خالی کیمپوں میں جا کر دونوں نے سامان بانٹنا شروع کیا۔ اکثر کیمپس میں صرف بچے تھے، والدین خالی ہاتھ اور پیٹ ،کھانے اور راشن کی تلاش میں جانے کہاں کہاں مارے مارے پھر رہے تھے۔

اللہ نے ان کی مدد کو پاکستان سے دو فرشتے بھیج دیئے تھے۔روزانہ بیس ہزار سے زائد مہاجرین اپنی جانیں بچا کر آرہے ہیں،آنے والوں کے دُکھ اور حالت دیکھی نہیں جاتی،انہیں دیکھ کر کوئی حساس دل رات کو ٹھیک سے سو بھی نہیں سکتا ۔شکور صاحب کا واپسی پر بھی یہی عالم ہے، جس لمحے میں ان سے بات کررہا تھا ان کی ٹیم بنگلہ دیش سے ٹنڈر لے کر رپورٹ کر رہی تھی ،الحدمت نے اپنے کام کے لئے جو ایریا چنے ہیں انہی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ 1۔کھانا، 2۔شیلٹر 3۔سینی ٹیشن ہر چار کیمپس کے درمیاں ایک کموڈ والی گم لیٹرین 8 فٹ کا گڑھا اور اس پر سیپٹک ٹینک 4۔سمندر کا پانی کھارا ہے پیا نہیں جا سکتا میٹھے ہانی کے نلکے اور ٹیوب ویل کے لئے 500 فٹ کی کھدائی کوٹیشنز آئے ہیں تین ماہ کے پراجیکٹ پر 15 کروڑ کا خرچ اُٹھے گا ۔

انہیں یقین ہے کہ اللہ کے بندے چند دنوں میں یہ کرڈالیں گے، کیونکہ رب یہی چاہ رہا ہے۔ کوٹیشنز آگئی تھیں اور میرے سامنے ابتدائی دو کروڑ کے فنڈ بھی ریلیز ہوچکے ۔پورے کام کی مانیٹرنگ کے لئے مختلف ممالک میں کام کرنے والے چھ لوگ بھی منتخب کیا جا چکے جو دو دو کی تعداد میں وہاں جا کر رہیں گے اور امدادی کام کی تکمیل کی احسن انداز میں تکمیل کو ہوتے دیکھیں گے۔

ترکی کی الخدمت یعنی آئی ایچ ایچ کا آفس بھی وہاں کھل چکا ہے اور الخدمت مقامی لوگوں [اسلامک ایڈ] کے علاوہ ان کے ساتھ بھی کام کررہی ہے ،سب سے شاندار بات یہ کہ کراچی کے اہل خیر نے پانچ کروڑ جمع کر ڈالے ہیں،میری موجودگی میں مون مارکیٹ سے تین نوجوان آئے اور اپنا حصہ ڈال کر چلے ہیں ،اس بیدار قوم کی یہ خوبی تو ہمیشہ نمایاں رہی ہے ۔واپسی کے لئے اٹھا تو میرے ہونٹوں سے نکلا شکر ہے جماعت نے باقی قوم کی طرح ظالموں کے خلاف نعروں کی بجائے کوئی کام بروقت، عمدگی اور شاندار منصوبہ بندی سے بھی کر ڈالا ،۔

مزید :

کالم -