’ان غیر ملکی ورکروں کا خرچہ ہم اُٹھائیں گے جو۔۔۔‘ سعودی حکومت نے سب سے شاندار اعلان کردیا

’ان غیر ملکی ورکروں کا خرچہ ہم اُٹھائیں گے جو۔۔۔‘ سعودی حکومت نے سب سے ...
’ان غیر ملکی ورکروں کا خرچہ ہم اُٹھائیں گے جو۔۔۔‘ سعودی حکومت نے سب سے شاندار اعلان کردیا

  

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران زخمی یا معذور ہو جانے والے ملازمین کو دوہری ابتلاءسے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک جانب روزگار خطرے میں پڑ جاتا ہے تو دوسری جانب علاج کے بھاری اخراجات کا سامنا ہوتا ہے۔ سعودی عرب میںکام کرنے والے غیر ملکیوں کو ایک عرصے سے اسی نوع کے مسائل کا سامنا رہا ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ جنرل آرگنائزیشن فار سوشل انشورنس (جی او ایس آئی) کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کام کے دوران زخمی ہونے والے ملازمین کے اخراجات اس ادارے کے ذمہ ہوں گے۔

سعودی گزٹ کی ایک رپورٹ میں مقامی اخبار المدینہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زخمی ملازمین کی ضرورت کے پیش نظر انہیں انشورنس کی رقم میں سے تقریباً نصف ادا کی جاسکتی ہے، جس کی بالائی حد 3500 ریال (تقریباً 98 ہزار پاکستانی روپے) ماہانہ ہوگی۔ اگر کوئی متاثرہ ملازم ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر اعتراض کرتا ہے تو جب تک اس کے اعتراض کی نظر ثانی کا عمل جاری رہے گا تب تک اسے اپنے اخراجات خود ادا کرنا ہوں گے۔ اعتراض قبول ہونے کی صورت میں جی او ایس آئی اس کے اخراجات کی تلافی کرے گا۔

دبئی میں ڈرائیونگ کے دوران آدمی کا سڑک پر ایک اور شہری کو انگلی سے فحش اشارہ، اس کے بعد پولیس نے کیا کیا؟ جان کر پورے ملک میں کوئی آدمی غلطی سے بھی ایسا کام نہ کرے

اگر کوئی ملازم مستقل طور پر معذور ہوجاتا ہے تو اس کی وطن واپسی کے اخراجات بھی جی او ایس آئی کے ذمہ ہوں گے اور متاثرہ شخص کے اپنے وطن کیلئے روانہ ہونے سے قبل تلافی کی تمام رقم ادا کردی جائے گی۔ کام کیلئے جاتے ہوئے یا واپسی پر حادثے کا شکار ہونے والے ملازمین کو بھی پیشہ ورنہ امور کے دوران زخمی ہونے والے ملازم تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح کھانے کیلئے یا نماز کی ادائیگی کیلئے آتے جاتے زخمی ہونے والے ملازمین کو بھی پیشہ ورانہ امور کے دوران زخمی ہونے والے ملازمین کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ کام کے دوران موت کا شکار ہونے والے ملازمین کی میت کی وطن واپسی کے اخراجات بھی انشورنس ادارے کے ذمہ ہوں گے۔

مزید :

عرب دنیا -