’زلفی بخاری کو نااہل کردیا جائے گا اگر۔۔۔‘وہ انکشاف جسے جان کر وزیراعظم عمران خان بھی شدید پریشان ہوجائیں گے

’زلفی بخاری کو نااہل کردیا جائے گا اگر۔۔۔‘وہ انکشاف جسے جان کر وزیراعظم ...
’زلفی بخاری کو نااہل کردیا جائے گا اگر۔۔۔‘وہ انکشاف جسے جان کر وزیراعظم عمران خان بھی شدید پریشان ہوجائیں گے

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے اپنے عزیز دوست سید ذوالفقار عباس بخاری المعروف زلفی بخاری کو اپنا معاون خصوصی تو مقرر کر دیا ہے لیکن شاید اس بات کی جانب اُن کی توجہ نہیں گئی کہ سپریم کورٹ میں محض ایک پٹیشن کے دائر ہونے کی دیر ہے اور اُن کے معاون خصوصی نا اہل ہو سکتے ہیں۔

ٹربیون بلاگ کے مطابق زلفی بخاری کی دوہری شہریت اور کاروباری مفادات انہیں پاکستانی حکومت کے اہم سرکاری عہدے کے لئے غیر موزوں بناتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ نظیر پہلے ہی موجود ہے کہ 2013 میں کیپٹن (ر) شجاعت عظیم اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے ایوی ایشن تھے، مگر سپریم کورٹ نے اُن کی دوہری شہریت پر سوالات اٹھا دئیے جس کے نتیجے میں انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اگر سپریم کورٹ میں کوئی زلفی بخاری کی دوہری شہریت کے بارے میں پٹیشن دائر کرتا ہے تو وہ تکنیکی طور پر اسی شق کے تحت نااہل ہو جائیں گے، کیونکہ اس کی نظیر پہلے ہی قائم ہو چکی ہے۔

قانونی معاملات اپنی جگہ مگر یہ تعیناتی ایک سیاسی ایشو بھی بن چکی ہے جس پر خاصی تنقید ہو رہی ہے۔ اب یہ سوال ہر کسی کی زبان پر ہے کہ زلفی بخاری، جن کے عہدے کی مراعات وزیر مملکت کے برابر ہیں، نے ایسا کون سا کارنامہ سر انجام دیا تھا جس کے بدلے انہیں یہ اہم عہدہ دیا گیا؟

ٹربیون بلاگ کے مطابق زلفی بخاری نے تحریک انصاف کے لئے ایک اہم ’کارنامہ‘ اس وقت سرانجام دیا تھا جب یہ جماعت سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عدالت میں ثبوت پیش کرنے کے لئے زمین آسمان ایک کئے ہوئے تھی مگر ثبوت نہیں مل رہے تھے۔ اس وقت شریف فیملی کے کاروباری معاملات کی تحقیقات کے لئے فورینزک کمپنیوں تک رسائی کے لئے زلفی بخاری نے اپنی خدمات پیش کیں، اور یہی وہ وجہ تھی جس کی بناءپر وہ عمران خان کے بہت قریب آ گئے۔ اس ’کارنامے‘ کے نتیجے میں وہ تیزی کے ساتھ عمران خان کے دل کے قریب ہوگئے اور اب بالآخر کسی سیاسی جدوجہد و تجربے کے بغیر ہی وزیراعظم کے معاون خصوصی جیسے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہو گئے ہیں۔

زلفی بخاری دہری شہریت رکھتے ہیں اور انتہائی مالدار بزنس مین بھی ہیں۔ وہ لندن کے پوش علاقے میں کئی جائیدادوں کے مالک ہیں جبکہ ان کی چھ آف شور کمپنیاں بھی ہیں، اور انہی کمپنیوں کے سلسلے میں نیب ان سے تحقیقات بھی کررہی ہے۔ زلفی بخاری ناصرف دہری شہریت کی حامل ہیں بلکہ نیب ان کی تحقیقات کررہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو ان کی تعیناتی پرتنقید کا سامنا ہے۔ اور عمران خان تو خود ہمیشہ یہی تنقید کرتے رہے ہیں کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے اپنے رشتہ داروں، عزیزوں اور دوستوں کو اہم عہدوں پر فائز کرکے اس ملک کا نظام حکومت برباد کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی سابق سینئر عہدیدار فوزیہ قصوری نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”مارچ 2013ءمیں مجھے تحریک انصاف اور عمران خان نے کہا کہ پارٹی کا ایک الیکشن لڑنے کے لئے میں اپنی امریکی شہریت سے دستبردار ہوجاﺅں۔ میں نے ایسا ہی کیا کیونکہ عمران خان جو کہتے تھے میں اس کی عزت کرتی تھی اور میں نے پاکستان تحریک انصاف کی محبت میں ایسا کیا۔ اب دہری شہریت والے سرکاری عہدوں پر فائز ہورہے ہیں؟ انصاف؟“

مزید : قومی /ڈیلی بائیٹس