عبدالقادر ایک جادو گر اور پاکستان

عبدالقادر ایک جادو گر اور پاکستان
عبدالقادر ایک جادو گر اور پاکستان

  

گزرتے وقت کے ساتھ آج ایک ستارہ اور ٹوٹ کر زمین میں مل گیا۔ایک امام مسجد کابیٹا جس کو شوق کرکٹ کی طرف لے گیا اور اس کی انگلیوں کے جادو نے کمال دکھانا شروع کر دیا۔سلیکٹرز کی نظر اس ہیرے پر پڑی اور اس کو پاکستان ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔عمران خان کی نزدیکی اس کے لئے ایک نعمت ثابت ہوئی اور اس کو ٹیم کا مستقل حصہ بنا لیا گیا۔اس دور میں جب فاسٹ باؤلنگ عروج پر تھی۔سرفراز نواز،عمران خان پھر وسیم اکرم وغیرہ کا ڈنکا بج رہا تھا اور وہ وکٹیں گرانے کا مرکز ہوتے تھے سپنر کو خاصی دیر بعد لایا جاتا تھا۔لیکن عمران خان نے کرکٹ میں عبدالقادر کی صلاحیتوں اور اس کی انگلیوں کے طلسم کو دیکھتے ہوئے چند ہی اوورز کے بعداس سے نئے گیند سے بالنگ شروع کروا دی اور سپن کے اس بادشاہ نے ٹیم کو کبھی مایوس نہ کیا اور وکٹیں لینی جاری رکھیں۔مخالف ٹیم ابھی پاکستانی فاسٹ باؤلرز کے پریشر سے نہ نکلتی تھی کہ عبدالقادر کی گھومتی طلسمی گیند ان کے لئے نئی مصیبت کھڑی کر دیتی تھی۔دنیا کے ٹاپ بیٹسمین اس حملہ کی ٹیکنیک کو سمجھتے سمجھتے اس جال میں پھنس کر اپنی وکٹ گنوا بیٹھتے۔عبدالقادر کی سپن باؤلنگ کو ساری دنیا میں اہم مقام حاصل تھا۔مخالف ٹیمیں اپنے کھلاڑیوں کو اس کی گیندوں کی سمت (ڈائریکشن) اور ان کے گھومنے پر خصوصی کو چنگ کرتیں اور ان گیندوں کے کھیلنے اورنبرد آزما ہونے کے طریقے بتاتے۔لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود وہ شخصیت میچ میں سے وکٹیں لیتی اوریہ سفر ایک لمبا عرصہ جاری رہا۔

عبدالقادر ایسا باؤلر تھا جس کو نہ وکٹ کی پرواہ ہوتی تھی کہ کیسی ہے؟ اورنہ یہ کہ وہ کس کو باؤلنگ کروا رہے ہیں؟ ان کا مقصد گیند گھمانا اور کھلاڑی کو آؤٹ کرنا تھا۔ان کی فیلڈنگ بھی جارحانہ ہوتی تھی بعض دفعہ کپتان بھی اچھے بیٹسمین کا نام سن کر اظہار کرتا کہ پتہ ہے کہ کون ہے؟اور کس پائے کا ہے؟ تو وہ کہتے مجھے کیا؟ میں نے باؤلنگ کرنی ہے اور آؤٹ کرنا ہے یہی ایک جذبہ تھا جو ان کی بال کی لینتھ اور اس کا گھومنا برقرار رکھتا۔دنیا کے مختلف کھلاڑیوں نے عبدالقادر سے اپنی گیندوں کو بہتر کرنے کے لئے رہنمائی لی اور انہوں نے انتہائی فراخدلی سے اپنے تجربے سے ان کے اس فن کو نکھارنے میں کسی لالچ یا حسد کے بغیر مدد دی۔اس میں سب سے نمایاں شخصیت آسٹریلیا کے شین وارن تھے ان کے سٹائل کو بہتر بنوا کر انہوں نے اسے دنیا کا خطر ناک ترین سپن باؤلر بننے میں مدد دی جو اپنے وقت کا لیڈر رہا ہے۔

گزرتے وقت کے ساتھ ٹیلنٹ ہی کچھ نہ رہ گیا کیونکہ ایک طرف نہ تو میرٹ پر کام ہوتا تھا تو نہ ٹریننگ کا کوئی پروگرام تھا تو دوسری طرف دنیا میں جبکہ کھیلوں کو پروفیشنل طریقوں سے چلایا گیا۔ہمارے ملک میں سکول جو ایک صحت مند سرگرمیوں کی بنیاد تھے اور کھلاڑی مہیا کرتے تھے ان سے گراؤنڈ چھین لئے گئے اور جہاں چند گراؤنڈ ز رہ گئے ہیں وہ سکھانے والے نہیں رہے۔

اب سکول دس مرلہ اور ایک کنال کی بلڈنگ میں پائے جاتے ہیں صحت مند سرگرمیوں کی کوئی جگہ نہیں رہ گئی تو صحت مند طالب علم کہاں سے نکلیں گے؟ ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت اپنے وقت کے ہیروز کو اس طرف مائل کرے کہ اس فن کو دوسروں میں منتقل کریں لیکن افسوس یہاں احباب اقتدار کو اپنی تنخواہوں،الاؤنسوں اور عہدوں کے حصول کے جوڑ توڑ کے سوا وقت ہی نہیں ملا۔دوسری طرف اپنے اپنے شعبے میں عروج تک پہنچنے والوں نے بھی کوئی اکیڈمیاں نہ بنائیں کہ وہ یہ فن آنے والی نسلوں کو دے کر ملک کے لئے سرمایہ بناتے۔ عبدالقادر نے دوسروں کی طرح اپنا آبائی علاقہ نہ چھوڑا اور ساتھ ہی ساتھ اس علاقے کے بچوں کے لئے کرکٹ کی ایک اکیڈمی بنائی۔اس عمل سے ضرور ٹیلنٹ باہر نکلتا ہو گا اگر ایسی ہی پچاس اکیڈمیاں پاکستان میں کرکٹ کی ہوں تو ملک میں ہر شعبہ میں کھلاڑی وافر ہوں گے۔میرے علم کے مطابق علیم ڈارنے لاہور میں ایک کرکٹ اکیڈمی قائم کی ہے جس میں بچوں کی تربیت کا کام ہو رہا ہے۔کراچی میں معین خان اور راشد لطیف بھی اس پر کام کر رہے ہیں لیکن ضرورت ہے کہ ٹینس بال کی بجائے ہارڈ بال سے کھلایا جائے اور اکیڈمی میں جسمانی صحت اور ایکسرسائز کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔یہ کام چھوٹی عمر کے بچوں سے شروع کیا جائے تاکہ گیارہ بارہ سال تک کا بچہ کھیل کے اسرارو رموز سمجھ سکے۔

اس سلسلہ میں ہاکی میں ایک شخصیت کا نام لینا بہت اہم ہے وہ توقیر ڈار کا نام ہے جو تنویر ڈار ہاکی اکیڈمی کے نام سے اپنے والدمنیرڈارکی قائم کردہ اکیڈمی چلا رہا ہے کیونکہ میں بھی اس اکیڈمی کے ساتھ وابستہ ہوں اس لئے مجھے پتہ ہے۔اس میں دوسرے شہروں کے غریب گھروں کے بچوں کو لاہور لاکر نہ صرف ان کو ہاکی کی تربیت دی جاتی ہے بلکہ ان کی پڑھائی اور رہائش بھی اکیڈمی کے ذمہ ہے۔یہ ایک چھوٹی سی اکیڈمی سے عالمی سطح کی اکیڈمی بن گئی ھے جس میں توقیر ڈار کے ساتھ ایک جنونی عرفان ضیا ء ہے جس نے اس اکیڈمی کے لئے کاروبار کو پس پشت ڈال دیا ہے بچوں کا کھانا اکثرگھر سے پکوا کر لے جاتا ہے۔ٹریننگ کے دوران گراؤنڈ میں موجود رہتا ہے اور بچوں کی رہائش پر بھی نگرانی کرتا ہے حال ہی میں چھوٹے بچوں کی بھی ٹریننگ شروع کی ہے۔

توقیر صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ اس نے باہر سے ہاکی کے ممتاز کھلاڑیوں کو کوچنگ کے لئے بلایا اور اسی طرح ان پسماندہ علاقوں کے کھلاڑیوں کو جن کو شاید کراچی بھی نہ دیکھنا نصیب ہوتا۔ ہالینڈ، بیلجیم اور جرمنی کے کلبوں میں ہر سال ہاکی کے مقابلوں میں شامل کروایا۔یہ ایک بے غرض ادارہ ہے جو ہاکی کی سربلندی کے لئے کام کر رہا ہے۔اگر وہ بڑے نام جو کوچ اور کپتان رہے ہیں مل کر اپنے اپنے علاقوں میں اکیڈمیز بنائیں تو پاکستان پھر ہاکی میں بلند مقام حاصل کر سکتا ہے۔یہی کام آج اس دور میں سکواش میں جہانگیر خاں،جان شیر خان اور محب اللہ وغیرہ کے کرنے کا ہے۔خیبر پختونخوا میں بہت ٹیلنٹ ہے۔صرف ان لوگوں کا کام ہے کہ ٹرائلز کریں اور پھر چھوٹے بچوں کے والدین کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ ہیروں کو تراشنے میں مدد دیں۔

اگر ارباب اختیار اس طرف توجہ نہیں دے رہے تو کیا ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے شعبہ میں اعلیٰ نام کمایا،کی ذمہ داری نہیں کہ نئے بچوں کو سکھلاکر اپنا نام ہمیشہ کے لئے امر کر دیں۔اس وقت اس ملک کا وزیر اعظم ایک فائٹینگ کیپٹن کے نام سے پہچانا جاتا رہا ہے کیا وہ بھی اس طرف توجہ نہیں دے گا؟ یہ اس قوم کے تمام کرتا دھرتا کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -