کچھ حالِ دِل، کچھ احوالِ وطن!

کچھ حالِ دِل، کچھ احوالِ وطن!
کچھ حالِ دِل، کچھ احوالِ وطن!

  

ہمارا خیال تھا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے حوالے سے لکھیں گے، لیکن کل جماعتی کانفرنس کے بعد حالات نے یکایک جو رُخ اختیار کیا، وہ ایسا ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ سب سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی اس تقریر کے بعد ہوا جو انہوں نے اے پی سی میں ویڈیو کے ذریعے کی، ہمیں ان کی اس تقریر کے بعض حصوں کے حوالے سے خود بھی تحفظات ہیں، اور ہم ماضی کے کئی پرت کھول سکتے ہیں،لیکن یہاں ”دوستوں“ کی ”مہربانیوں“ سے جو صورتِ حال بنی، وہ پنڈورا باکس کھولنے والی ہے اور ایسا شروع ہو گیا ہے، کل جماعتی کانفرنس تک ”ستے خیراں سن“ لیکن اس تقریر کے بعد فرزند ِ راولپنڈی سے نہیں رہا گیا اور انہوں نے ایسے انکشاف شروع کر دیئے، جو ہمارے خیال میں قطعاً راز نہیں، البتہ ایک شریفانہ معاہدہ کے تحت اس کا اظہار روک لیا گیا تھا،لیکن اس کا کیا کِیا جائے کہ اپوزیشن کی سیاست پر الزام دھرنے والوں کی اپنی سیاست کا دارو مدار بھی ایسے ہی ہو تو پھر قوم کیا کرے۔

ہمارے یقین کے مطابق ملک کی افواج، پاکستان کی ہیں، اور ان پر کسی کی اجارہ داری یا فائق حق نہیں ہے، اور نہ عسکری قیادت سے ملاقات کوئی شجر ممنوعہ ہے، کہ سیاسی قیادت اور عسکری کے درمیان ہم آہنگی، تبادلہ خیال ملکی ضروریات اور حالات کے مطابق درست ہے، اس میں کسی کو شرمندہ ہونے کی ضرورت ہی نہیں،لیکن جب محمد نواز شریف کی تقریر کے پس منظر میں ملاقات ہی نہیں، ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے بعض حصے بھی مشتہر کر دیئے گئے تو پھر عسکری قیادت کے لئے بھی لازم ہو گیا کہ وضاحت کی جائے اور یہ کی گئی کہ آئی ایس آئی کے دفتر میں چیف آف آرمی سٹاف سے پارلیمانی لیڈروں کی ملاقات ہوئی،اس میں واضح کر دیا گیا کہ فوج کا سیاست میں کوئی دخل نہیں اور فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، سیاسی رہنما اور جماعتیں پارلیمان میں اپنا حساب برابر کریں۔ فوج ایک آئینی ادارہ ہے، جو منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔اگر دوسرے حضرات منتخب ہو کر آتے ہیں تو ان سے بھی تعاون کیا جائے گا۔ یہ وضاحت درست بھی ہے، کہ فوج کے اپنے حلف میں یہ درج ہے کہ ا س کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہو گا،لیکن بدقسمتی سے عسکری قیادت کی اس واضح وضاحت کے باوجود سلسلہ جاری و ساری ہے اور محترم فرزند ِ راولپنڈی کا سارا زور اِس امر پر ہے کہ حزبِ اختلاف کے تمام سربراہ فوج سے رابطے میں رہتے اور انکار کرتے ہیں،اور پھر انہوں نے وہ سیاسی گفتگو جو بقول ان کے جنرل قمر جاوید باجوہ اور اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کے درمیان ہوئی، ڈائیلاگ کی شکل میں بیان کر دی، شاید اِس لئے کہ محمد نواز شریف کی تقریر کے پس منظر میں یہ ان کے اور عمران خان کی حکومت کے لئے مفید اور اپوزیشن کے لئے نقصان دہ ہے،حالانکہ وہ جو طعنہ سازی حزبِ اختلاف کے حوالے سے گھڑتے ہیں، وہ خود ان کے بھی خلاف ہے، اور سنجیدہ فکر لوگ یہی کہتے ہیں کہ بقول  فرزند ِ راولپنڈی  اور وزیراعظم کی ترجمان فوج کے ان کا انحصار ہی فوج پر ہے، اور یہ خود فوج کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں۔عسکری قیادت نے آئینی حیثیت واضح کی اور دو ٹوک الفاظ میں اپنے موقف پر اصرار کیا کہ فوج کا کوئی تعلق ان الزامات سے نہیں اور وہ منتخب حکومت سے تعاون کرتی ہے اور جب بھی  سول انتظامیہ کو ضرورت ہو، فوج تعاون کرتی اور کرتی  رہے گی،لیکن یہ جو ایک صفحہ والے حضرات ہیں،انہوں نے خود یہ موقع فراہم کیا کہ اپوزیشن والوں کو دفاعی لائن پر جا کر وضاحتیں دینا پڑیں اور سوشل میڈیا کے علاوہ محافل میں یہ امر موضوع سخن بن گیا کہ حالاتِ حاضرہ میں ایسا ہونا نہیں چاہئے کہ فوج کئی محاذوں پر دشمن سے نبرد آزما ہے اور ابھی گذشتہ روز ہی لائن آف کنٹرول پر مزید دو جوان وطن پر قربان ہوئے اور شہید ہو گئے اس سے قبل ایک جوان کی شہادت افغان سرحد کی طرف سے ہونے والی مداخلت کے نتیجے میں ہو چکی تھی۔یوں دہشت گردوں سے مقابلہ جاری تو ازلی دشمن کی کارروائیوں کا جواب اور حساب بھی ضروری ہے۔ان حالات میں ملک کے اندر سیاسی استحکام کی ضرورت، جو بوجوہ نہیں ہو پا رہا کہ اپوزیشن کی اپنی شکایات اور وزیراعظم کا اپنا مزاج ہے، اگر عسکری قیادت اور حزبِ اختلاف کی سیاسی قیادت کے درمیان ملکی امور پر تبادلہ خیال ممنوع نہیں تو حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان کیوں یہ ممکن نہیں، پارلیمانی سطح پر قومی امور کے حوالے  سے اس تناؤ کے باوجود تعاون ہوا اور اپوزیشن پر ”مک مُکا“ کا الزام لگا، خود ان کی اپنی صفوں میں شکوک پیدا ہوئے،اس کے باوجود بھی تعاون سے ہاتھ کھینچا گیا اور باہمی گفت و شنید اور مفاہمت کی بجائے ”طاقت“ کے بل بوتے پر قوانین منظور کرائے گئے تو پھرمنہ کیسے بند کئے جا سکتے ہیں۔ یوں بھی فوج کے حوالے سے جس قدر حزبِ اقتدار والے بولتے ہیں۔ اپوزیشن والوں کی  تو بولتی بند ہے،لیکن اب یہ موقع دیا گیا کہ ہر کوئی وضاحت کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کرے،اس حوالے سے ہمارے خیال میں میڈیا کا کردار اب بھی مثبت ہے کہ اختلافی اور اعتراض والی گفتگو سے گریز کیا جا رہا ہے،اور تبصرے، تجزیے بھی نہیں ہو رہے،ہم نے خود اب تک بہت احتیاط کی اور  یہ سطور مجبوراً لکھی ہیں کہ آپ ایک دوسرے کو بھارتی ایجنٹ کہتے رہیں اور بھارت اپنا کام کرتا جائے۔ ایک پیج پر تو سیاسی قیادت کو ہونا چاہئے اور قومی امور طے کرنا چاہئیں۔عسکری قیادت نے جو بھی واضح کیا وہ اپنی جگہ رہنے دیں، متنازعہ نہ بنائیں۔

ہمارے سیاسی قائدین،منتخب اراکین، سیاسی اور دینی رہنماؤں سے بلا تخصیص گذارش ہے کہ وہ اور کچھ نہیں تو فرقہ وارانہ سازش کا ہی خیال کر لیں، صورتِ حال ایسی ہے کہ خود شیخ رشید بھی بول پڑے ہیں، وہ درست کہتے ہیں کہ بھارت پس ِ پردہ ہے، لیکن غور فرمائیں، کر کون رہا ہے؟ یہ تو ہم پاکستانی ہی ہیں۔ یہ بہت خطرناک صورتِ حال ہے،اور اسے صرف اور صرف بلا امتیاز اور غیر جانبدارانہ کارروائی سے یہ روکا جا سکتا ہے کہ زیر زمین بہت کچھ ہو رہا ہے، سیاست میں عمل دخل والوں کو اپنا مسلک ایک طرف رکھنا ہو گا اور خود کو فرقہ واریت کے حوالے سے مکمل سیکولر غیر فرقہ وارانہ بنانا ہو گا، اللہ ہماری مدد کرے۔

مزید :

رائے -کالم -